Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah ﷺ said, "When a dog licks the vessel of any one of you, he should pour out its contents and wash it three times."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال کر پی جائے تو اس چیز کو
گرا دو، اور اس برتن کو تین دفعہ دھولو۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے، اور دارقطنی نے بھی اسی
طرح مرفوعاً روایت کی ہے۔)
And the words of Allah, the Almighty: "And purify your garments" (Al-Muddathir: 4), and "From its wool, fur, and hair, as well as its goods until a specified time" (An-Nahl: 80).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب کتا برتن میں منہ
ڈال کر پی جائے تو اس برتن کی چیز کو گرا دو، اور برتن کو تین دفعہ دھولو۔ (اس کی روایت دارقطنی نے
موقوفاً کی ہے اور ”نصب الرایہ“ میں مذکور ہے کہ شیخ تقی الدین رحمہ اللہ نے ”الامام“ میں کہا ہے کہ یہ
سند صحیح ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پی جاتا تو ابو
ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس برتن کی چیز کو گرا دیتے اور اس کے بعد برتن کو تین دفعہ دھو ڈالتے
تھے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)
معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے امام زہری رضی
اللہ عنہ سے کتّے کے متعلق دریافت کیا جب کہ وہ برتن میں منہ ڈال کر پی جائے تو امام زہری رضی اللہ
عنہ نے جواب دیا کہ برتن کو تین دفعہ دھولو۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): I used to stay overnight in the mosque during the time of the Messenger of Allah ﷺ when I was a young unmarried man. Dogs would urinate, come and go in the mosque, and nothing would be sprinkled over it. [Narrated by Abu Dawood, who did not comment on it]
Bukhari also narrated something similar, and Abu Dawood said: "This indicates that the earth is purified when it dries."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں شب گزاری کرتا تھا۔ اس زمانے میں بے شادی شدہ نوجوان
تھا، اس وقت کتے مسجد میں پیشاب کرتے اور آیا جایا کرتے تھے لیکن اس کی وجہ سے مسجد کو کچھ بھی نہ
دھویا جاتا تھا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 382 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور اس کی سند کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے جو، ان کے
نزدیک صحت کی علامت ہے، اور بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس
حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین جب خشک ہو جائے تو پاک ہو جاتی ہے۔)
Narrated Muhammad ibn al-Hanafiyyah (may Allah be pleased with him): The purification of the earth is when it dries. [Narrated by Ibn Abi Shaibah, and in another narration from Abu Ja'far al-Baqir (may Allah be pleased with him), the same is reported.
محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ زمین کی پاکی اس کا
خشک ہو جانا ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ کی ایک دوسری روایت میں امام ابو جعفر باقر رضی اللہ عنہ، سے اسی
طرح مروی ہے۔
Narrated Abu Qilabah (may Allah be pleased with him): The dryness of the earth purifies it. [Narrated by Abd al-Razzaq, and Ibn Abi Shaibah also narrated something similar, and its narrators are trustworthy.
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ زمین کا خشک ہو جانا ہی اس
کے لئے پاک ہے۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔) اور ابن ابی شیبہ کی روایت بھی اسی
طرح ہے اور ابن ابی شیبہ کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں۔
Narrated Asma bint Abu Bakr (may Allah be pleased with her): A woman asked the Messenger of Allah ﷺ: "O Messenger of Allah, what should one of us do if her garment is stained with blood from menstruation?" The Messenger of Allah ﷺ replied, "If one of you is stained with blood from menstruation, she should scrape it off, then wash it with water, and then pray in it." This is agreed upon by Bukhari and Muslim. Ibn Abi Shaibah also narrated in his Musannaf from Sa'id ibn Jubayr: "Some of the mothers of the believers would scrape the blood off their garments with their saliva."
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ بتلائیے کہ
ہم میں سے کسی عورت کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اس کو چٹکیوں
سے ملے، پھر اس کو پانی سے دھولے، پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق کی ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، سے روایت کی
ہے کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیبیاں اپنے
کپڑے سے خون کو تھوک کے ذریعہ مل کر پاک فرما لیا کرتی تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 227 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 291a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Then wash it with water
(1) The statement: "Then wash it with water" — Al-Khattabi said: This provides evidence that water is specified for removing impurity. Al-Bayhaqi also used this argument in his Sunan, and it is the view of Malik, Shafi'i, Ahmad, Muhammad, and Zufar, who said that purification from impurity can only be achieved by something that purifies the ritual impurity (hadath). However, the Imam A'zam (Abu Hanifa) and Abu Yusuf held that purification can be done with any pure liquid. You are aware that they have no proof against the Hanafi position in this hadith because it deals with the purification of clothing with water, which no one denies. The disagreement concerns purification with something other than water, and the hadith neither negates nor affirms this but remains silent on the matter.
How strange it is that Al-Khattabi and Al-Bayhaqi used this as evidence! Also, the ruling of impurity is lighter than that of ritual impurity, as shown by what has been narrated from Aisha, Sa'id ibn Jubayr, and others, as well as the permissibility of praying with a stone (to remove impurity), even if some traces of impurity remain. In contrast, if a trace of ritual impurity remains on the body, such as a tiny particle that was not washed, the purification is invalid unless it is washed off. So, understand this. This is a brief summary of what was mentioned in "Aujaz al-Masalik," and those who wish for further details should look there.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثم لتنضحه بماء إلخ : قال الخطابي : إن فيه دليلا على تعيين الماء لإزالة النجاسة، وكذا استدل به البيهقي في سنته، وهو مذهب مالك والشافعي وأحمد ومحمد وزفر؛ إذ قالوا: إن الطهارة من النجاسة لا تحصل إلا بما يحصل به طهارة الحدث. وقال الإمام الأعظم وأبو يوسف ما يجوز التطهير بكل مائع طاهر. وأنت خبير بأنه لا حجة لهم على الحنفية في هذا الحديث؛ لأن فيه طهارة الثوب بالماء، ولا ينكره أحد. والخلاف في الطهارة بغير الماء، والحديث لا يتناوله نفيا ولا إثباتا، بل ساكت عنه.
فليت شعري ! كيف استدل به الخطابي والبيهقي ؟ وأيضًا فحكم النجاسة أخف من الحدث بدليل ما ورد عن عائشة وسعيد بن جبير وغيرهما، وبدليل صحة صلاة المجمر بالحجر، ولو بقي هناك أثر النجاسة، بخلاف الطهارة عن الحدث لو بقي على البدن لمعة كالذرة لم يصبه الماء لم تصح طهارته إلا بغسلها، فافهم. هذا نبذة مما ذكره في أوجز المسالك، ومن شاء التفصيل فلينظر ثمه.
Note 1
ف: اس حدیث کے الفاظ ﴿ثُمَّ لِتَنْضَحَهُ بِمَاءٍ﴾ (یعنی پھر کپڑے کو پانی سے دھولے) اس
کے متعلق خطابی نے کہا ہے کہ اس ارشاد میں اس بات کی دلیل ہے کہ نجاست دور کرنے کے لئے پانی
ہی معین ہے اور بیہقی نے بھی اپنی سنن میں اس حدیث سے یہی استدلال کیا ہے کہ نجاست پانی سے ہی
دور کی جائے، اور امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام محمد اور امام زفر رحمہم اللہ کا، یہی مذہب ہے، یہ سب
حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ جس چیز سے حدث دور ہوتا ہے، نجاست سے پاکی اسی چیز کے ذریعہ
حاصل ہوتی ہے لیکن امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نجاست سے پاکی حاصل کرنا
ہر ایسی چیز کے ذریعہ جائز ہے جو بہنے والی اور پاک ہو۔
یہ ایک واضح بات ہے کہ اس حدیث کو حنفیہ کے خلاف دلیل نہیں بنایا جا سکتا کیوں کہ اس
حدیث سے صرف یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کپڑے کی پاکی پانی سے حاصل ہوئی ہے جس کا انکار ناممکن ہے
اور اختلاف تو اس بارے میں ہے کہ کیا پانی کے سوا کسی دوسری چیز سے بھی پاکی حاصل کی جا سکتی ہے یا
نہیں؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث جس میں پانی سے طہارت حاصل کرنے کا ذکر ہے اس
میں اس بات کا حصر نہیں ہے کہ پانی کے سوا کسی اور بہنے والی چیز سے پاکی حاصل نہ کی جائے بلکہ اس
حدیث میں پانی کے سوا کسی اور چیز سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں سکوت موجود ہے، دوسری
چیز سے پاکی حاصل کرنے کا نہ تو ثبوت ہے نہ نفی بلکہ ابن ابی شیبہ کی وہ حدیث جو سعید بن جبیر رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے جس میں ام المومنین نے اپنے کپڑے کی طہارت تھوک کے ذریعہ کی ہے اس میں
پاک بہنے والی چیز سے طہارت حاصل کرنے کا ثبوت موجود ہے، امام بیہقی اور خطابی نے اپنی دلیل میں
جو نجاست کا قیاس حدث پر کیا ہے اور جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نجاست دور کرنے کے
لئے پانی اسی طرح لازمی ہے جس طرح حدث دور کرنے کے لئے پانی باتفاق لازمی ہے، صحیح نہیں ہے
کیوں کہ نجاست کا حکم اور حدث کے حکم میں کافی فرق ہے اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور
اس کے بعد آنے والی حدیثیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ بہنے والی پاک چیز سے پاکی حاصل کی
جا سکتی ہے۔
علاوہ ازیں نجاست کے دور کرنے کے لئے ڈھیلا یا پتھر استعمال کیا جائے اور پانی سے طہارت
کے بغیر نماز پڑھ لی جائے تو ایسے شخص کی نماز درست ہے حالانکہ صرف ڈھیلے یا پتھر سے طہارت پر اکتفاء
کرنے میں نجاست کا اثر باقی رہ جاتا ہے، برخلاف حدث کے کہ اس میں اگر بال برابر جگہ بھی خشک رہ
جائے تو حدث دور نہیں ہوتا تو اس طرح یہ نتیجہ نکلا کہ پاکی کے حاصل کرنے میں حدث پر قیاس کرنا
قیاس مع الفارق ہے اور پانی کے علاوہ ہر پاک بہنے والی چیز سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (یہ اوجز
المسالک سے اختصار کر کے لکھا گیا ہے اور جو تفصیل کا طالب ہو وہ اوجز المسالک میں دیکھ لے۔)12
And from Hasan ibn Ali, may Allah be pleased with them, that he saw blood on his shirt, so he spat on it, then rubbed it. It has also been narrated from Umar and Maymun ibn Mehran in a similar manner. Al-Bukhari narrated in the chapter "Can a woman pray in the garment she menstruates in?" from Aisha, who said: "None of us had more than one garment in which we menstruated. When it got stained with blood, she would — meaning she did it — with her saliva, rub it off with her fingernail. And it is narrated that she would wipe it off."
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے قمیص میں خون دیکھا
تو آپ نے خون کی جگہ تھوک کر اس کو مل دیا۔
اور عمر رضی اللہ عنہ اور میمون بن مہران سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ”کیا عورت اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے
جس میں اس کو حیض آیا ہو“ کے باب میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام
المؤمنین نے فرمایا کہ ہم میں سے کسی کو ایک کپڑے کے سوا دوسرا کپڑا نہ تھا، اس لئے حیض کے ایام میں
وہی کپڑا جسم پر رہتا تھا اور جب حیض کا کچھ خون اس میں لگ جاتا تھا تو وہ خون کے دھبہ پر تھوک دیا
کرتی تھیں اور اس کو ناخن سے مل لیتی تھیں اور ایک روایت میں (فَمَصَعَتْهُ) کی بجائے (فَقَصَعَتْهُ)
ہے جس کے معنی بھی ملنے کے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 312 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
فمصعته
(1) The term "فمصعته" refers to "مصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or wiping, and "القصع" with two unpronounced letters: meaning rubbing or scrubbing. This is mentioned in the explanation of "النقاية".
Note 1
قوله
(۱) قوله : فمصعته إلخ والمصع بمهملتين: الإذهاب والقصع بمهملتين: الدلك. كذا في شرح «النقاية».
And from Umm Salama, a woman said to her: "I drag my garment and walk in a dirty place." She (Umm Salama) said: "The Messenger of Allah ﷺ said, 'What follows will purify it.'" [Narrated by Malik, Shafi'i, Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawood, and Darimi]
The woman was the mother of Ibrahim ibn Abdul Rahman ibn Awf.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان سے ایک عورت نے دریافت کیا کہ
میرا دامن لمبا ہوا کرتا ہے اور میں ناپاک جگہ سے گزرتی ہوں (تو کیا میرا دامن پاک رہے گا؟) تو
اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
کپڑے کو اس مقام کے بعد کی جگہ پاک کر دیتی ہے۔ (اس کی روایت امام مالک، امام شافعی، امام
احمد، ترمذی، ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے) اور دارمی نے کہا ہے کہ وہ سوال کرنے والی عورت ابراہیم
بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 143 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 383 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
in the dirty place
(1) The phrase "in the dirty place" refers specifically to a dry place. This interpretation, assuming the authenticity of the hadith, is agreed upon by all, because there is consensus that if a garment is soiled by impurity, it is only purified by washing, unlike a shoe, which has differing opinions. Thus, the statement about purification should be understood metaphorically. This is as mentioned in "Al-Mirqat."
Note 1
قوله
(۱) قوله: في المكان القذر: هذا يقيد باليابس، وهذا التأويل على تقدير صحة الحديث متعين عند الكل؛ لانعقاد الإجماع على أن الثوب إذا أصابته نجاسة لا يطهر إلا بالغسل، بخلاف الخف؛ فإن فيه خلافًا، فإطلاق التطهير مجازي. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: حدیث میں ناپاک جگہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ جگہ سے مراد خشک جگہ
ہے اس پر دامن گزر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا اگر جگہ تر ہو تو اس کا یہ حکم نہیں ہوگا کیوں کہ اس بات پر
اجماع ہے کہ کپڑے کو جب نجاست لگ جائے تو وہ دھونے سے ہی پاک ہوتا ہے البتہ چمڑے کے
موزے کا یہ حکم نہیں ہے اور اس کا حکم بھی آئندہ حدیثوں میں مذکور ہے اور اس حدیث میں زمین کا
کپڑے کو پاک کر دینے کا جو ذکر موجود ہے قرینہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ عورت کا دامن خشک
زمین پر ہی سے گزرتا تھا۔ (ماخوذ از مرقات۔)12۔
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you steps on impurity with his sandal, then dust (or earth) is its purification." [Narrated by Abu Dawood with a Sahih chain of narration, and a similar narration is found in Ibn Majah.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے سے نجاست کو روند دے تو مٹی اس کو
پاک کرنے والی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے صحیح سند کے ساتھ کی ہے اور ابن ماجہ سے یہ حدیث بالمعنی مروی
ہے اور حاکم نے بھی مستدرک میں اس کی روایت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے
موافق ہے۔
Narrated Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you comes to the mosque, let him look. If he sees impurity or filth on his sandals, let him wipe it off and pray in them."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد کو آئے تو دیکھ لے کہ اگر اس کے جوتے میں
کوئی گندی چیز یا نجاست موجود ہے تو اس کو رگڑ دے اور ان جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے بھی اس طرح روایت کی ہے۔)
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you steps on impurity with his sandals or shoes, then their purification is in the dust (or earth)."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے یا اپنے موزوں سے گندی چیز کو روند دے تو ان دونوں
کو پاک کرنے والی مٹی ہے (یعنی مٹی پر رگڑنے سے موزہ پاک ہو جاتا ہے۔ اس کی روایت طحاوی اور
ابن خزیمہ نے کی ہے۔)
Narrated Yahya ibn Wahab: Ibn Abbas was asked about someone who went out to pray and stepped on filth. He said: "If it was wet, he should wash what it touched, and if it was dry, it will not harm him."
اور یحییٰ بن وثاب سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ
کوئی شخص نماز کے لئے نکلا اور اس نے غلاظت کچل دی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ
اگر غلاظت تر ہو تو جس چیز کو وہ لگ جائے تو اس کو دھو لے اور اگر خشک ہو تو اس کے لئے ضرر رساں
نہیں ہے۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کے روایت کرنے والے صحیح کے راوی
ہیں۔)
ف: اس حدیث میں تر نجاست کو دور کرنے کے لئے دھونا ثابت ہے اور اگر خشک نجاست ہو تو
رگڑ دینا کافی ہے بالکل اسی طرح اس حدیث سے پہلے کی حدیثیں گو کہ وہ مطلق ہیں ان سے بھی یہی حکم
مراد ہے کہ اگر نجاست تر ہو تو دھولی جائے اور اگر خشک ہو تو زمین پر رگڑ دینے سے پاک ہو جاتی ہے
12۔
Narrated by Al-Aswad and Humam from Aisha (may Allah be pleased with him): She said, "I used to scrape semen off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated by Muslim and our Imam Abu Hanifa]
In a narration from Alqama and Al-Aswad, and our Imam Abu Hanifa from Aisha (may Allah be pleased with him), it is mentioned similarly, and it includes: "Then he would pray in them."
Al-Tahawi said: "There is no evidence in this for the purification of semen in our view. It may be that she did this to purify the garment, but semen itself is impure, as is narrated regarding what happens to sandals and shoes when they step on impurity, for dust is sufficient for purifying them. There is no evidence here proving the purification of the impurity itself. Similarly, what is narrated regarding semen might be understood in the same way; the garment becomes clean when it is scraped off, but semen is still impure in itself, just as the impurity in the sandal is removed with dust, while it remains impure in itself."
اسود اور ہمام رضی اللہ عنہما نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے
آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے خشک منی کو کھرچ لیا کرتی تھی
۔(اس کی روایت مسلم نے اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔)
اور علقمہ، اسود اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ کی سند سے ام المومنین عائشہ رضی
اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس روایت، میں یہ اضافہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اسی کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ، ہمارے
مذہب کے مطابق اس حدیث میں منی کے پاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس حدیث میں حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو مذکور ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ
لیا کرتی تھیں تو اس بارے میں یہ صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کپڑے سے خشک منی کو
جس کا اثر کپڑے میں سرایت نہ کیا ہو، ایسے طریقہ سے مل دیا کرتی تھیں جس سے کپڑا پاک ہو جاتا تھا
اور اس طرح رگڑنا بھی کپڑے کو پاک کرنے کا ایک طریقہ ہے، منی درحقیقت ناپاک ہے، اس کی
توضیح یہ ہے کہ جوتے یا موزے کو خشک ناپاک چیز لگ جائے تو اس نجاست کو دور کرنے کے بارے
میں روایت یوں ہے کہ پانی سے دھونے کے بجائے مٹی پر رگڑنا کافی ہے اور چمڑے کو پاک کرنے کا
یہ بھی ایک طریقہ ہے تو اس طرح ثابت ہوا کہ اس روایت میں بھی کوئی دلیل درحقیقت نجس شئے کے
پاک ہونے کی نہیں ہے تو جیسے چمڑے کے پاک ہونے سے نجاست کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا، اسی
طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں کپڑا جس کو خشک منی لگی ہوئی ہو رگڑنے سے کپڑا
تو پاک ہوگا لیکن کپڑے کے پاک ہونے سے منی کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا۔12۔
Narrated Aisha (may Allah be pleased with him): She said, "I used to scrape the semen off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ) when it was dry, and I would wash it when it was wet." [Narrated by Al-Daraqutni, Al-Bayhaqi, Al-Tahawi, and Abu Awana in his Sahih]
Al-Naymuwi said: "Its chain of narration is authentic."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ لیا کرتی تھی جب وہ خشک ہوتی اور کپڑے کو دھو لیا
کرتی تھی اگر منی تر ہوتی۔ (اس کی روایت دارقطنی، بیہقی اور طحاوی نے کی ہے اور ابو عوانہ نے بھی اپنی
صحیح میں اس کی روایت کی ہے اور نووی نے کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہے۔)
Narrated by Ammar bin Yasir (may Allah be pleased with him): He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was on a donkey, drawing water into a container. He said: 'O Ammar, what are you doing?' I replied: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you, I am washing my garment from sputum that has stained it.' He said: 'O Ammar, garments are only washed from five things: from excrement, urine, vomit, blood, and semen. O Ammar, your sputum, your tears, and the water in your container are all the same.'"
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں کوئیں سے ایک برتن میں پانی ڈال رہا تھا، آپ نے
فرمایا: اے عمار! (رضی اللہ عنہ) کیا کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں میں اپنے اس کپڑے کو دھونا چاہتا ہوں جس میں رینٹھ لگ گیا
ہے، آپ نے فرمایا: اے عمار (رضی اللہ عنہ) کپڑا تو صرف پانچ چیزوں کے لگ جانے سے دھویا جاتا
ہے۔ (1) پاخانہ (2) پیشاب (3) قے (4) خون اور (5) منی سے، اے عمار (رضی اللہ عنہ) تمہارا
رینٹھ اور تمہارے آنکھوں کے آنسو اور یہ پانی جو تمہارے برتن میں ہے یہ سب برابر ہیں) اس سے
معلوم ہوا کہ رینٹھ اور آنسو نجس نہیں ہیں۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
(1) [Narrated by Al-Daraqutni from the hadith of Thabit bin Hammad, from Ali bin Zayd, from Sa'id bin al-Musayyib, from Ammar. Ali bin Zayd is Narrated by Muslim along with others, and Al-‘Ajli said there is no harm in him, and his narrations are written. Al-Hakim also narrated it in his "Mustadrak." Al-Tirmidhi said he was trustworthy. As for Thabit bin Hammad, no one accused him of fabrication except Al-Bayhaqi, although Al-Bayhaqi mentioned him in "Al-Ma'rifah" without attributing the accusation of fabrication. Al-Daraqutni and Ibn 'Adi said similar things. Al-Bazzar said Thabit bin Hammad was reliable, but there is no knowledge of him narrating anything except this hadith. He had a supporting narrator, and it was also narrated by Al-Tabarani in his "Al-Mu'jam Al-Kabir," where [Narrated by Ibrahim. This was stated by the scholar Al-‘Aini in his explanation of "Al-Hidayah."
Note 1
قوله
(۱) قوله: رواه الدار قطني من حديث ثابت بن حماد عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن عمار الحديث. علي بن زيد روى له مسلم مقرونا به، وقال العجلي: لا بأس به. وفي موضع آخر يكتب حديثه، وروى له الحاكم في «المستدرك». وقال الترمذي: صدوق، وأما ثابت فلم يتهمه أحد بالوضع غير البيهقي، مع أنه ذكره في كتابه «المعرفة» ولم ينسبه إلى الوضع. وإنما حكي فيه قول الدار قطني وابن عدي، وقال البزار: وثابت بن حماد كان ثقة، ولا يعرف أنه روى غير هذا الحديث، وله متابع، ورواه الطبراني في معجمه الكبير، وفيه إبراهيم. قاله العلامة العيني في شرح الهداية».
Narrated from Sulaiman bin Yasaar: I asked Aisha about semen that touches the garment, and she said: "I used to wash it from the Prophet's garment, and he would go out for prayer, with the mark of washing on his garment." This is agreed upon by both Bukhari and Muslim.
سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ام
المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے منی کے متعلق دریافت کیا کہ اگر وہ کپڑے کو لگ جائے تو اس کے
بارے میں کیا حکم ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
کپڑے سے منی کو دھو لیا کرتی تھی اور آپ اسی کپڑے میں نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور
دھونے۔ (یعنی تری) کا نشان آپ کے کپڑے پر رہتا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی
ہے۔)
Narrated from Muawiya bin Abi Sufyan: He asked Umm Habiba, the wife of the Prophet: "Did the Messenger of Allah ﷺ pray in the garment in which he had sexual relations?" She replied: "Yes, if there was no impurity in it." [Narrated by Al-Nasa'i and Abu Dawood, and its chain is authentic]
And Ibn al-Malik and Sheikh Abdul Haqq said: "These hadiths are evidence for the impurity of semen, as is the position of Imam Abu Hanifa." Also, the moisture of a woman's private part is impure, as it is mixed with the impure semen, as stated in the commentary of "Ihya' al-Sunan."
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ انہوں نے ام حبیبہ رضی
اللہ عنہا سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہیں دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ جس میں جماع کرتے تو وہ جواب دیں کہ ہاں
جب اس کپڑے میں نجاست نہیں پاتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی اور ابوداؤد نے کی ہے اور اس کی
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اسناد صحیح ہے۔) ابن الملک اور شیخ عبدالحق رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی
ہیں کہ منی نجس ہے اور یہی قول امام المذہب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، اور اسی طرح عورت کے شرم
گاہ کی تری بھی نجس ہے اس لئے کہ وہ منی سے جو ناپاک ہے ملی ہوئی ہوتی ہے۔ (تعلیق احیاء السنن
میں ایسا ہی مذکور ہے۔)12
Narrated from Aisha: The Messenger of Allah ﷺ was brought a child who urinated on his garment. He called for water and poured it over it. [Narrated by Bukhari, Al-Nasa'i, and Muhammad]
Al-Tahawi narrated something similar and said: "The ruling of pouring water is the same as washing; do you not see that if a man’s garment touches filth and he follows it with water until it is washed away, his garment has become purified?"
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (ایک شیرخوار) بچہ لایا گیا اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
کپڑے پر پیشاب کر دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور آپ نے اس پر سے پانی
بہا دیا۔ اس کی روایت بخاری نسائی اور امام محمد نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 222 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور امام طحاوی نے یہ صراحت کی ہے کہ پانی بہا دینے کا حکم درحقیقت دھو دینے کا ہے، چنانچہ اگر کسی
آدمی کے کپڑے کو غلاظت لگ جائے اور وہ اس پر پانی بہا دے یہاں تک کہ پانی اس غلاظت کو دور
کر دے تو اس کا کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔
Narrated from Aisha: The Messenger of Allah ﷺ was brought a child who was nursing, and the child urinated in his lap. He called for water and poured it over it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شیرخوار بچہ لایا گیا اس نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ نے
پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Narrated from Aisha: The Messenger of Allah ﷺ used to be brought children and would pray for them. Once a child was brought, and he urinated on him. He said: "Pour water over him."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بچے لائے جاتے تھے تو آپ ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک دفعہ
ایک بچہ آپ کے پاس لایا گیا تو اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس پر پانی
خوب بہا دو۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، جس کی اسناد صحیح ہے۔)
Narrated from Abu Layla: He was with the Messenger of Allah ﷺ, and on his abdomen was either Hasan or Husayn. The child urinated, and I saw his urine on the abdomen of the Messenger of Allah ﷺ. We rushed to him, and he said: "Leave my son, and do not scare him." Then he called for water and poured it over him.
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
پاس تھے انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن مبارک پر امام حسن یا امام حسین
رضی اللہ عنہما ہیں۔ ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صاحبزادے نے پیشاب فرما دیا، ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ
کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن مبارک پر پیشاب کی دھاریں بہہ
رہی ہیں، ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم فوراً اُچھٹے کہ ان کو ہٹا دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ میرے بچے کو چھوڑ دو اور میرے بچے کو مت گھبرا دو۔ ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر
آپ نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی
طرح روایت کی ہے۔)
Narrated from Simak bin Harb: Umm al-Fadl said: "O Messenger of Allah, I saw a part of your body in my house." He replied: "Fatimah will give birth to a boy, and you will nurse him with Qutham’s milk." She gave birth to Husayn, and I took him. While he was kissing him, he urinated on him. I pinched him, and he cried. He then said: "You have hurt me in my son," and then he brought water and poured it over him.
سماک بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام فضل رضی اللہ
عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا
میرے گھر میں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے لڑکا پیدا ہوگا
اور تم اس بچے کو اپنے قثم نامی بچے کے ساتھ دودھ پلاؤ گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے
حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں ان کو لے لی۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پیار
کر رہے تھے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے آپ پر پیشاب کر دیا تو میں نے ان کو چٹکی توڑی تو
صاحبزادے نے رو دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ تم نے میرے بچے کی
وجہ سے تکلیف دی، پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس پر خوب بہا دیا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی
ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Narrated from Ahshan, from his mother: She saw Umm Salama pouring water over the urine of a child who had not yet eaten. When the child ate, she washed him. She used to wash the urine of a female child.
حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے
روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ایسے بچے کے پیشاب پر پانی بہاتی
تھیں جب تک وہ شیر خوار تھا اور کھانا نہ کھاتا تھا، اور جب بچہ کھانا کھانے لگ جاتا تو اس کے پیشاب
کو دھو لیا کرتی تھیں اور لڑکی کے پیشاب کو دھو لیا کرتی تھیں۔ (خواہ وہ کھانا کھائے یا نہ کھائے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: شیر خوار بچہ یا بچی اگرچہ کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں دونوں کا پیشاب نجس ہے، بچے کے
پیشاب کے لئے خفیف طور سے دھو لینا کافی ہے کیوں کہ بچے کے پیشاب میں بدبو کم ہوتی ہے اور وہ پتلا
ہوا کرتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں بچے کے پیشاب کے لئے ”نَضْح“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس
کے معنی خفیف طور سے دھونے کے ہیں۔
”التَّعْلِيقُ الْمُمَجَّدُ“ میں اسی طرح صراحت کی گئی ہے، لیکن بچی کے پیشاب کو بدبو کی
زیادتی اور گاڑھے پن کی وجہ سے مبالغہ کے ساتھ دھونا ضروری ہے، جیسے اور نجاست کو دھویا جاتا ہے
، اسی طرح بچی کے پیشاب کے لئے حدیث میں ”غسل“ کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی اہتمام اور مبالغہ
سے دھونے کے ہیں۔ (ماخوذ از مرقات اور التعلیق الممجد۔)12۔
Narrated from Abdullah bin Hakim: We received a letter from the Messenger of Allah ﷺ stating: "Do not benefit from the dead body by using its skin or tendons." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawood, Al-Nasa'i, Ibn Majah, and Al-Tahawi]
Al-Bayhaqi said: "This indicates a prohibition on benefiting from the skin of a dead animal before it is tanned." Ibn Hibban also mentioned this in his Sahih. And in Sunan Abu Dawood, it was stated by Al-Nadr bin Shumayl: "It is called ‘Ihab’ before tanning, and after tanning, it is no longer called ‘Ihab’; it is referred to as a skin or a vessel."
عبداللہ بن عُکَیْم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان آیا ہے کہ غیر مذبوح مردار جانوروں کا چمڑا بغیر دباغت کے
استعمال نہ کریں اور نہ ان کے پٹھوں سے نفع حاصل کیا کریں۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی
، ابن ماجہ اور طحاوی نے کی ہے)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1729 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 4127 (unverified) 94% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3613 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Nor tendons.
(1) The statement: "Nor tendons." In response to Al-Radd al-Muhtar, it is stated: "The tendons of a dead animal are considered pure according to the well-known opinion," meaning the purity of the tendons, as affirmed in "Al-Wiqayah" and "Al-Durr," among others. It was even mentioned in "Al-Bada'i" and followed in "Al-Fath" that there is no disagreement on this. However, it was criticized in "Al-Bahr" where "Al-Ghayat al-Bayan" mentioned two opinions: one stating it is pure because it is considered bone, and the other stating it is impure because it contains life, and sensory perception can occur through it. The second opinion was confirmed in "Al-Siraj."
Note 1
قوله
(۱) قوله: ولا عصب وقال في رد المحتار: وعصبها أي الميتة طاهر على المشهور، أي من طهارة العصب، كما جزم به في «الوقاية» و«الدر»، وغيرهما، بل ذكر في البدائع وتبعه في «الفتح» أنه لا خلاف فيه، لكن تعقبه في «البحر» بأنه في «غاية البيان ذكر فيه روايتين، إحداهما : أنه طاهر؛ لأنه عظم. والأخرى أنه نجس؛ لأن فيه حياة، والحس يقع به، وصحح في «السراج» الثانية.
Note 1
اور بیہقی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ
دباغت سے قبل مردار جانور کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔ اسی طرح ابن حبان نے اپنی صحیح
میں ذکر کیا ہے اور سنن ابوداؤد میں یہ صراحت ہے کہ نضر بن شمیل نے کہا ہے کہ چمڑے کو ”اِهَاب“
اس وقت تک کہا جاتا ہے جب تک کہ اس کو دباغت نہ دی گئی ہو اور جب اس کی دباغت ہو جائے تو اس
کو ”اهاب“ نہیں کہتے بلکہ اس کو ”شَنّ“ اور ”قِرْبَة“ کہتے ہیں۔
ف: غیر مذبوح مردار جانور کے چمڑے کے پاک ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف ہے لیکن
”سراج“ میں فتویٰ اسی پر ہے کہ وہ ناپاک ہے۔
From Sulaiman bin Yasaar: He said, "I asked Aisha about the impact of semen on a garment." She replied, "I used to wash it from the garment of the Messenger of Allah (peace be upon him), and then he would go out to pray with the mark of washing still on his garment." This is agreed upon by both Bukhari and Muslim.
From Muawiya bin Abi Sufyan: He said, "I asked Umm Habiba, the wife of the Prophet, whether the Messenger of Allah (peace be upon him) used to pray in the place where he used to have relations." She said, "Yes, if there was no impurity there." [Narrated by Nasai and Abu Dawood, and its chain is authentic]
Regarding the above, Ibn al-Malik and Sheikh Abdul Haqq said: These narrations serve as evidence for the impurity of semen, as stated by Imam Abu Hanifa (may Allah be pleased with him). Similarly, the moisture of a woman's private parts is considered impure because it is mixed with the impure semen, as mentioned in the "Ihya' al-Sunan" commentary.
From Aisha: She said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) was presented with a child, and it urinated on his garment. He called for water and sprinkled it on it." Narrated by Bukhari, Nasai, and Muhammad]
And Tahaawi narrated a similar report, stating: "Sprinkling water on it is similar to washing. Do you not see that if a person’s garment is stained with impurity and they follow it with water until the impurity is removed, the garment becomes pure?"
From Aisha: She said, "The Messenger of Allah (peace be upon him) used to be presented with children and would pray for them. Once, a child was brought to him, and it urinated on him. He said, 'Pour water on him generously.'"
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور اس کی سند کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے جو، ان کے نزدیک صحت کی علامت ہے، اور بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین جب خشک ہو جائے تو پاک ہو جاتی ہے۔)