English
From Amr bin Muhammad bin Zayd, from Musa bin Sa'd bin Zayd bin Thabit, who narrated from his grandfather: He said, "Whoever recites behind the Imam, his prayer is invalid." [Narrated by Muhammad]
Abdur Razzaq also narrated it from Ali. Al-Bukhari said in his Risalah al-Qira'ah: "It is not known that this chain has proper hearing from one narrator to another, and such a narration is not authentic."
The response to this is, firstly, that contemporaneity and the possibility of meeting are sufficient for the majority of scholars in establishing connectivity and removing discontinuity. The requirement of proven direct meeting, as is Bukhari's strictness, is not obligatory according to the majority, as established in the principles of Hadith. Here, contemporaneity and the possibility of meeting are established between Dawood and Umar, between Umar and Musa, and between Musa and Zayd, which suffices to confirm the connection of the chain.
Secondly, apparent discontinuity does not harm according to us if the narrator is trustworthy and narrates from trustworthy individuals, especially in the generations testified to for their goodness.
Al-Tahawi said: "These are a group from the companions of the Messenger of Allah ﷺ who unanimously agreed on leaving recitation behind the Imam. They were supported by what has been narrated from the Messenger of Allah ﷺ, which we have mentioned earlier, and their stance is further reinforced by logical reasoning, as we have explained."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۱۷۸ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، يُحَدِّثُهُ عَنْ جَدِّهِ (رضي الله عنه) أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ.
وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَلِيٍّ (رضي الله عنه)، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ فِي رِسَالَةِ الْقِرَاءَةِ»: إِنَّهُ لَا يُعْرَفُ لِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمَاعُ بَعْضِهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَلَا يَصِحُ مِثْلُهُ.
وَالْجَوَابُ عَنْهُ أَوَّلًا: أَنَّ الْمُعَاصَرَةَ وَإِمْكَانَ اللُّقِيِّ يَكْفِي عِنْدَ الْجُمْهُورِ فِي صِحَّةِ الاتِّصَالِ وَرَفْعِ الإِنْقِطَاعِ، وَثُبُوْتُ اللُّقِيِّ - كَمَا هُوَ تَشَدُّدُ الْبُخَارِيِّ - لَا يَجِبُ عِنْدَ
الْجُمْهُورِ، كَمَا تَقَرَّرَ مُحَقَّقًا فِي أُصُولِ الحَدِيثِ، وَالْمُعَاصَرَةُ وَإِمْكَانُ اللُّقِيِّ هَهُنَا مُتَحَقَّقُ بَيْنَ دَاوُدَ وَعُمَرَ، وَبَيْنَ عُمَرَ ومُوْسَى، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ زَيْدٍ، وَهُوَ يَكْفِيْنَا فِي ثُبُوْتِ اتَّصَالِ السَّنَدَ.
وَثَانِيَا: أَنَّ الإِنْقِطَاعَ الظَّاهِرَ لَا يَضُرُّ عِنْدَنَا إِذَا كَانَ الرَّاوِي ثِقَةً يَرْوِي عَنِ الثَّقَاتِ، لَا سِيَّمَا فِي الْقُرُوْنِ الْمَشْهُودِ لَهَا بِالْخَيْرِ انْتَهَى
وَقَالَ الطَّحَاوِيُّ: فَهَؤُلَاءِ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَدْ أَجْمَعُوْا عَلَى تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، قَدْ وَافَقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا قَدْ رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ مِمَّا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَشَهِدَ لَهُمُ النَّظَرُ مَا قَدْ ذَكَرْنَا.
اردو
عمرو بن محمد بن زید رضی اللہ عنہ، موسیٰ ابن سعد بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
سے روایت کرتے ہیں کہ موسیٰ بن سعد نے اپنے دادا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ زید
بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے قرأت خلف الامام کی ہو تو اس کی نماز نہیں ہوتی
۔(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے)۔
اور عبدالرزاق نے بھی اسی کی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قرأت خلف الامام کرنے والے کے بارے میں مختلف تحدیدیں مذکور ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قرأت خلف الامام کرنے والے کے منہ میں پتھر ہو، دوسری حدیث میں یوں مذکور ہے کہ ایسے شخص کا منہ مٹی سے بھر دیا جائے، ایک اور حدیث یہ ہے کہ منہ میں انگارا رکھ لینا قرأت خلف الامام کرنے سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان احادیث میں قرأت خلف الامام کرنے والے پر جو تحدیدیں مذکور ہیں، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کے بارے میں صحابہ کرام کا اجماع ہو چکا تھا صحابہ کرام کے اس اجماع پر صدری وہ تمام حدیثیں مؤید ہیں جن میں قرأت خلف الامام نہ کرنے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ علاوہ ازیں اس بارے میں نقلی دلیلوں کے سوا امام طحاوی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل بھی گزر چکی ہے جس میں قیاس کے ذریعہ قرأت خلف الامام نہ کرنے کو ثابت کیا گیا ہے۔