اردو
عمرو بن محمد بن زید رضی اللہ عنہ، موسیٰ ابن سعد بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
سے روایت کرتے ہیں کہ موسیٰ بن سعد نے اپنے دادا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ زید
بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے قرأت خلف الامام کی ہو تو اس کی نماز نہیں ہوتی
۔(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے)۔
اور عبدالرزاق نے بھی اسی کی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرأت خلف الامام کرنے والے کے بارے میں مختلف تحدیدیں مذکور ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قرأت خلف الامام کرنے والے کے منہ میں پتھر ہو، دوسری حدیث میں یوں مذکور ہے کہ ایسے شخص کا منہ مٹی سے بھر دیا جائے، ایک اور حدیث یہ ہے کہ منہ میں انگارا رکھ لینا قرأت خلف الامام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان احادیث میں قرأت خلف الامام کرنے والے پر جو تحدیدیں مذکور ہیں، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کے بارے میں صحابہ کرام کا اجماع ہو چکا تھا صحابہ کرام کے اس اجماع پر صدری وہ تمام حدیثیں مؤید ہیں جن میں قرأت خلف الامام نہ کرنے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ علاوہ ازیں اس بارے میں نقلی دلیلوں کے سوا امام طحاوی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل بھی گزر چکی ہے جس میں قیاس کے ذریعہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کو ثابت کیا گیا ہے۔