English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the public wealth is treated as private gain, trust is taken as booty, zakat is considered a burden, knowledge is sought for other than religious purposes, a man obeys his wife and disobeys his mother, draws near his friend and distances his father, voices 1 are raised in mosques, the wicked lead the tribe, the vilest among a people become their leader, a man is honored out of fear of his evil, singing girls and musical instruments appear, wine is drunk, and the last of this nation curses its first 2, then expect a red wind, earthquake, sinking, transformation, pelting, and signs following one another like beads of a broken necklace.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2211 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “voices are raised in mosques” has become common in this era. Some of our scholars have stated that raising voices in the mosque, even in remembrance, is forbidden. His statement: “the wicked lead the tribe” and even more so the oppressors, has also become widespread. The apparent sign is their prevalence, though no era has been free of such things. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “the last of this nation curses its first” indicates that this sign is unique to this nation and did not occur in previous nations, making it fitting as a sign of the Hour. It is supported by the fact that if Jews or Christians were asked who the best of their nation are, they would say the companions of Moses or Jesus (peace be upon them). A cursed and accursed group has emerged, either disbelieving or insane, not content with cursing and slandering them but accusing them of disbelief based on their corrupt delusions, despite the Quran and Sunnah being filled with their virtues. They supported their Prophet in his efforts, strove in Allah’s cause, conquered the lands of Islam, preserved its rulings and sciences from the Master of Mankind, and benefited the great scholars and noble sheikhs. Allah taught us in His Book to say about them: Our Lord, forgive us and our brothers who preceded us in faith (Al-Hashr: 10). Ibn Asakir narrated from Ali, with a raised chain: “My companions will have a slip, but Allah will forgive them due to their precedence with me. Despite our many minor and major sins, we hope for our Lord’s mercy and our Prophet’s intercession (ﷺ). So how about the great ones of this nation and the supporters of this religion? Blessed is he whose own faults preoccupy him from others’ faults.” The Prophet (ﷺ) said: “Do not mention your dead except with good,” and “When my companions are mentioned, refrain.” Ibn Asakir narrated from Jabir, with a raised chain: “Love for Abu Bakr and Umar is from faith, and hatred for them is disbelief. Love for the Ansar is from faith, and hatred for them is disbelief. Love for the Arabs is from faith, and hatred for them is disbelief. Whoever curses my companions, upon him is Allah’s curse. Whoever preserves me regarding them, I will preserve him on the Day of Resurrection.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ظهرت الأصوات في المساجد: هذا مما كثر في هذا الزمان، وقد نص بعض علمائنا بأن رفع الصوت في المسجد - ولو بالذكر - حرام. وقوله: وساد القبيلة فاسقهم وظالمهم بالأولى، وقد كثر هذا أيضًا، والظاهر أن الكثرة هي العلامة، وإلا فلم يكن يخلو زمان عن مثل هذه الأشياء. التقطته من «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: لعن آخر هذه الأمة أولها: فيه إشارة إلى أن هذه العلامة من خصوصيات هذه الأمة، وإنها لم تقع في الأمم السابقة، وهي المناسبة أن تكون من أشراط الساعة، ويؤيده أنه لو قيل لليهود والنصارى من أفضل أهل ملتكم؟ قالوا: أصحاب موسى وعيسى عليه اللاتي، وقد ظهرت طائفة لاعنة ملعونة، إما كافرة أو مجنونة، حيث لم يكتفوا باللعن والطعن في حقهم، بل نسبوهم إلى الكفر بمجرد أوهامهم الفاسدة، مع أن الكتاب والسنة مشحونان بمناقبهم وفضائلهم، وهم الذين نصروا نبيهم في اجتهاده، وجاهدوا في الله حق جهاده، فتحوا بلاد الإسلام، وحفظوا الأحكام، وسائر العلوم من سيد الأنام، وانتفعوا بهم علماء الأعلام ومشايخ الكرام، وقد علمنا الله في كتابه أن نقول في حقهم ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان، وقد روى ابن عساكر عن علي مرفوعا: «يكون لأصحابي زلة يغفرها الله لهم لسابقتهم معي فنحن مع كثرة ذنوبنا من الصغائر والكبائر إذا كنا راجين رحمة ربنا وشفاعة نبينا ﷺ ، فكيف بأكابر هذه الأمة وبأنصار هذه الملة، فطوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس، هذا، وقد قال ﷺ: «لا تذكروا موتاكم إلا بخير». وقال: «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا». وقد أخرج ابن عساكر عن جابر مرفوعا: «حب أبي بكر وعمر من الإيمان وبغضهما كفر، وحب الأنصار من الإيمان وبغضهم كفر، وحب العرب من الإيمان وبغضهم كفر، ومن سب أصحابي فعليه لعنة الله. ومن حفظني فيهم فأنا أحفظه يوم القيامة». التقطته من «المرقاة».
Note 1
۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ بلند ہوں گی) یہ جملہ ان چیزوں میں سے ہے جو موجودہ زمانے میں زیادہ ہو گئے ہیں، اور ہمارے بعض علماء نے وضاحت کی ہے کہ مسجد میں غیر معمولی آواز بلند کرنا اگرچہ ذکر کے ذریعہ ہو منع ہے۔ قولہ: ”وساد القبيلة فاسقهم“ و ظالمهم بالاولى (جب ان میں کا بدکار شخص سرداری کرے گا اور ظالم تو وہ بدرجہ اولیٰ سرداری کرے گا اس کا ظہور بھی کثرت سے ہو چکا ہے اور ان امور کا کثرت سے ہونا ہی قیامت کی علامت ہے، ورنہ کوئی زمانہ ان جیسی چیزوں سے خالی نہیں رہا۔ (ماخوذ از مرقات) 1 قولہ: ولعن آخر هذه الامة اولها (اس امت کے آخری زمانے کے لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے) اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ علامت اسی امت کے ساتھ خاص ہے، سابقہ امتوں میں یہ وقوع پذیر نہیں ہوئی اور اس کا قیامت کی نشانیوں میں سے ہونے کی مناسبت یہی ہے، اور اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اگر یہود و نصاریٰ سے پوچھا جائے کہ تمہاری قوم میں کون افضل ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام کے اصحاب ہیں چنانچہ اب لعنت کرنے والی ایک ملعون جماعت ظاہر ہو چکی ہے یا تو یہ جماعت کافر ہے یا پاگل ہے، کیونکہ اس جماعت نے انکے حق میں صرف لعن طعن پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ محض اپنے فاسد وہم و گمانوں کی بنیاد پر ان کو کفر کی طرف منسوب کردیا، حالانکہ کتاب و سنت انکے مناقب و فضائل سے بھرے ہوئے ہیں اور یہ وہ بزرگ ہیں جنہوں نے دین کی جدوجہد میں اپنے نبی کی مدد کی اور اللہ کی راہ میں جس طرح جہاد کرنا چاہیئے جہاد کا حق ادا کیا، بلاد اسلام فتح کئے، احکام دین اور سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام علوم کی حفاظت کیا اور ان سے بڑے بڑے جلیل القدر علماء اور محدثین کرام نے فیض حاصل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمیں یہ تعلیم فرمائی ہے کہ ہم ان کے حق میں دعا کریں ”رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ“ (59-الحشر:10) اور ابن عساکر نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ میرے صحابہ سے اگر لغزش بھی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ان کے سبقت کرنے کی وجہ سے اسکو معاف کردیتا ہے، اور جب ہم اپنے چھوٹے بڑے گناہوں کی کثرت کے باوجود اپنے رب کی رحمت اور اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں تو امت کے اکابر کا اور اس دین کی نصرت کرنے والوں کے مرتبہ کا کیا عالم ہوگا؟ ۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔۔ پس خوشخبری ہے اس شخص کیلئے جس کو اسکے عیب نے لوگوں کے عیوب سے غافل کردیا ہو اور یہ بات یاد رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے وفات یافتہ لوگوں کا تذکرہ خیر کے ساتھ ہی کیا کرو اور آپ نے فرمایا کہ جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو زبانوں کی حفاظت کرو۔ ابن عساکر نے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے محبت کرنا ایمان ہے اور ان سے بغض کرنا کفر ہے، انصار سے محبت کرنا ایمان ہے اور ان سے بغض کرنا کفر ہے اور عرب سے محبت کرنا ایمان ہے، اور ان سے بغض کرنا کفر ہے۔ جس نے میرے صحابہ کو برا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہے، اور جس نے ان کے حق میں مجھے یاد رکھا تو میں بروز قیامت اسکی حفاظت کروں گا۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 قولہ: الى غير اهله (جب معاملہ نا اہل کے حوالے کیا جائے) یعنی: جس میں استحقاق کے شرائط پائے نہ جائیں جیسے عورتیں، بچے، جہلاء، فاسقین، بخیل، بزدل اور جو قریشی نہ ہوں، اگرچہ کہ وہ زمانے کے بادشاہوں کی نسل سے ہوں اور یہ فرمان خلیفہ کے بارے میں ہے، پھر تم اسی پر قیاس کرو دیگر تمام امراء و ذمہ داران اور مدرس، فتویٰ، امامت و خطابت جیسے مناصب پر فائز حضرات اور اس جیسے دیگر عہدوں پر فائز حضرات کو جس پر ہم عصر لوگ فخر کرتے ہیں۔(مرقات)۔ 1 قولہ: كذابين (جھوٹے لوگ) علامہ مظہر نے کہا: اس سے آپ کی مراد جہالت کی کثرت، علم کی قلت اور موضوع احادیث کو بیان کرنا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گھڑتے ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے نبوت کا دعویٰ کرنا مراد لیا جائے، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور آپ کے بعد کے زمانے میں ہوا، یا ان سے ایسی جماعت مراد لی جائے جو غلط خواہشات اور جھوٹی باتوں کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے باطل عقیدہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسا کہ تمام بدعتی لوگ کرتے ہیں۔(مرقات)۔ 2 قولہ: يتقارب الزمان (زمانہ جلد گزرنے لگے گا) یعنی دن اور راتیں چھوٹے ہوجائیں گے اور یہاں یہی بات مناسب ہے، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”سال مہینہ کی طرح ہوجائے گا“ علامہ توربشتی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کو اس معنی پر محمول کیا جاسکتا ہے کہ زمانہ میں برکت نہیں رہے گی اور ہر جگہ اس کا فائدہ ختم ہوجائے گا، یا اس پر محمول کیا جاسکتا ہے کہ لوگ مصائب و مشکلات کی وجہ سے کثرت سے فکروں میں مبتلا رہیں گے اور بڑے بڑے فتنوں میں دل گھرے ہوئے ہونے کی وجہ سے --- بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر --- ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ وہ محسوس نہیں کرسکیں گے کہ دن رات کیسے گزر گئے۔ اور علامہ سید نے کہا: مصیبت کے دن کا دراز معلوم ہونا اس کے خلاف نہیں ہے؛ کیونکہ جب احساس وشعور رہتا ہے تو دراز معلوم ہوتا ہے اور ہم یہاں جو بیان کئے ہیں وہ ایسا وقت ہے جس میں آدمی حیرت زدہ ہو جائیگا اور اس کے ہوش اڑ جائیں گے تو ایسے وقت دن کب گزر گئے محسوس نہیں ہوگا۔ اور علامہ خطابی نے کہا یہ حضرت مہدی علیہ السلام کے یا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے یا دونوں کے زمانہ میں ہوگا میں کہتا ہوں کہ یہ آخری بات ہی راجح ہے؛ کیونکہ یہ صورت حال دجال کے نکلنے کے وقت ہوگی اور دجال کا نکلنا ان دونوں حضرات کے زمانے میں رہیگا۔ (ماخوذ از مرقات اور حواشی سید)۔ 1 قوله: تبلغ المساكن اهاب او ايهاب ۔ علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ مدینہ منورہ کی آبادی اتنی زیادہ ہو جائیگی یہاں تک کہ وہاں کے رہنے والوں کے مکانات مقام اہاب یا ایہاب تک پہنچ جائیں گے، راوی کو جگہ کے نام کے بارے میں شک ہو گیا، یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مقام ان دونوں ناموں کے ساتھ پکارا جاتا ہو، ایسی صورت میں لفظ او ان دونوں ناموں کے درمیان تخییر کے لئے ہوگا۔ (مرقات)۔ 2 قوله: في آخر الزمان خليفة ۔ (آخری زمانہ میں ایک خلیفہ ہوں گے) اس سے مراد خلیفہ مہدی ہیں، یا پھر کوئی دوسرے خلیفہ بھی ہو سکتے ہیں۔ (لمعات)۔ 1 قولہ: ياليتني كنت مكان صاحب هذا القبر۔ (ہائے کاش میں اس صاحب قبر کی جگہ ہوتا) یہ صورت حال فتنوں کی کثرت اور دین کے جانے کے ڈر سے ہوگی، جو باطل کے غلبہ اور معاصی و منکرات کے عام ہو جانے سے ہوگا۔ (علامہ کرمانی) 1 قوله: ليس به الدين الا البلاء. (سوائے مصیبت کے دینداری نہ ہوگی) کہا گیا کہ یہاں دین سے مراد عادت ہے یعنی لوٹ پوٹ کرنا اور موت کی تمنا کرنا یہ اسکی عادت نہیں ہے بلکہ مصیبت ومشقت نے اسکو اس پر آمادہ کیا ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں (دین) اپنے حقیقی معنی پر ہے یعنی یہ اس کا لوٹ پوٹ کرنا دین کی جہت سے نہیں ہوگا بلکہ دنیا کی مصیبتوں اور مشقتوں کی وجہ سے وہ ایسا کرے گا۔ (علامہ سید ⟦?⟧ از مرقات)۔ 2 قوله: تخرج نار من ارض الحجاز۔ (سرزمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی) علامہ قرطبی نے کتاب التذکرہ میں فرمایا: یہ آگ سرزمین حجاز مدینہ منورہ میں نکل چکی ہے اور بتاریخ تین3/ جمادی الاخریٰ شب چہار شنبہ 654ھ (چھ سو چوپن) بعد عشاء ایک بڑے زلزلے سے اسکی ابتداء ہوئی اور جمعہ کے دن چاشت کے وقت تک یہ جاری رہی، پھر تھم گئی اور یہ آگ حرہ کے کنارے بنی قریظہ سے نمودار ہوئی اور اسکی روشنی ایک بڑے شہر کی طرح دکھائی دیتی تھی جس کے اطراف فصیل تھی اور اس میں قلعوں کے کنگوروں کی طرح کنگورے، برج اور مینار تھے اور کچھ لوگ اسکو کے سامنے چل رہے تھے وہ کسی پہاڑ سے گزرتی تو اسکو چور کر دیتی اور پگھلا دیتی تھی اور اس کے درمیان سے ایک سرخ اور ایک پیلی نہر نکل رہی تھی جس میں کڑک کی طرح گڑگڑاہٹ تھی اور اپنے سامنے چٹانوں اور پہاڑوں کو سامنے دھکیلتے ہوئے ان کو عراق لے جاتی تھی اس کی وجہ سے اس قدر پتھر جمع ہوگئے کہ وہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوگئے اور یہ آگ مدینہ منورہ کے قریب تک پہنچ گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے مدینہ منورہ میں ٹھنڈی خوشگوار ہوا چلتی تھی اور اس آگ میں سمندر کی طرح جوش دیکھا گیا اور یہ آگ یمن کی ایک بستی تک پہنچی اور اسکو جلا دی اور ہمارے بعض اصحاب نے کہا کہ میں نے اس آگ کو مدینہ منورہ سے پانچ دن تک فضاء میں بلند ہوتے ہوئے دیکھا اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ وہ آگ مکہ مکرمہ اور شہر بصریٰ کے پہاڑوں سے دیکھی گئی۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ ملک شام کے تمام باشندگان کے پاس اس آگ کے نکلنے کا علم تواتر کے ساتھ ہے، اور جو بات مجھے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس حدیث شریف میں جس آگ کا ذکر ہے وہ وہی آگ ہے جو مدینہ طیبہ کے اطراف میں ظاہر ہوئی تھی جیسا کہ علامہ قرطبی وغیرہ نے مراد لی ہے، اب رہی وہ آگ جو لوگوں کو میدان حشر کی طرف جمع کرے گی تو وہ دوسری آگ ہے۔ (ماخوذ از فتح الباری وعمدۃ القاری)۔ 1 قوله: اول اشراط الساعة: یعنی (قیامت کے علامتوں میں پہلی) یعنی اس کی پہلی علامت اگر تم کہو پہلی علامت کیسے ہوگی جب کہ حضرت سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت وغیرہ بھی منجملہ علامات کے ہے؟ میں کہتا ہوں کہ علامہ کرمانی نے فرمایا: اس سے مراد اس کی وہ علامات ہیں جو قیامت سے پہلے مسلسل آنے والی ہیں اور علامہ ابن تین نے فرمایا: اس سے مراد وہ آگ ہے جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو بیت المقدس کی طرف لے جائے گی۔ اور اگر تم یہ کہو کہ سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث شریف میں ہے ”لا تقوم الساعة حتى يكون عشر آيات الخ“ قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ دس علامات ظاہر ہوں گی اور اس میں پہلی علامت دجال کا نکلنا اور (اس روایت کے) آخر میں ”وہ آگ یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو میدان حشر کی طرف بھگا لے جائے گی“ کو آخری نشانی شمار کیا گیا ہے۔ اور کتاب توضیح میں ہے: حدیث شریف میں آیا ہے کہ آگ قیامت کی سب سے آخری نشانی ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ علامات ایک دوسرے سے قریب قریب ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو اول کہا جا سکتا ہے یا یہ کہ اولیت امر نسبی ہوا اپنے بعد آنے والی علامت کے اعتبار سے اس کو اول کہا گیا ہے۔ (عمدۃ القاری)۔ 1 قولہ: اللهم لا تكلهم: (اے اللہ تو انکو میرے حوالے مت فرما) اس کا مطلب یہ ہے کہ تو ان کے معاملات میرے حوالے مت کر کہ میں ان کی ضروریات کی تکمیل کرنے اور ان کی حاجت کو پورا نہیں کروں گا اور ان کو خود ان کے حوالے بھی مت کر کہ وہ اپنے خواہشات نفس کی کثرت اور اسکی شرارتوں کی وجہ سے عاجز ہو جائیں گے اور تو ان کو دوسرے لوگوں کے حوالے بھی مت کر کہ وہ ان پر اپنے نفسوں کو ترجیح دیں گے تو یہ ضائع ہو جائیں گے، بلکہ یہ تیرے بندے ہیں ان کے ساتھ تو وہ معاملہ فرما جو آقا اپنے غلاموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور (وقوله اذا رأيت الخلافة قد نزلت الارض المقدسة) (جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس میں اترے) یعنی مدینہ منورہ سے سرزمین شام تک جیسا کہ بنی امیہ کی حکومت میں ہو چکا ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 قوله: بعد المائتين: (دو سو سال کے بعد) یہ دو سو سال کا شمار ہجرت کے بعد سے یا اسلامی حکومت سے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سے ہوگا اور اس میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ”المائتين“ میں الف لام عہدی ہو یعنی ایک ہزار سال کے بعد والے دو سو سال کے بعد ہواور یہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور دجال کے نکلنے اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول کا وقت ہے اور مسلسل علامات یعنی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دابہ الارض کا نکلنا اور یاجوج ماجوج اور ان جیسے اور علامات کے ظہور کا وقت ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله: من اهل بيتي۔ (میرے اہل بیت سے) اس میں اختلاف ہے کہ آپ سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہوں گے یا سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہوں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ حسنین کریمین کی دونوں نسبتوں کے جامع ہوں اور راجح قول یہ ہے کہ آپ والد محترم کی طرف سے حسنی اور والدہ محترمہ کی طرف سے حسینی ہوں گے، اسکی مثال سیدنا ابراہیم علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام کے دونوں صاحبزادگان سیدنا اسحق علیہ الصلوٰۃ والسلام اور سیدنا اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام پر قیاس کرتے ہوئے کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء علیہم السلام حضرت سیدنا اسحق علیہ السلام کی اولاد سے آئے اور حضرت سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی ذریت میں ہمارے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے اور سب کے قائم مقام اور نعم البدل اور خاتم الانبیاء ہوئے، اسی طرح اکثر ائمہ اور امت کے اکثر بزرگ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے آئے تو مناسب یہ ہوا کہ سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں اسکی۔۔۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ تلافی اور قائم مقامی کے لئے آپ کی اولاد میں ایک ایسے صاحبزادے سرفراز کئے جائیں جو خاتم الاولیاء ہوں اور تمام اصفیاء کے قائم مقام ہوں، کہا گیا ہے کہ جب سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظاہری خلافت سے دست بردار ہوگئے جیسا کہ آپ کی شان میں احادیث شریفہ بیان کی گئی ہیں کہ آپ کو مرتبہ قطبیت کی ولایت کا جھنڈا دیا گیا تو یہ بات مناسبت ہوتی کہ مہدویت کی نسبت جو سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت سے متصل ہے سرفراز ہو اور وہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم، کی ملت کے کلمہ کو بلند کرنے پر متفق ہوں۔ (آپ پر لاکھوں درود و سلام) اور حضرت ابو اسحق کی حدیث میں جو سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے اس میں اس معنی کی صراحت موجود ہے جو آگے بیان کی جائے گی واللہ تعالیٰ اعلم۔ (مرقات)۔ 1 قوله: حتى يملك العرب رجل الخ۔ (یہاں تک کہ ایک شخص عرب پر حکومت کرے گا) علامہ طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: عجم کا ذکر نہیں ہے مگر یہاں وہ بھی مراد ہیں کیونکہ وہ جب عرب پر حکومت کریں گے اور تمام عرب متحد ہو جائیں گے اور سب ایک طاقت بن جائیں گے تو وہ ساری قوموں پر غالب آ جائیں گے اور اس کی تائید سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث شریف سے ہوتی ہے جو اس کے بعد آ رہی ہے۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عرب کا ذکر اس کے زمانہ میں عرب کے غلبہ کی وجہ سے ہے، یا یہ باب اختصار سے ہے اور اس سے عرب و عجم دونوں مراد ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (لباس جو تم کو گرمی سے بچاتا ہے) یعنی گرمی اور سردی دونوں سے بچاتا ہے اور راجح بات یہ ہے آپ نے صرف عرب کے ذکر پر اختصار فرمایا: کیونکہ وہ سب ان کی اطاعت کریں گے برخلاف عجم کے جو عرب کے مقابل ہیں وہ بھی اس کی اطاعت سے اختلاف بھی کریں گے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)(مرقات)۔ 1 يشبه فى الخلق۔ (وہ اخلاق میں آپ کے مشابہ ہوں گے) خلق ’’خا‘‘ اور ’’لام‘‘ کو پیش کے ساتھ ہے اور لام پر جزم بھی آتا ہے اور وہ شکل میں مشابہ نہیں ہوں گے یعنی مکمل طور پر کیونکہ پہلے یہ بات گذر چکی ہے کہ آپ شکل میں بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے۔ (مرقات)۔ 2 قوله: يتمنى الاحياء الاموات۔ (جو زندہ ہیں وہ اپنے انتقال کئے ہوئے اصحاب کی تمنا کریں گے) الاموات کو زبر ہے علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے فرمایا ’’الاحياء‘‘ کو فاعل ۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ ہونے کی بناء پر پیش ہے اور یہاں کلام میں حذف ہے یعنی يتمنون حياة الاموات الخ اور ان کی یہ تمنا اس لئے ہوگی کہ وہ اس خیر و بھلائی اور امن و سلامتی کو دیکھیں جس میں یہ حضرات ہیں اور ان کے ساتھ وہ بھی اس میں شریک ہوں اور جس نے ”الاحياء“ کو زیر کے ساتھ کہا ہے باب افعال کا مصدر اور تمنی کا فاعل الاموات کو قرار دیا ہے تو یہ مشکل ہے۔ (مرقات)۔ اور صاحب لمعات نے فرمایا: یہ بھی کہا گیا ہے کہ الاحياء احيى يحيى سے باب افعال کا مصدر ہے اور مفعول ہونے کی بناء پر منصوب ہے اور الاموات فاعل ہونے کی بناء پر مرفوع ہے یعنی جو انتقال کر گئے ہیں وہ تمنا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو زندہ کرے اور اس اسلوب میں مبالغہ ہے اس میں اس بات کا کنایہ ہے کہ ان کو زندوں میں رہ کر خوشی ہوگی اور یہ سب اس وقت ہوگا جب کہ یہ روایت درست ہو ورنہ کسی چیز کا محض احتمال کوئی اعتبار نہیں رکھتا۔ 1 قوله: فيخرج رجل ۔ ایک صاحب نکلیں گے۔ یہ امام مہدی ہیں اور اسکی دلیل یہ ہے کہ امام ابوداؤد نے اس حدیث کو مہدی کے بیان میں لایا ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله اتاه ابدال الشام. (آپ کے پاس ملک شام کے ابدال آئیں گے) علامہ جوہری نے فرمایا ابدال نیک لوگوں کی ایک ایسی جماعت ہے کہ ان سے دنیا کبھی خالی نہیں رہے گی اور ان میں سے کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو بدل دیتا ہے۔ علامہ ابن درید نے کہا ہے کہ اس کا واحد بدیل ہے۔ میں کہتا ہوں اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ان کو بدلاء بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال شریف اشراف اور شرفاء ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام ابدال اس لئے بھی ہے کہ یہ کسی جگہ سفر کرتے ہیں تو اپنی پہلی جگہ اپنی شباہت کے کسی دوسرے کو اپنے بدل رکھ دیتے ہیں، اور قاموس میں ہے اللہ تعالیٰ ابدال کے ذریعہ زمین کا انتظام کراتے ہیں اور ان کی تعداد (70) ہے چالیس (40) ملک شام میں اور اس کے سوا دوسرے ملکوں میں