العربية
Typed, pending editorial approval
٦٣٢ وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ قَالَ: اخْتَلَفَ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ سَعْدُ: أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا أَمْسَحُ. فَقَالَ سَعْدٌ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَبُوكَ، فَقَدِمْنَا عَلَى عُمَرَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَمُكَ أَعْلَمُ مِنْكَ، إِذَا لَبِسْتَ خُفَّيْكَ عَلَى طَهَارَةٍ ثُمَّ أَحْدَثْتَ، تَوَضَّأْتَ وَمَسَحْتَ عَلَى خُفَّيْكَ، أَجْرَأُ مَسْحُ ذَلِكَ إِلَى سَاعَتِكَ تِلْكَ مِنْ لَيْلٍ كَانَ أَوْ نَهَارٍ. رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: موزوں پر مسح کرنے کی مدت مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے اور مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں ہیں، اس مدت کی ابتداء موزوں کے پہننے کے وقت سے نہیں ہوگی بلکہ موزوں کے پہننے کے بعد جو پہلا حدث ہوا ہے اس وقت سے ہوگی، مثلاً ایک شخص نے صبح صادق کے وقت وضوء کر کے موزے پہن لئے اور سورج نکلنے کے بعد اس کو حدث لاحق ہوا اور وضوء ٹوٹ گیا اور اس نے زوال کے بعد وضوء کر کے پیروں پر مسح کیا تو مسح کی مدت سورج نکلنے کے وقت سے شروع ہوگی صبح صادق سے نہیں ہوگی، کیونکہ اس کو پہلا حدث سورج نکلنے کے بعد لاحق ہوا ہے اور اس مثال کے لحاظ سے اگر وہ مقیم ہے تو دوسرے دن سورج نکلنے کے بعد تک پیروں پر مسح کر سکتا ہے اور اگر مسافر ہے تو تین دن اور تین رات تک مسح کرے گا۔ (عمدۃ الرعایۃ)۔