العربية
Typed, pending editorial approval
٦٣٧ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى (رضي الله عنه) قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ مَسَحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ وَنَعْلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرَوَى أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه نَحْوَهُ.
وَقَالَ الطَّحَاوِيُّ: لَا نَرَى الْمَسْحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ، وَكَانَ مِنَ الْحُجَّةِ فِي ذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُوْنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَسَحَ عَلَى نَعْلَيْنِ تَحْتَهُمَا جَوْرَبَانِ، وَكَانَ قَاصِدًا بِمَسْحِهِ ذَلِكَ إِلَى جَوْرَبَيْهِ، لَا إِلَى نَعْلَيْهِ، وَجَوْرَبَاهُ مِمَّا لَوْ كَانَا عَلَيْهِ بِلَا نَعْلَيْنِ جَازَ لَهُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا، فَكَانَ مَسْحُهُ ذَلِكَ مَسْحًا أَرَادَ بِهِ الْجَوْرَبَيْنِ، فَأَنَّى ذَلِكَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ، فَكَانَ مَسْحُهُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ هُوَ الَّذِي تَطَهَّرُ بِهِ، وَمَسْحُهُ عَلَى النَّعْلَيْنِ فَضْلٌ.
فَلَمَّا احْتَمَلَ حَدِيثُهُ مَا ذَكَرْنَا وَلَمْ يَكُنْ فِيْهِ حُجَّةٌ فِي جَوَازِ الْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ الْتَمَسْنَا ذَلِكَ مِنْ طَرِيقِ النَّظَرِ ؛ لِنَعْلَمَ كَيْفَ حُكْمُهُ؟ فَرَأَيْنَا الْخُفَّيْنِ - اللَّذَيْنِ قَدْ جَوَّزَ الْمَسْحَ عَلَيْهِمَا - إِذَا تَخَرَّقَا حَتَّى بَدَتِ الْقَدَمَانِ مِنْهُمَا أَوْ أَكْثَرُ الْقَدَمَيْنِ، فَكُلُّ قَدْ أَجْمَعَ أَنَّهُ لَا يُمْسَحُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا كَانَ الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِنَّمَا يَجُوْزُ إِذَا غَيْبَا الْقَدَمَيْنِ، وَيَبْطُلُ ذَلِكَ إِذَا لَمْ يُغَيِّبَا الْقَدَمَيْنِ، وَكَانَتِ النَّعْلَانِ غَيْرَ مُغَيِّبَيْنِ لِلْقَدَمَيْنِ، ثَبَتَ أَنَّهُمَا كَالْخُفَّيْنِ اللَّذَيْنِ لَا يُغَيِّبَانِ الْقَدَمَيْنِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 560 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس نعلین (یعنی چپل) پر مسح جائز نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چپل پر مسح کرنے کا جو ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے چمڑے کے ان جرابوں پر مسح فرمایا جو چپل کے اندر تھے تو چپل پر مسح کرنا دراصل جرابوں پر مسح تھا کیونکہ اگر جراب کے اوپر چپل موجود نہیں ہو تو بھی جراب ہی پر مسح کیا جاتا تو اس طرح آپ نے چپل کو شامل کرتے ہوئے جرابوں پر مسح فرمایا اور آپ کا جراب پر مسح کرنا ہی اصل پاکی ہے، اس طرح چپل پر مسح کرنا زائد قرار دیا جائے گا۔ جب اس حدیث میں ہماری اس وضاحت کا احتمال موجود ہے اور اس میں چپل پر مسح کرنے کی دلیل پائی نہیں جاتی تو ہم نے بذریعہ قیاس اس کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کی تو ہم نے دیکھا کہ وہ موزے جن پر مسح جائز ہے جب وہ پھٹ جائیں اور ان میں سے پنجے ظاہر ہوچکے ہوں یا پنجوں کا بڑا حصہ دکھائی دینے لگے تو سب ائمہ کرام اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے موزوں پر مسح جائز نہیں ہے، اس طرح جب ثابت ہوگیا کہ موزوں پر مسح اسی صورت میں جائز ہے جبکہ دونوں پنجے موزوں میں چھپ جائیں اور موزوں پر مسح ایسی صورت میں باطل ہے جبکہ پنجے ظاہر ہوجاتے ہوں اور یہ واضح بات ہے کہ چپل میں بھی پنجے ظاہر رہتے ہیں اور چھپنے نہیں پاتے تو چپل ان موزوں کی طرح ہوگئے جن میں سے پنجے دکھائی دیتے ہوں اور یہ بھی بالاتفاق ثابت ہوچکا ہے کہ ایسے موزے جن میں سے پنجے ظاہر ہوجاتے ہوں ان پر مسح باطل ہے تو چپل پر بھی مسح باطل ہوگا۔