Allah, the Exalted, says: "O you who have believed, when you rise to pray, wash your faces and your hands to the elbows, and wipe over your heads and your feet to the ankles." (Al-Ma'idah: 6)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 156 (unverified) 70% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ، نے کہا کہ میں موزوں پر مسح کرنے کا قائل اس وقت تک نہیں
ہوا یہاں تک کہ میرے پاس اس مسئلہ میں تشفی بخش وضاحت روز روشن کی طرح حاصل نہ ہوگئی اور اس
شخص کے کافر ہو جانے کا اندیشہ کرتا ہوں جو موزوں پر مسح کے جائز ہونے کا عقیدہ نہ رکھتا ہو۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Ibn Khuzaymah 192 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: موزوں پر مسح کرنے کی شرط طہارت پر موزوں کا پہن لینا ہے، واضح رہے کہ طہارت دو قسم
کی ہوتی ہے: ایک طہارت کامل جو پورے وضوء سے حاصل ہوتی ہے۔ اور دوسری غیر کامل جو صرف
پیروں کے دھولینے سے حاصل ہوجاتی ہے۔ اور ان دونوں طہارتوں میں سے کسی ایک طہارت کے بعد
موزوں کو پہن لیا گیا ہے تو موزوں پر مسح کیا جاسکتا ہے۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس میں
طہارت کا ذکر ہے مطلقاً ہے جو مذکورہ ہر دو قسم کی طہارتوں کو شامل ہے البتہ خفین کے پہننے کے بعد جو پہلا
حدث ہوگا اس حدث کے وقت طہارت کامل ضروری ہے، مثلاً کسی شخص نے پیر دھو کر موزے پہن لئے
اور ابھی اس نے وضوء پورا نہیں کیا تھا کہ اس کو حدث ہوگیا تو ایسا شخص موزوں پر مسح نہیں کرسکتا۔ خلاصہ
یہ ہے کہ طہارت کامل یعنی پورا وضوء موزوں کے پہننے کے وقت ضروری نہیں ہے، البتہ حدث کے وقت
طہارت کامل یعنی پورا وضو لازمی ہے تاکہ موزوں پر مسح صحیح ہو سکے۔(عمدة الرعاية)12۔
ف: موزوں پر مسح کرنے کی مدت مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے اور مسافر کے لئے
تین دن اور تین راتیں ہیں، اس مدت کی ابتداء موزوں کے پہننے کے وقت سے نہیں ہوگی بلکہ موزوں کے
پہننے کے بعد جو پہلا حدث ہوا ہے اس وقت سے ہوگی، مثلاً ایک شخص نے صبح صادق کے وقت وضوء
کر کے موزے پہن لئے اور سورج نکلنے کے بعد اس کو حدث لاحق ہوا اور وضوء ٹوٹ گیا اور اس نے زوال
کے بعد وضوء کر کے پیروں پر مسح کیا تو مسح کی مدت سورج نکلنے کے وقت سے شروع ہوگی صبح صادق سے
نہیں ہوگی، کیونکہ اس کو پہلا حدث سورج نکلنے کے بعد لاحق ہوا ہے اور اس مثال کے لحاظ سے اگر وہ
مقیم ہے تو دوسرے دن سورج نکلنے کے بعد تک پیروں پر مسح کر سکتا ہے اور اگر مسافر ہے تو تین دن اور تین
رات تک مسح کرے گا۔ (عمدۃ الرعایۃ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 560 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس نعلین (یعنی چپل) پر مسح جائز نہیں ہے اور اس
کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چپل پر مسح کرنے کا جو ذکر ہے اس
سے مراد یہ ہے کہ آپ نے چمڑے کے ان جرابوں پر مسح فرمایا جو چپل کے اندر تھے تو چپل پر مسح کرنا
دراصل جرابوں پر مسح تھا کیونکہ اگر جراب کے اوپر چپل موجود نہیں ہو تو بھی جراب ہی پر مسح کیا جاتا تو
اس طرح آپ نے چپل کو شامل کرتے ہوئے جرابوں پر مسح فرمایا اور آپ کا جراب پر مسح کرنا ہی اصل
پاکی ہے، اس طرح چپل پر مسح کرنا زائد قرار دیا جائے گا۔ جب اس حدیث میں ہماری اس وضاحت کا
احتمال موجود ہے اور اس میں چپل پر مسح کرنے کی دلیل پائی نہیں جاتی تو ہم نے بذریعہ قیاس اس کا حکم
معلوم کرنے کی کوشش کی تو ہم نے دیکھا کہ وہ موزے جن پر مسح جائز ہے جب وہ پھٹ جائیں اور ان
میں سے پنجے ظاہر ہوچکے ہوں یا پنجوں کا بڑا حصہ دکھائی دینے لگے تو سب ائمہ کرام اس بات پر متفق ہیں
کہ ایسے موزوں پر مسح جائز نہیں ہے، اس طرح جب ثابت ہوگیا کہ موزوں پر مسح اسی صورت میں جائز
ہے جبکہ دونوں پنجے موزوں میں چھپ جائیں اور موزوں پر مسح ایسی صورت میں باطل ہے جبکہ پنجے ظاہر
ہوجاتے ہوں اور یہ واضح بات ہے کہ چپل میں بھی پنجے ظاہر رہتے ہیں اور چھپنے نہیں پاتے تو چپل ان
موزوں کی طرح ہوگئے جن میں سے پنجے دکھائی دیتے ہوں اور یہ بھی بالاتفاق ثابت ہوچکا ہے کہ ایسے
موزے جن میں سے پنجے ظاہر ہوجاتے ہوں ان پر مسح باطل ہے تو چپل پر بھی مسح باطل ہوگا۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ، نے کہا کہ میں موزوں پر مسح کرنے کا قائل اس وقت تک نہیں ہوا یہاں تک کہ میرے پاس اس مسئلہ میں تشفی بخش وضاحت روز روشن کی طرح حاصل نہ ہوگئی اور اس شخص کے کافر ہو جانے کا اندیشہ کرتا ہوں جو موزوں پر مسح کے جائز ہونے کا عقیدہ نہ رکھتا ہو۔12