مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
موزوں پر مسح فرمایا تو میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ فراموش کر گئے ہیں
۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ تم بھول گئے ہو میرے رب عزوجل نے مجھے اسی کا
حکم دیا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Allah, the Exalted, says: "O you who have believed, when you rise to pray, wash your faces and your hands to the elbows, and wipe over your heads and your feet to the ankles." (Al-Ma'idah: 6)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 156 (unverified) 70% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب سے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورہ مائدہ نازل ہوئی ہے اس وقت سے آپ اللہ تعالیٰ سے ملنے تک وضوء
میں موزوں پر مسح فرماتے رہے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ان سے ارشاد فرمایا کہ وضوء کرادو تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وضوء کا پانی لے آیا، آپ
نے وضوء فرمایا اور بجائے پاؤں دھونے کے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے دونوں پیر نہیں دھوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے دونوں پیروں کو
موزوں میں ایسی حالت میں ڈالا ہے کہ وہ دونوں پاک تھے۔ (اس کی روایت امام احمد اور بیہقی نے کی
ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وضوء میں) موزوں پر مسح فرمایا ہے۔ (اس کی روایت بزار نے کی
ہے۔)
ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ، نے کہا کہ میں موزوں پر مسح کرنے کا قائل اس وقت تک نہیں
ہوا یہاں تک کہ میرے پاس اس مسئلہ میں تشفی بخش وضاحت روز روشن کی طرح حاصل نہ ہوگئی اور اس
شخص کے کافر ہو جانے کا اندیشہ کرتا ہوں جو موزوں پر مسح کے جائز ہونے کا عقیدہ نہ رکھتا ہو۔12
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ مقام اسواف میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاجت کے لئے
تشریف لے گئے اور حاجت سے فراغت کے بعد باہر آئے، اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بلال رضی اللہ
عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا؟ تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم حاجت کو گئے تھے بعد ازاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضوء فرمایا اپنا چہرہ
دھوئے دونوں ہاتھوں کو دھوئے اور سر کا مسح فرمایا اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ پھر آپ نے نماز اداء
فرمائی۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
عباد بن زیاد رضی اللہ عنہ سے، جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک لڑکے ہیں
روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک کی لڑائی میں حاجت کو تشریف لے گئے۔ عباد بن
زیاد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پانی لے کر گیا وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد فراغت آئے تو میں آپ کے لئے پانی ڈالتا گیا، انہوں نے کہا کہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ دھویا پھر آپ ہاتھوں کو نکالنے لگے تو جبہ کے آستینوں کے تنگ
ہونے کی وجہ سے نکال نہ سکے، وہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبہ کے نیچے سے
ہاتھوں کو نکالا اور دونوں ہاتھوں کو دھولیا اور اپنے سر کا مسح فرمایا اور دونوں موزوں پر مسح کئے۔ پھر رسول
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تشریف لائے جبکہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز میں امامت
کر رہے تھے اور ایک رکعت نماز پڑھا چکے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے
ساتھ مقتدی بن کر نماز اداء فرمائی، اس کے بعد جو رکعت آپ کی رہ گئی تھی اس کو تنہا اداء فرمایا (تو بغیر
انتظار کے نماز شروع کرنے کی بناء پر) لوگ گھبرائے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم
نے اچھا کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطأ میں کی ہے اور اسی طرح اس کی روایت بخاری نے بھی
کی ہے۔)
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لئے تین دن اور تین رات تک اور مقیم کے
لئے ایک دن اور ایک رات تک مسح کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ اس نے طہارت کر کے (خواہ
وضو کیا ہو یا صرف پیر دھو کر) موزوں کو پہن لیا ہو۔ (اس کی روایت اثرم نے اپنی سنن میں کی ہے
اور ابن خزیمہ اور دارقطنی نے بھی اس کی روایت کی ہے اور خطابی نے وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث صحیح
اسناد والی ہے اور ”منتقیٰ“ میں بھی یہی مذکور ہے اور اس حدیث کو ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Ibn Khuzaymah 192 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: موزوں پر مسح کرنے کی شرط طہارت پر موزوں کا پہن لینا ہے، واضح رہے کہ طہارت دو قسم
کی ہوتی ہے: ایک طہارت کامل جو پورے وضوء سے حاصل ہوتی ہے۔ اور دوسری غیر کامل جو صرف
پیروں کے دھولینے سے حاصل ہوجاتی ہے۔ اور ان دونوں طہارتوں میں سے کسی ایک طہارت کے بعد
موزوں کو پہن لیا گیا ہے تو موزوں پر مسح کیا جاسکتا ہے۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس میں
طہارت کا ذکر ہے مطلقاً ہے جو مذکورہ ہر دو قسم کی طہارتوں کو شامل ہے البتہ خفین کے پہننے کے بعد جو پہلا
حدث ہوگا اس حدث کے وقت طہارت کامل ضروری ہے، مثلاً کسی شخص نے پیر دھو کر موزے پہن لئے
اور ابھی اس نے وضوء پورا نہیں کیا تھا کہ اس کو حدث ہوگیا تو ایسا شخص موزوں پر مسح نہیں کرسکتا۔ خلاصہ
یہ ہے کہ طہارت کامل یعنی پورا وضوء موزوں کے پہننے کے وقت ضروری نہیں ہے، البتہ حدث کے وقت
طہارت کامل یعنی پورا وضو لازمی ہے تاکہ موزوں پر مسح صحیح ہو سکے۔(عمدة الرعاية)12۔
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے علی ابن ابی
طالب رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے جواب دیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لئے موزوں پر مسح کرنے کی مدت تین دن اور تین رات
مقرر فرمائی ہے اور مقیم کے لئے موزوں پر مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات ٹھہرائی ہے۔(اس کی
روایت مسلم نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین دن اور تین راتیں مسافر کے لئے ایک دن اور ایک رات مقیم کے
لئے مدت مسح ہے تو موزوں کو نیند اور پیشاب اور پاخانہ آنے کی وجہ سے مت نکالا کرو لیکن جنابت کی
وجہ سے نکال دو(اگرچہ مدت مسح ابھی باقی رہے)۔(اس کی روایت طبرانی نے کبیر میں کی ہے اور
اسی طرح ترمذی اور نسائی نے بھی اس کی روایت کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضوء کر کے موزوں کو پہن لے تو انہیں موزوں کے ساتھ نماز
پڑھے اور وضوء کے وقت ان پر مسح کر لیا کرے(اور مدت باقی رہنے پر) چاہے تو نہ اتارے البتہ
جنابت واقع ہو جائے تو نکال دے۔(اس کی روایت دارقطنی اور حاکم نے کی ہے اور حاکم نے اس
حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)
ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد اور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم کے درمیان موزوں پر مسح کے متعلق اختلاف ہو گیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے
فرمایا کہ میں موزوں پر مسح کرتا ہوں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں (موزوں پر) مسح نہیں کرتا
ہوں، سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے ثالث تمہارے
والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ٹھہراتا ہوں ابو عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے
پاس پہنچے اور ہم نے ان کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند سے فرمایا کہ
تمہارے چچا تم سے بڑھ کر عالم ہیں جب تم اپنے موزوں کو وضوء کر کے پہن لیں اور اس کے بعد تمہارا
وضوء ٹوٹ جانے پر تم نے وضوء کر لیا اور موزوں پر مسح کیا تو تمہارے لئے (مقیم ہونے کی حالت
میں) مسح کرنا دوسرے دن کے اس وقت تک کے لئے کافی ہوگا (جس وقت سے کہ تم نے پہلے حدث کے
بعد) مسح کرنا شروع کیا تھا خواہ وہ رات کا ہو یا دن کا۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے۔)
ف: موزوں پر مسح کرنے کی مدت مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے اور مسافر کے لئے
تین دن اور تین راتیں ہیں، اس مدت کی ابتداء موزوں کے پہننے کے وقت سے نہیں ہوگی بلکہ موزوں کے
پہننے کے بعد جو پہلا حدث ہوا ہے اس وقت سے ہوگی، مثلاً ایک شخص نے صبح صادق کے وقت وضوء
کر کے موزے پہن لئے اور سورج نکلنے کے بعد اس کو حدث لاحق ہوا اور وضوء ٹوٹ گیا اور اس نے زوال
کے بعد وضوء کر کے پیروں پر مسح کیا تو مسح کی مدت سورج نکلنے کے وقت سے شروع ہوگی صبح صادق سے
نہیں ہوگی، کیونکہ اس کو پہلا حدث سورج نکلنے کے بعد لاحق ہوا ہے اور اس مثال کے لحاظ سے اگر وہ
مقیم ہے تو دوسرے دن سورج نکلنے کے بعد تک پیروں پر مسح کر سکتا ہے اور اگر مسافر ہے تو تین دن اور تین
رات تک مسح کرے گا۔ (عمدۃ الرعایۃ)۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب فرمایا پھر وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا اس
طرح کہ سیدھے ہاتھ کو سیدھے جانب کے موزے پر رکھا اور بائیں ہاتھ کو بائیں جانب کے موزے
پر رکھا اور صرف ایک دفعہ دونوں موزوں کے اوپر کے حصہ پر مسح فرمایا۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشانات جو موزوں پر پڑے تھے گویا میں ان کو اب تک موزوں
پر دیکھ رہا ہوں۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور بیہقی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر دین کا انحصار صرف رائے
پر ہوتا تو موزوں کا نچلا حصہ بنسبت اوپر کے حصے کے مسح کے لئے زیادہ موزوں تھا حالانکہ میں نے
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں کے اوپر کے حصے پر مسح فرماتے ہوئے دیکھا ہے۔ (اس
کی روایت ابوداؤد نے صحیح اسناد کے ساتھ کی ہے اور دارمی کی روایت اس کے ہم معنی ہے اور منتقی
میں مذکور ہے کہ اس کے اسناد صحیح ہیں۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک
آدمی کے پاس سے گزرے جو وضوء کر رہا تھا اس نے اپنے موزوں کو دھویا تو آپ نے اس کو اپنے
پاؤں سے ٹھوکا دیا اور فرمایا کہ (موزوں پر مسح کرنے میں) سنت یہ نہیں ہے! ہم کو مسح کرنے کا حکم اس طرح
دیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو دونوں موزوں پر گزار کر
انہیں مسح کرنا بتلایا۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں کی ہے۔)
اور طبرانی کی دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مسح کرنے کا طریقہ اس طرح بتلایا کہ ہاتھوں کو ایک دفعہ موزوں کے اگلے حصہ
سے پنڈلی تک اس طرح گزار دیا کہ ہاتھوں کی انگلیاں کھلی ہوئی تھیں۔
اور ابن المنذر کی روایت میں عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے موزوں پر اس طرح مسح کیا کہ ہاتھ کی انگلیوں کے نشانات موزوں پر
لکیروں کی طرح نمایاں تھیں۔
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ موزوں پر مسح کرنے کا
طریقہ یہ ہے کہ انگلیوں کے ذریعہ موزوں پر خطوط کھینچے جائیں۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے
کی ہے)
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں جراب پر (یعنی چمڑے کے ان لفافوں پر جو موزوں پر پہنے جاتے ہیں)
اور اپنی نعلین پر مسح فرمایا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور امام احمد ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ کی
روایت بھی اسی طرح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 560 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس نعلین (یعنی چپل) پر مسح جائز نہیں ہے اور اس
کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چپل پر مسح کرنے کا جو ذکر ہے اس
سے مراد یہ ہے کہ آپ نے چمڑے کے ان جرابوں پر مسح فرمایا جو چپل کے اندر تھے تو چپل پر مسح کرنا
دراصل جرابوں پر مسح تھا کیونکہ اگر جراب کے اوپر چپل موجود نہیں ہو تو بھی جراب ہی پر مسح کیا جاتا تو
اس طرح آپ نے چپل کو شامل کرتے ہوئے جرابوں پر مسح فرمایا اور آپ کا جراب پر مسح کرنا ہی اصل
پاکی ہے، اس طرح چپل پر مسح کرنا زائد قرار دیا جائے گا۔ جب اس حدیث میں ہماری اس وضاحت کا
احتمال موجود ہے اور اس میں چپل پر مسح کرنے کی دلیل پائی نہیں جاتی تو ہم نے بذریعہ قیاس اس کا حکم
معلوم کرنے کی کوشش کی تو ہم نے دیکھا کہ وہ موزے جن پر مسح جائز ہے جب وہ پھٹ جائیں اور ان
میں سے پنجے ظاہر ہوچکے ہوں یا پنجوں کا بڑا حصہ دکھائی دینے لگے تو سب ائمہ کرام اس بات پر متفق ہیں
کہ ایسے موزوں پر مسح جائز نہیں ہے، اس طرح جب ثابت ہوگیا کہ موزوں پر مسح اسی صورت میں جائز
ہے جبکہ دونوں پنجے موزوں میں چھپ جائیں اور موزوں پر مسح ایسی صورت میں باطل ہے جبکہ پنجے ظاہر
ہوجاتے ہوں اور یہ واضح بات ہے کہ چپل میں بھی پنجے ظاہر رہتے ہیں اور چھپنے نہیں پاتے تو چپل ان
موزوں کی طرح ہوگئے جن میں سے پنجے دکھائی دیتے ہوں اور یہ بھی بالاتفاق ثابت ہوچکا ہے کہ ایسے
موزے جن میں سے پنجے ظاہر ہوجاتے ہوں ان پر مسح باطل ہے تو چپل پر بھی مسح باطل ہوگا۔
عبد خیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ
کو دیکھا کہ آپ قیدیوں کا معائنہ کررہے تھے۔ آپ نے پیشاب کیا اور بعد ازاں وضوء کیا اور اپنے
جرابوں پر مسح کیا۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے۔)
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ
موزوں پر مسح کرتے تھے اور جرابوں پر بھی مسح کرتے تھے۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ موزوں پر مسح کرو اور چمڑے کے جرابوں پر بھی مسح کرو (جو موزوں کے اوپر پہنے جاتے
ہیں)۔ (اور اس کی روایت طبرانی اور بغوی نے کی ہے۔)
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن رواحہ اور اسامہ بن زید
رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ محلہ
”دار حمل“ میں تشریف لے گئے تو بلال رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن رواحہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما
کے پاس باہر آئے اور ان دونوں حضرات کو انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
وضو کیا اور جرابوں پر مسح فرمایا۔ (اس کی روایت ابن عساکر نے کی ہے۔)
اور امام احمد اور ابوداؤد نے بلال رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً روایت کی
ہے۔
حماد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں
کہ وہ جرابوں پر مسح کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے۔)
ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد عروہ رضی اللہ عنہ کے
متعلق روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا اور وہ موزے
کے پچھلے حصہ پر جو تلوؤں سے ملا ہوا تھا مسح نہیں کرتے تھے، ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر وہ سر سے
عمامہ اٹھاتے اور سر کا مسح کیا کرتے۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے۔)
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب تم با وضوء رہ کر
موزوں پر مسح کر چکے ہو اور تم نے موزوں کو اتار دیا ہے تو اپنے پیروں کو دھولو۔
(اس کی روایت امام محمد نے ”کتاب الآثار“ میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ، نے کہا کہ میں موزوں پر مسح کرنے کا قائل اس وقت تک نہیں ہوا یہاں تک کہ میرے پاس اس مسئلہ میں تشفی بخش وضاحت روز روشن کی طرح حاصل نہ ہوگئی اور اس شخص کے کافر ہو جانے کا اندیشہ کرتا ہوں جو موزوں پر مسح کے جائز ہونے کا عقیدہ نہ رکھتا ہو۔12