Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: When the month of Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) would release every prisoner and give to every beggar.
(1) The statement: "Every prisoner." This refers to those who are imprisoned for a right owed to Allah or to a person, and their release is a way of emulating Allah's attributes.
Note 1
قوله
(۱) قوله : كل أسير : أي محبوس ممن يستحق الحبس لحق الله، أو لحق العبد بتخليصه منه : تخلقا بأخلاق الله تعالى.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں ہر قیدی کو چھوڑ
دیتے تھے، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رمضان
المبارک میں بندوں کو دوزخ سے نجات دیتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ
کے اخلاق کی پیروی میں قیدیوں کو جو حقوق اللہ یا حقوق العباد میں ماخوذ ہوں، ان کو چھوڑ دیتے تھے۔
حقوق اللہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار تھا کہ قیدیوں کو چاہیں تو چھوڑ
دیں، اس اختیار کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں ہر قیدی کو چھوڑ دیتے تھے۔
اب رہا حقوق العباد تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فریقین کے درمیان تصفیہ فرما کر ایسے قیدیوں
کو بھی چھوڑوا دیتے تھے۔12
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Every prisoner." This refers to those who are imprisoned for a right owed to Allah or to a person, and their release is a way of emulating Allah's attributes.
Note 1
(۱) قوله : كل أسير : أي محبوس ممن يستحق الحبس لحق الله، أو لحق العبد بتخليصه منه : تخلقا بأخلاق الله تعالى.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں ہر قیدی کو چھوڑ دیتے تھے، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں بندوں کو دوزخ سے نجات دیتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اخلاق کی پیروی میں قیدیوں کو جو حقوق اللہ یا حقوق العباد میں ماخوذ ہوں، ان کو چھوڑ دیتے تھے۔ حقوق اللہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار تھا کہ قیدیوں کو چاہیں تو چھوڑ دیں، اس اختیار کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں ہر قیدی کو چھوڑ دیتے تھے۔ اب رہا حقوق العباد تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فریقین کے درمیان تصفیہ فرما کر ایسے قیدیوں کو بھی چھوڑوا دیتے تھے۔12