اردو
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ بتلائیے کہ
ہم میں سے کسی عورت کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اس کو چٹکیوں
سے ملے، پھر اس کو پانی سے دھولے، پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق کی ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، سے روایت کی
ہے کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیبیاں اپنے
کپڑے سے خون کو تھوک کے ذریعہ مل کر پاک فرما لیا کرتی تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 227 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 291a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Then wash it with water" — Al-Khattabi said: This provides evidence that water is specified for removing impurity. Al-Bayhaqi also used this argument in his Sunan, and it is the view of Malik, Shafi'i, Ahmad, Muhammad, and Zufar, who said that purification from impurity can only be achieved by something that purifies the ritual impurity (hadath). However, the Imam A'zam (Abu Hanifa) and Abu Yusuf held that purification can be done with any pure liquid. You are aware that they have no proof against the Hanafi position in this hadith because it deals with the purification of clothing with water, which no one denies. The disagreement concerns purification with something other than water, and the hadith neither negates nor affirms this but remains silent on the matter. How strange it is that Al-Khattabi and Al-Bayhaqi used this as evidence! Also, the ruling of impurity is lighter than that of ritual impurity, as shown by what has been narrated from Aisha, Sa'id ibn Jubayr, and others, as well as the permissibility of praying with a stone (to remove impurity), even if some traces of impurity remain. In contrast, if a trace of ritual impurity remains on the body, such as a tiny particle that was not washed, the purification is invalid unless it is washed off. So, understand this. This is a brief summary of what was mentioned in "Aujaz al-Masalik," and those who wish for further details should look there.
Note 1
(۱) قوله: ثم لتنضحه بماء إلخ : قال الخطابي : إن فيه دليلا على تعيين الماء لإزالة النجاسة، وكذا استدل به البيهقي في سنته، وهو مذهب مالك والشافعي وأحمد ومحمد وزفر؛ إذ قالوا: إن الطهارة من النجاسة لا تحصل إلا بما يحصل به طهارة الحدث. وقال الإمام الأعظم وأبو يوسف ما يجوز التطهير بكل مائع طاهر. وأنت خبير بأنه لا حجة لهم على الحنفية في هذا الحديث؛ لأن فيه طهارة الثوب بالماء، ولا ينكره أحد. والخلاف في الطهارة بغير الماء، والحديث لا يتناوله نفيا ولا إثباتا، بل ساكت عنه. فليت شعري ! كيف استدل به الخطابي والبيهقي ؟ وأيضًا فحكم النجاسة أخف من الحدث بدليل ما ورد عن عائشة وسعيد بن جبير وغيرهما، وبدليل صحة صلاة المجمر بالحجر، ولو بقي هناك أثر النجاسة، بخلاف الطهارة عن الحدث لو بقي على البدن لمعة كالذرة لم يصبه الماء لم تصح طهارته إلا بغسلها، فافهم. هذا نبذة مما ذكره في أوجز المسالك، ومن شاء التفصيل فلينظر ثمه.
Note 1
ف: اس حدیث کے الفاظ ﴿ثُمَّ لِتَنْضَحَهُ بِمَاءٍ﴾ (یعنی پھر کپڑے کو پانی سے دھولے) اس کے متعلق خطابی نے کہا ہے کہ اس ارشاد میں اس بات کی دلیل ہے کہ نجاست دور کرنے کے لئے پانی ہی معین ہے اور بیہقی نے بھی اپنی سنن میں اس حدیث سے یہی استدلال کیا ہے کہ نجاست پانی سے ہی دور کی جائے، اور امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام محمد اور امام زفر رحمہم اللہ کا، یہی مذہب ہے، یہ سب حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ جس چیز سے حدث دور ہوتا ہے، نجاست سے پاکی اسی چیز کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے لیکن امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نجاست سے پاکی حاصل کرنا ہر ایسی چیز کے ذریعہ جائز ہے جو بہنے والی اور پاک ہو۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ اس حدیث کو حنفیہ کے خلاف دلیل نہیں بنایا جا سکتا کیوں کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کپڑے کی پاکی پانی سے حاصل ہوئی ہے جس کا انکار ناممکن ہے اور اختلاف تو اس بارے میں ہے کہ کیا پانی کے سوا کسی دوسری چیز سے بھی پاکی حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث جس میں پانی سے طہارت حاصل کرنے کا ذکر ہے اس میں اس بات کا حصر نہیں ہے کہ پانی کے سوا کسی اور بہنے والی چیز سے پاکی حاصل نہ کی جائے بلکہ اس حدیث میں پانی کے سوا کسی اور چیز سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں سکوت موجود ہے، دوسری چیز سے پاکی حاصل کرنے کا نہ تو ثبوت ہے نہ نفی بلکہ ابن ابی شیبہ کی وہ حدیث جو سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں ام المومنین نے اپنے کپڑے کی طہارت تھوک کے ذریعہ کی ہے اس میں پاک بہنے والی چیز سے طہارت حاصل کرنے کا ثبوت موجود ہے، امام بیہقی اور خطابی نے اپنی دلیل میں جو نجاست کا قیاس حدث پر کیا ہے اور جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نجاست دور کرنے کے لئے پانی اسی طرح لازمی ہے جس طرح حدث دور کرنے کے لئے پانی باتفاق لازمی ہے، صحیح نہیں ہے کیوں کہ نجاست کا حکم اور حدث کے حکم میں کافی فرق ہے اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیثیں اس بات پر قوی دلیل ہیں کہ بہنے والی پاک چیز سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں نجاست کے دور کرنے کے لئے ڈھیلا یا پتھر استعمال کیا جائے اور پانی سے طہارت کے بغیر نماز پڑھ لی جائے تو ایسے شخص کی نماز درست ہے حالانکہ صرف ڈھیلے یا پتھر سے طہارت پر اکتفاء کرنے میں نجاست کا اثر باقی رہ جاتا ہے، برخلاف حدث کے کہ اس میں اگر بال برابر جگہ بھی خشک رہ جائے تو حدث دور نہیں ہوتا تو اس طرح یہ نتیجہ نکلا کہ پاکی کے حاصل کرنے میں حدث پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اور پانی کے علاوہ ہر پاک بہنے والی چیز سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (یہ اوجز المسالک سے اختصار کر کے لکھا گیا ہے اور جو تفصیل کا طالب ہو وہ اوجز المسالک میں دیکھ لے۔)12