Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں) · Chapter 9

(یہ باب ہے نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں)

59 narrations · In source reading order

Hadith 572

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 642
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال کر پی جائے تو اس چیز کو گرا دو، اور اس برتن کو تین دفعہ دھولو۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے، اور دارقطنی نے بھی اسی طرح مرفوعاً روایت کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah, the Almighty: "And purify your garments" (Al-Muddathir: 4), and "From its wool, fur, and hair, as well as its goods until a specified time" (An-Nahl: 80).

Hadith 573

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 643
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پی جائے تو اس برتن کی چیز کو گرا دو، اور برتن کو تین دفعہ دھولو۔ (اس کی روایت دارقطنی نے موقوفاً کی ہے اور ”نصب الرایہ“ میں مذکور ہے کہ شیخ تقی الدین رحمہ اللہ نے ”الامام“ میں کہا ہے کہ یہ سند صحیح ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)

[Narrated by Al-Daraqutni as a mursal (without a direct connection to the Prophet ﷺ)]

Hadith 574

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 644
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پی جاتا تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس برتن کی چیز کو گرا دیتے اور اس کے بعد برتن کو تین دفعہ دھو ڈالتے تھے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)

Hadith 575

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 645
معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے امام زہری رضی اللہ عنہ سے کتّے کے متعلق دریافت کیا جب کہ وہ برتن میں منہ ڈال کر پی جائے تو امام زہری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ برتن کو تین دفعہ دھولو۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)

Hadith 576

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 646
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں شب گزاری کرتا تھا۔ اس زمانے میں بے شادی شدہ نوجوان تھا، اس وقت کتے مسجد میں پیشاب کرتے اور آیا جایا کرتے تھے لیکن اس کی وجہ سے مسجد کو کچھ بھی نہ دھویا جاتا تھا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 382 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور اس کی سند کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے جو، ان کے نزدیک صحت کی علامت ہے، اور بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین جب خشک ہو جائے تو پاک ہو جاتی ہے۔)

Hadith 577

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 647Noor 648
محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ زمین کی پاکی اس کا خشک ہو جانا ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔) اور ابن ابی شیبہ کی ایک دوسری روایت میں امام ابو جعفر باقر رضی اللہ عنہ، سے اسی طرح مروی ہے۔

Hadith 578

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 649
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ زمین کا خشک ہو جانا ہی اس کے لئے پاک ہے۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔) اور ابن ابی شیبہ کی روایت بھی اسی طرح ہے اور ابن ابی شیبہ کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں۔

Hadith 579

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 650Noor 651
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ بتلائیے کہ ہم میں سے کسی عورت کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اس کو چٹکیوں سے ملے، پھر اس کو پانی سے دھولے، پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔) اور ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، سے روایت کی ہے کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیبیاں اپنے کپڑے سے خون کو تھوک کے ذریعہ مل کر پاک فرما لیا کرتی تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 227 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 291a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Then wash it with water

(1) The statement: "Then wash it with water" — Al-Khattabi said: This provides evidence that water is specified for removing impurity. Al-Bayhaqi also used this argument in his Sunan, and it is the view of Malik, Shafi'i, Ahmad, Muhammad, and Zufar, who said that purification from impurity can only be achieved by something that purifies the ritual impurity (hadath). However, the Imam A'zam (Abu Hanifa) and Abu Yusuf held that purification can be done with any pure liquid. You are aware that they have no proof against the Hanafi position in this hadith because it deals with the purification of clothing with water, which no one denies. The disagreement concerns purification with something other than water, and the hadith neither negates nor affirms this but remains silent on the matter. How strange it is that Al-Khattabi and Al-Bayhaqi used this as evidence! Also, the ruling of impurity is lighter than that of ritual impurity, as shown by what has been narrated from Aisha, Sa'id ibn Jubayr, and others, as well as the permissibility of praying with a stone (to remove impurity), even if some traces of impurity remain. In contrast, if a trace of ritual impurity remains on the body, such as a tiny particle that was not washed, the purification is invalid unless it is washed off. So, understand this. This is a brief summary of what was mentioned in "Aujaz al-Masalik," and those who wish for further details should look there.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ثم لتنضحه بماء إلخ : قال الخطابي : إن فيه دليلا على تعيين الماء لإزالة النجاسة، وكذا استدل به البيهقي في سنته، وهو مذهب مالك والشافعي وأحمد ومحمد وزفر؛ إذ قالوا: إن الطهارة من النجاسة لا تحصل إلا بما يحصل به طهارة الحدث. وقال الإمام الأعظم وأبو يوسف ما يجوز التطهير بكل مائع طاهر. وأنت خبير بأنه لا حجة لهم على الحنفية في هذا الحديث؛ لأن فيه طهارة الثوب بالماء، ولا ينكره أحد. والخلاف في الطهارة بغير الماء، والحديث لا يتناوله نفيا ولا إثباتا، بل ساكت عنه. فليت شعري ! كيف استدل به الخطابي والبيهقي ؟ وأيضًا فحكم النجاسة أخف من الحدث بدليل ما ورد عن عائشة وسعيد بن جبير وغيرهما، وبدليل صحة صلاة المجمر بالحجر، ولو بقي هناك أثر النجاسة، بخلاف الطهارة عن الحدث لو بقي على البدن لمعة كالذرة لم يصبه الماء لم تصح طهارته إلا بغسلها، فافهم. هذا نبذة مما ذكره في أوجز المسالك، ومن شاء التفصيل فلينظر ثمه.

Note 1

ف: اس حدیث کے الفاظ ﴿ثُمَّ لِتَنْضَحَهُ بِمَاءٍ﴾ (یعنی پھر کپڑے کو پانی سے دھولے) اس کے متعلق خطابی نے کہا ہے کہ اس ارشاد میں اس بات کی دلیل ہے کہ نجاست دور کرنے کے لئے پانی ہی معین ہے اور بیہقی نے بھی اپنی سنن میں اس حدیث سے یہی استدلال کیا ہے کہ نجاست پانی سے ہی دور کی جائے، اور امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام محمد اور امام زفر رحمہم اللہ کا، یہی مذہب ہے، یہ سب حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ جس چیز سے حدث دور ہوتا ہے، نجاست سے پاکی اسی چیز کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے لیکن امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نجاست سے پاکی حاصل کرنا ہر ایسی چیز کے ذریعہ جائز ہے جو بہنے والی اور پاک ہو۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ اس حدیث کو حنفیہ کے خلاف دلیل نہیں بنایا جا سکتا کیوں کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کپڑے کی پاکی پانی سے حاصل ہوئی ہے جس کا انکار ناممکن ہے اور اختلاف تو اس بارے میں ہے کہ کیا پانی کے سوا کسی دوسری چیز سے بھی پاکی حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث جس میں پانی سے طہارت حاصل کرنے کا ذکر ہے اس میں اس بات کا حصر نہیں ہے کہ پانی کے سوا کسی اور بہنے والی چیز سے پاکی حاصل نہ کی جائے بلکہ اس حدیث میں پانی کے سوا کسی اور چیز سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں سکوت موجود ہے، دوسری چیز سے پاکی حاصل کرنے کا نہ تو ثبوت ہے نہ نفی بلکہ ابن ابی شیبہ کی وہ حدیث جو سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں ام المومنین نے اپنے کپڑے کی طہارت تھوک کے ذریعہ کی ہے اس میں پاک بہنے والی چیز سے طہارت حاصل کرنے کا ثبوت موجود ہے، امام بیہقی اور خطابی نے اپنی دلیل میں جو نجاست کا قیاس حدث پر کیا ہے اور جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نجاست دور کرنے کے لئے پانی اسی طرح لازمی ہے جس طرح حدث دور کرنے کے لئے پانی باتفاق لازمی ہے، صحیح نہیں ہے کیوں کہ نجاست کا حکم اور حدث کے حکم میں کافی فرق ہے اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیثیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ بہنے والی پاک چیز سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں نجاست کے دور کرنے کے لئے ڈھیلا یا پتھر استعمال کیا جائے اور پانی سے طہارت کے بغیر نماز پڑھ لی جائے تو ایسے شخص کی نماز درست ہے حالانکہ صرف ڈھیلے یا پتھر سے طہارت پر اکتفاء کرنے میں نجاست کا اثر باقی رہ جاتا ہے، برخلاف حدث کے کہ اس میں اگر بال برابر جگہ بھی خشک رہ جائے تو حدث دور نہیں ہوتا تو اس طرح یہ نتیجہ نکلا کہ پاکی کے حاصل کرنے میں حدث پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اور پانی کے علاوہ ہر پاک بہنے والی چیز سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (یہ اوجز المسالک سے اختصار کر کے لکھا گیا ہے اور جو تفصیل کا طالب ہو وہ اوجز المسالک میں دیکھ لے۔)12

Hadith 580

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 652Noor 653Noor 654
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے قمیص میں خون دیکھا تو آپ نے خون کی جگہ تھوک کر اس کو مل دیا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ اور میمون بن مہران سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ”کیا عورت اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اس کو حیض آیا ہو“ کے باب میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین نے فرمایا کہ ہم میں سے کسی کو ایک کپڑے کے سوا دوسرا کپڑا نہ تھا، اس لئے حیض کے ایام میں وہی کپڑا جسم پر رہتا تھا اور جب حیض کا کچھ خون اس میں لگ جاتا تھا تو وہ خون کے دھبہ پر تھوک دیا کرتی تھیں اور اس کو ناخن سے مل لیتی تھیں اور ایک روایت میں (فَمَصَعَتْهُ) کی بجائے (فَقَصَعَتْهُ) ہے جس کے معنی بھی ملنے کے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 312 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

فمصعته

(1) The term "فمصعته" refers to "مصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or wiping, and "القصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or scrubbing. This is mentioned in the explanation of "النقاية".

Note 1

قوله

(۱) قوله : فمصعته إلخ والمصع بمهملتين: الإذهاب والقصع بمهملتين: الدلك. كذا في شرح «النقاية».

Hadith 581

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 655
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان سے ایک عورت نے دریافت کیا کہ میرا دامن لمبا ہوا کرتا ہے اور میں ناپاک جگہ سے گزرتی ہوں (تو کیا میرا دامن پاک رہے گا؟) تو اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کپڑے کو اس مقام کے بعد کی جگہ پاک کر دیتی ہے۔ (اس کی روایت امام مالک، امام شافعی، امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے) اور دارمی نے کہا ہے کہ وہ سوال کرنے والی عورت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 143 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 383 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

in the dirty place

(1) The phrase "in the dirty place" refers specifically to a dry place. This interpretation, assuming the authenticity of the hadith, is agreed upon by all, because there is consensus that if a garment is soiled by impurity, it is only purified by washing, unlike a shoe, which has differing opinions. Thus, the statement about purification should be understood metaphorically. This is as mentioned in "Al-Mirqat."

Note 1

قوله

(۱) قوله: في المكان القذر: هذا يقيد باليابس، وهذا التأويل على تقدير صحة الحديث متعين عند الكل؛ لانعقاد الإجماع على أن الثوب إذا أصابته نجاسة لا يطهر إلا بالغسل، بخلاف الخف؛ فإن فيه خلافًا، فإطلاق التطهير مجازي. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: حدیث میں ناپاک جگہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ جگہ سے مراد خشک جگہ ہے اس پر دامن گزر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا اگر جگہ تر ہو تو اس کا یہ حکم نہیں ہوگا کیوں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ کپڑے کو جب نجاست لگ جائے تو وہ دھونے سے ہی پاک ہوتا ہے البتہ چمڑے کے موزے کا یہ حکم نہیں ہے اور اس کا حکم بھی آئندہ حدیثوں میں مذکور ہے اور اس حدیث میں زمین کا کپڑے کو پاک کر دینے کا جو ذکر موجود ہے قرینہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ عورت کا دامن خشک زمین پر ہی سے گزرتا تھا۔ (ماخوذ از مرقات۔)12۔

Hadith 582

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 656
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے سے نجاست کو روند دے تو مٹی اس کو پاک کرنے والی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے صحیح سند کے ساتھ کی ہے اور ابن ماجہ سے یہ حدیث بالمعنی مروی ہے اور حاکم نے بھی مستدرک میں اس کی روایت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے موافق ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 385 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 583

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 657
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد کو آئے تو دیکھ لے کہ اگر اس کے جوتے میں کوئی گندی چیز یا نجاست موجود ہے تو اس کو رگڑ دے اور ان جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 650 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 584

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 658
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے یا اپنے موزوں سے گندی چیز کو روند دے تو ان دونوں کو پاک کرنے والی مٹی ہے (یعنی مٹی پر رگڑنے سے موزہ پاک ہو جاتا ہے۔ اس کی روایت طحاوی اور ابن خزیمہ نے کی ہے۔)

Hadith 585

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 659
اور یحییٰ بن وثاب سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص نماز کے لئے نکلا اور اس نے غلاظت کچل دی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اگر غلاظت تر ہو تو جس چیز کو وہ لگ جائے تو اس کو دھو لے اور اگر خشک ہو تو اس کے لئے ضرر رساں نہیں ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کے روایت کرنے والے صحیح کے راوی ہیں۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں تر نجاست کو دور کرنے کے لئے دھونا ثابت ہے اور اگر خشک نجاست ہو تو رگڑ دینا کافی ہے بالکل اسی طرح اس حدیث سے پہلے کی حدیثیں گو کہ وہ مطلق ہیں ان سے بھی یہی حکم مراد ہے کہ اگر نجاست تر ہو تو دھولی جائے اور اگر خشک ہو تو زمین پر رگڑ دینے سے پاک ہو جاتی ہے 12۔

Hadith 586

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 660Noor 661
اسود اور ہمام رضی اللہ عنہما نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے خشک منی کو کھرچ لیا کرتی تھی ۔(اس کی روایت مسلم نے اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔) اور علقمہ، اسود اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ کی سند سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس روایت، میں یہ اضافہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
Commentary and footnotes (1)

Note 1

وآلہ وسلم اسی کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ، ہمارے مذہب کے مطابق اس حدیث میں منی کے پاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو مذکور ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ لیا کرتی تھیں تو اس بارے میں یہ صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کپڑے سے خشک منی کو جس کا اثر کپڑے میں سرایت نہ کیا ہو، ایسے طریقہ سے مل دیا کرتی تھیں جس سے کپڑا پاک ہو جاتا تھا اور اس طرح رگڑنا بھی کپڑے کو پاک کرنے کا ایک طریقہ ہے، منی درحقیقت ناپاک ہے، اس کی توضیح یہ ہے کہ جوتے یا موزے کو خشک ناپاک چیز لگ جائے تو اس نجاست کو دور کرنے کے بارے میں روایت یوں ہے کہ پانی سے دھونے کے بجائے مٹی پر رگڑنا کافی ہے اور چمڑے کو پاک کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے تو اس طرح ثابت ہوا کہ اس روایت میں بھی کوئی دلیل درحقیقت نجس شئے کے پاک ہونے کی نہیں ہے تو جیسے چمڑے کے پاک ہونے سے نجاست کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں کپڑا جس کو خشک منی لگی ہوئی ہو رگڑنے سے کپڑا تو پاک ہوگا لیکن کپڑے کے پاک ہونے سے منی کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا۔12۔

Hadith 587

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 662
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ لیا کرتی تھی جب وہ خشک ہوتی اور کپڑے کو دھو لیا کرتی تھی اگر منی تر ہوتی۔ (اس کی روایت دارقطنی، بیہقی اور طحاوی نے کی ہے اور ابو عوانہ نے بھی اپنی صحیح میں اس کی روایت کی ہے اور نووی نے کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہے۔)

Hadith 588

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 663
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں کوئیں سے ایک برتن میں پانی ڈال رہا تھا، آپ نے فرمایا: اے عمار! (رضی اللہ عنہ) کیا کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں میں اپنے اس کپڑے کو دھونا چاہتا ہوں جس میں رینٹھ لگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: اے عمار (رضی اللہ عنہ) کپڑا تو صرف پانچ چیزوں کے لگ جانے سے دھویا جاتا ہے۔ (1) پاخانہ (2) پیشاب (3) قے (4) خون اور (5) منی سے، اے عمار (رضی اللہ عنہ) تمہارا رینٹھ اور تمہارے آنکھوں کے آنسو اور یہ پانی جو تمہارے برتن میں ہے یہ سب برابر ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ رینٹھ اور آنسو نجس نہیں ہیں۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 1

Mustadrak.

(1) [Narrated by Al-Daraqutni from the hadith of Thabit bin Hammad, from Ali bin Zayd, from Sa'id bin al-Musayyib, from Ammar. Ali bin Zayd is Narrated by Muslim along with others, and Al-‘Ajli said there is no harm in him, and his narrations are written. Al-Hakim also narrated it in his "Mustadrak." Al-Tirmidhi said he was trustworthy. As for Thabit bin Hammad, no one accused him of fabrication except Al-Bayhaqi, although Al-Bayhaqi mentioned him in "Al-Ma'rifah" without attributing the accusation of fabrication. Al-Daraqutni and Ibn 'Adi said similar things. Al-Bazzar said Thabit bin Hammad was reliable, but there is no knowledge of him narrating anything except this hadith. He had a supporting narrator, and it was also narrated by Al-Tabarani in his "Al-Mu'jam Al-Kabir," where [Narrated by Ibrahim. This was stated by the scholar Al-‘Aini in his explanation of "Al-Hidayah."

Note 1

قوله

(۱) قوله: رواه الدار قطني من حديث ثابت بن حماد عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن عمار الحديث. علي بن زيد روى له مسلم مقرونا به، وقال العجلي: لا بأس به. وفي موضع آخر يكتب حديثه، وروى له الحاكم في «المستدرك». وقال الترمذي: صدوق، وأما ثابت فلم يتهمه أحد بالوضع غير البيهقي، مع أنه ذكره في كتابه «المعرفة» ولم ينسبه إلى الوضع. وإنما حكي فيه قول الدار قطني وابن عدي، وقال البزار: وثابت بن حماد كان ثقة، ولا يعرف أنه روى غير هذا الحديث، وله متابع، ورواه الطبراني في معجمه الكبير، وفيه إبراهيم. قاله العلامة العيني في شرح الهداية».

Hadith 589

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 664
سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے منی کے متعلق دریافت کیا کہ اگر وہ کپڑے کو لگ جائے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو لیا کرتی تھی اور آپ اسی کپڑے میں نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور دھونے۔ (یعنی تری) کا نشان آپ کے کپڑے پر رہتا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 289a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 229 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 590

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 665
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہیں دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ جس میں جماع کرتے تو وہ جواب دیں کہ ہاں جب اس کپڑے میں نجاست نہیں پاتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی اور ابوداؤد نے کی ہے اور اس کی
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 366 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 168 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.528

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اسناد صحیح ہے۔) ابن الملک اور شیخ عبدالحق رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ منی نجس ہے اور یہی قول امام المذہب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، اور اسی طرح عورت کے شرم گاہ کی تری بھی نجس ہے اس لئے کہ وہ منی سے جو ناپاک ہے ملی ہوئی ہوتی ہے۔ (تعلیق احیاء السنن میں ایسا ہی مذکور ہے۔)12

Hadith 591

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 666
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (ایک شیرخوار) بچہ لایا گیا اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور آپ نے اس پر سے پانی بہا دیا۔ اس کی روایت بخاری نسائی اور امام محمد نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 222 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور امام طحاوی نے یہ صراحت کی ہے کہ پانی بہا دینے کا حکم درحقیقت دھو دینے کا ہے، چنانچہ اگر کسی آدمی کے کپڑے کو غلاظت لگ جائے اور وہ اس پر پانی بہا دے یہاں تک کہ پانی اس غلاظت کو دور کر دے تو اس کا کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔

Hadith 592

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 667
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شیرخوار بچہ لایا گیا اس نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 286a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 593

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 668
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بچے لائے جاتے تھے تو آپ ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک دفعہ ایک بچہ آپ کے پاس لایا گیا تو اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس پر پانی خوب بہا دو۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، جس کی اسناد صحیح ہے۔)

[Narrated by Al-Tahawi, and its chain is authentic]

Hadith 594

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 669
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن مبارک پر امام حسن یا امام حسین رضی اللہ عنہما ہیں۔ ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صاحبزادے نے پیشاب فرما دیا، ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن مبارک پر پیشاب کی دھاریں بہہ رہی ہیں، ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم فوراً اُچھٹے کہ ان کو ہٹا دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بچے کو چھوڑ دو اور میرے بچے کو مت گھبرا دو۔ ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 505 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 505

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 595

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 670
سماک بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے لڑکا پیدا ہوگا اور تم اس بچے کو اپنے قثم نامی بچے کے ساتھ دودھ پلاؤ گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں ان کو لے لی۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پیار کر رہے تھے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے آپ پر پیشاب کر دیا تو میں نے ان کو چٹکی توڑی تو صاحبزادے نے رو دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ تم نے میرے بچے کی وجہ سے تکلیف دی، پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس پر خوب بہا دیا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 523 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 523

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 596

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 671
حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ایسے بچے کے پیشاب پر پانی بہاتی تھیں جب تک وہ شیر خوار تھا اور کھانا نہ کھاتا تھا، اور جب بچہ کھانا کھانے لگ جاتا تو اس کے پیشاب کو دھو لیا کرتی تھیں اور لڑکی کے پیشاب کو دھو لیا کرتی تھیں۔ (خواہ وہ کھانا کھائے یا نہ کھائے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 379 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.899

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: شیر خوار بچہ یا بچی اگرچہ کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں دونوں کا پیشاب نجس ہے، بچے کے پیشاب کے لئے خفیف طور سے دھو لینا کافی ہے کیوں کہ بچے کے پیشاب میں بدبو کم ہوتی ہے اور وہ پتلا ہوا کرتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں بچے کے پیشاب کے لئے ”نَضْح“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی خفیف طور سے دھونے کے ہیں۔ ”التَّعْلِيقُ الْمُمَجَّدُ“ میں اسی طرح صراحت کی گئی ہے، لیکن بچی کے پیشاب کو بدبو کی زیادتی اور گاڑھے پن کی وجہ سے مبالغہ کے ساتھ دھونا ضروری ہے، جیسے اور نجاست کو دھویا جاتا ہے ، اسی طرح بچی کے پیشاب کے لئے حدیث میں ”غسل“ کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی اہتمام اور مبالغہ سے دھونے کے ہیں۔ (ماخوذ از مرقات اور التعلیق الممجد۔)12۔

Hadith 597

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 672
عبداللہ بن عُکَیْم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان آیا ہے کہ غیر مذبوح مردار جانوروں کا چمڑا بغیر دباغت کے استعمال نہ کریں اور نہ ان کے پٹھوں سے نفع حاصل کیا کریں۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی ، ابن ماجہ اور طحاوی نے کی ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1729 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4127 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3613 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Nor tendons.

(1) The statement: "Nor tendons." In response to Al-Radd al-Muhtar, it is stated: "The tendons of a dead animal are considered pure according to the well-known opinion," meaning the purity of the tendons, as affirmed in "Al-Wiqayah" and "Al-Durr," among others. It was even mentioned in "Al-Bada'i" and followed in "Al-Fath" that there is no disagreement on this. However, it was criticized in "Al-Bahr" where "Al-Ghayat al-Bayan" mentioned two opinions: one stating it is pure because it is considered bone, and the other stating it is impure because it contains life, and sensory perception can occur through it. The second opinion was confirmed in "Al-Siraj."

Note 1

قوله

(۱) قوله: ولا عصب وقال في رد المحتار: وعصبها أي الميتة طاهر على المشهور، أي من طهارة العصب، كما جزم به في «الوقاية» و«الدر»، وغيرهما، بل ذكر في البدائع وتبعه في «الفتح» أنه لا خلاف فيه، لكن تعقبه في «البحر» بأنه في «غاية البيان ذكر فيه روايتين، إحداهما : أنه طاهر؛ لأنه عظم. والأخرى أنه نجس؛ لأن فيه حياة، والحس يقع به، وصحح في «السراج» الثانية.

Note 1

اور بیہقی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ دباغت سے قبل مردار جانور کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔ اسی طرح ابن حبان نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے اور سنن ابوداؤد میں یہ صراحت ہے کہ نضر بن شمیل نے کہا ہے کہ چمڑے کو ”اِهَاب“ اس وقت تک کہا جاتا ہے جب تک کہ اس کو دباغت نہ دی گئی ہو اور جب اس کی دباغت ہو جائے تو اس کو ”اهاب“ نہیں کہتے بلکہ اس کو ”شَنّ“ اور ”قِرْبَة“ کہتے ہیں۔ ف: غیر مذبوح مردار جانور کے چمڑے کے پاک ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف ہے لیکن ”سراج“ میں فتویٰ اسی پر ہے کہ وہ ناپاک ہے۔