اور یحییٰ بن وثاب سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ
کوئی شخص نماز کے لئے نکلا اور اس نے غلاظت کچل دی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ
اگر غلاظت تر ہو تو جس چیز کو وہ لگ جائے تو اس کو دھو لے اور اگر خشک ہو تو اس کے لئے ضرر رساں
نہیں ہے۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کے روایت کرنے والے صحیح کے راوی
ہیں۔)
ف: اس حدیث میں تر نجاست کو دور کرنے کے لئے دھونا ثابت ہے اور اگر خشک نجاست ہو تو
رگڑ دینا کافی ہے بالکل اسی طرح اس حدیث سے پہلے کی حدیثیں گو کہ وہ مطلق ہیں ان سے بھی یہی حکم
مراد ہے کہ اگر نجاست تر ہو تو دھولی جائے اور اگر خشک ہو تو زمین پر رگڑ دینے سے پاک ہو جاتی ہے
12۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں تر نجاست کو دور کرنے کے لئے دھونا ثابت ہے اور اگر خشک نجاست ہو تو رگڑ دینا کافی ہے بالکل اسی طرح اس حدیث سے پہلے کی حدیثیں گو کہ وہ مطلق ہیں ان سے بھی یہی حکم مراد ہے کہ اگر نجاست تر ہو تو دھولی جائے اور اگر خشک ہو تو زمین پر رگڑ دینے سے پاک ہو جاتی ہے 12۔