Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1107

(یہ باب نماز کی صفت یعنی کیفیت کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب نماز کی صفت یعنی کیفیت کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1107Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1252Noor 1253Noor 1254
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نمازی اخیر نماز میں (سجدہ سے سر اٹھا لے اور قعدۂ اخیرہ میں) التحیات پڑھ چکنے کے بعد (عمداً) حدث کر دے تو اس کی نماز پوری ہو گئی (کیوں کہ اس نے عمداً حدث کر کے اپنے فعل سے نماز ختم کرنے کے فرض کو ادا کر دیا ہے اس لئے اب وہ) اپنی نماز کا اعادہ نہ کرے (اس وجہ سے کہ اس کے ذمہ اب کوئی فرض یا واجب باقی نہیں رہا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔) اور ابوداؤد، ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔ اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بطور مرفوع اور موقوف روایت کی
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 408 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 617 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے) اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے، اور ابوداؤد کی عادت یہ ہے کہ جب وہ کسی حدیث کے متعلق سکوت اختیار کرتے ہیں تو ان کے پاس وہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے، اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ جتنی حدیثیں میں نے جامع صحیح یعنی ترمذی میں بیان کی ہیں صرف چار حدیثوں کے سوا باقی سب حدیثیں حجت اور دلیل ہیں اور یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے نہیں ہے۔ (یہ سعایہ میں مذکور ہے۔) ف: ابوداؤد، ترمذی، طحاوی وغیرہم کی اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ نمازی قعدۂ اخیر میں تشہد پڑھنے کے بعد سلام سے پہلے عمداً حدث کر کے نماز کو ختم کردے تو نماز پوری ہوجاتی ہے جس کا اعادہ ضروری نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس مسلک کی وجہ سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ پر یہ اہانت آمیز اعتراض کیا ہے کہ ان کے مذہب میں نماز عمداً حدث کرنے سے بھی پوری ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کو بھی ان مستند صحیح احادیث سے اخذ کیا ہے جن کی روایتیں متعدد اسناد اور مختلف طریق سے حدیث کی مستند کتابوں ابوداؤد، ترمذی، بیہقی، دارقطنی اور طحاوی وغیرہ میں مروی ہیں اس صورت میں امام اعظم رحمہ اللہ پر ایسا اعتراض کرنا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا ہے۔ (یہ مضمون ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ کے رسالہ سے ماخوذ ہے جسکو عمدۃ الرعایہ نے نقل کیا ہے۔)