اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1269
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا کہ آپ نے (تکبیر تحریمہ) کے بعد فرمایا:
”اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا“ اللہ بہت بڑا ہے ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں
”اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا“ اللہ بہت بڑا ہے ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں
”اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا“ اللہ بہت بڑا ہے ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں
”وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا“ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے
”وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا“ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے
”وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا“ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے
”وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا“ میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں
”وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا“، میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں
”وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا“، میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں
ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود کے نفخ سے (یعنی غرور اور خود پسندی
سے جن کو شیطان انسانوں کے دلوں میں ڈالتا ہے) اور نَفْث (یعنی سحر سے جس کو شیطان انسان
سے کرواتا ہے) اور هَمْز سے (یعنی وسوسوں سے جن کو شیطان انسان کے دلوں میں پیدا کرتا رہتا ہے۔)
Arabic quotation in the English source
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 764 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 807 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 817 (unverified) 85% confidence
Mishkat (candidate) 817
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے) اور ابن ماجہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نفخ سے مراد کبر ہے جس کو شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے اور نفث سے مراد فُحش اور برے اشعار ہیں جن کو شیطان انسان سے کہلواتا ہے اور ہمز سے مراد ایک قسم کا جنون ہے جو شیطان کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے جس سے انسان مرگی میں مبتلا ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے۔