English
Narrated by Al-Aswad and Humam from Aisha (may Allah be pleased with him): She said, "I used to scrape semen off the clothes of the Messenger of Allah (ﷺ)." [Narrated by Muslim and our Imam Abu Hanifa]
In a narration from Alqama and Al-Aswad, and our Imam Abu Hanifa from Aisha (may Allah be pleased with him), it is mentioned similarly, and it includes: "Then he would pray in them."
Al-Tahawi said: "There is no evidence in this for the purification of semen in our view. It may be that she did this to purify the garment, but semen itself is impure, as is narrated regarding what happens to sandals and shoes when they step on impurity, for dust is sufficient for purifying them. There is no evidence here proving the purification of the impurity itself. Similarly, what is narrated regarding semen might be understood in the same way; the garment becomes clean when it is scraped off, but semen is still impure in itself, just as the impurity in the sandal is removed with dust, while it remains impure in itself."
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٨٦ - وَعَنِ الْأَسْوَدِ وَهُمَّامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرِكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُوْلِ اللهِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَإِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ. وَبِرِوَايَةِ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ، وَإِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ : «ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ».
قَالَ الطَّحَاوِيُّ: وَلَيْسَ فِي هَذَا عِنْدَنَا دَلِيْلٌ عَلَى طَهَارَةِ الْمَنِيِّ، فَقَدْ يَجُوْزُ أَنْ يَكُوْنَ كَانَتْ تَفْعَلُ بِهِ هَذَا فَيَطْهَرُ بِذَلِكَ الثَّوْبُ. وَالْمَنِيُّ فِي نَفْسِهِ نَجَسُ، كَمَا قَدْ رُوِيَ فِيْمَا أَصَابَ النَّعْلَ وَالْخُفَّ مِنَ الْأَذَى فَكَانَ التَّرَابُ يُجْزِئُ مِنْ غَسْلِهِمَا، وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ دَلِيْلٌ عَلَى طَهَارَةِ الْأَذَى فِي نَفْسِهِ، فَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ فِي الْمَنِي يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُوْنَ كَانَ حُكْمُهُ كَذَلِكَ، يَظْهَرُ الثَّوْبُ بِإِزَالِتِهِمْ إِيَّاهُ عَنْهُ بِالْفَرْكِ وَهُوَ فِي نَفْسِهِ نَجَسٌ، كَمَا كَانَ الْأَذَى يَظْهَرُ النَّعْلُ بِإِزَالِتِهِمْ إِيَّاهُ عَنْهَا وَهُوَ فِي نَفْسِهِ نَجَسٌ.
اردو
اسود اور ہمام رضی اللہ عنہما نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے
آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے خشک منی کو کھرچ لیا کرتی تھی
۔(اس کی روایت مسلم نے اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔)
اور علقمہ، اسود اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ کی سند سے ام المومنین عائشہ رضی
اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس روایت، میں یہ اضافہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
Commentary and footnotes (1)
Note 1
وآلہ وسلم اسی کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ، ہمارے مذہب کے مطابق اس حدیث میں منی کے پاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو مذکور ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ لیا کرتی تھیں تو اس بارے میں یہ صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کپڑے سے خشک منی کو جس کا اثر کپڑے میں سرایت نہ کیا ہو، ایسے طریقہ سے مل دیا کرتی تھیں جس سے کپڑا پاک ہو جاتا تھا اور اس طرح رگڑنا بھی کپڑے کو پاک کرنے کا ایک طریقہ ہے، منی درحقیقت ناپاک ہے، اس کی توضیح یہ ہے کہ جوتے یا موزے کو خشک ناپاک چیز لگ جائے تو اس نجاست کو دور کرنے کے بارے میں روایت یوں ہے کہ پانی سے دھونے کے بجائے مٹی پر رگڑنا کافی ہے اور چمڑے کو پاک کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے تو اس طرح ثابت ہوا کہ اس روایت میں بھی کوئی دلیل درحقیقت نجس شئے کے پاک ہونے کی نہیں ہے تو جیسے چمڑے کے پاک ہونے سے نجاست کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں کپڑا جس کو خشک منی لگی ہوئی ہو رگڑنے سے کپڑا تو پاک ہوگا لیکن کپڑے کے پاک ہونے سے منی کو پاک نہیں قرار دیا جاسکتا۔12۔