It is narrated from Abdullah ibn Mughaffal that he was asked: "Is it obligatory for everyone who hears the Qur’an to listen and remain silent?" He said: "This verse was revealed regarding the recitation of the Imam: 'So listen to it and pay attention.' (Quran 7:204)."
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے سوال کیا گیا کہ ہر وہ شخص
جس کو قرآن پڑھنے کی آواز سنائی دے کیا اس پر قرآن کان لگا کر سننا اور چپ رہنا واجب ہے؟ تو اس
کے جواب میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت ”فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ تو امام
کی قرأت کے بارے میں نازل ہوئی ہے (کہ امام جب نماز میں آواز سے قرأت کرے تو مقتدی
اس کو کان لگا کر سنے اور اگر امام آہستہ قرأت کرے تو مقتدی چپ رہے۔
(اس کی روایت ابن ابی حاتم، ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے کی ہے، اور بیہقی نے بھی اس کی
روایت کتاب القرآۃ میں کی ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: "So when you recite the Qur’an, seek refuge with Allah from Satan, the expelled." (Quran 16:98). Allah, the Almighty, said: "And when the Qur’an is recited, listen to it and pay attention so that you may receive mercy." (Quran 7:204).
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ
وَأَنْصِتُوا ...... الخ“ کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب امام نماز میں قرآت جہر سے کرے تو مقتدی اس کو
کان لگا کر سنے اور جب امام قرآن آہستہ پڑھے تو وہ چپ رہے، چنانچہ مدارک نے اس آیت کی تفسیر
جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس طرح کی ہے: ”وجمهور الصحابة رضى الله عنهم على انه
فى استماع المؤتم“۔
جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو حکم مذکور ہے وہ مقتدی سے
متعلق ہے کہ وہ نماز میں امام کے پیچھے قرآت نہ کرے۔
It is narrated from Ibn Abbas that the Prophet (peace be upon him) prayed, and some people recited behind him, which confused him. Then this verse was revealed.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے نماز پڑھائی تو اس وقت جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے انہوں نے بھی قرآن
پڑھا اور ان کی قرآت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت میں خلط ملط ہونے لگا، اس پر یہ آیت ”
فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ نازل ہوئی۔ (جس سے قرآت خلف الامام کی ممانعت ثابت ہوگئی۔
(اس کی روایت ابن مردویہ اور بیہقی نے کی ہے۔)
It is narrated from Muhammad ibn Ka’b al-Qarzi: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) recited in prayer, those behind him would respond. When he said, 'Bismillah al-Rahman al-Rahim,' they would say the same until he finished Surah Al-Fatihah and the Surah. Then this verse was revealed."
محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نماز میں قرآن پڑھا کرتے تو جو لوگ آپ کی اقتداء کرتے وہ بھی اس کو دہراتے جاتے تھے، جب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ پڑھتے تو مقتدی بھی ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيمِ“ پڑھتے اور جب آپ سورہ فاتحہ کی ایک ایک آیت پڑھتے تو مقتدی بھی اسی کو دہراتے
جاتے اور آپ ضم سورہ میں جو آیت پڑھتے تھے مقتدی بھی اسی آیت کو دہراتے رہتے، اس پر یہ آیت ”
فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ نازل ہوئی (جس سے مقتدی کو قرآت خلف الامام کی ممانعت کی گئی اس
لئے اس کو چاہئے کہ جہری نماز میں قرآت سنے اور سری نماز میں خاموش رہے۔) (اس کی روایت
سعید بن منصور، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے کی ہے۔)
مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار میں سے ایک شخص نے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں قرآت پڑھی تو یہ آیت ”فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ نازل ہوئی
(جس سے قرآت خلف الامام کی ممانعت کی گئی۔)
(اس کی روایت عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn Mas’ud that he led his companions in prayer and heard some people reciting behind him. He said: "Is it not time for you to understand? Is it not time for you to comprehend? 'And when the Qur’an is recited, listen to it and pay attention.'"
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو
نماز پڑھاتے تو لوگوں سے سنتے کہ وہ مقتدی ہونے کے باوجود قرآن پڑھ رہے ہیں (نماز کے بعد)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تمہارے لئے ابھی تک اس کا وقت نہیں آیا (کہ امام جب
قرآن پڑھے تو تم خاموشی سے سن کر اس کے معنی کو) سوچیں؟ کیا تمہارے لئے ابھی تک اس کا وقت
نہیں آیا (کہ جب امام قرآن پڑھے تو خاموشی سے سن کر اس کے معنی کو) سمجھیں اس لئے تم آیت
”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ“ پر پورا پورا عمل کرو (یعنی جب امام قرآن پڑھے تو اس کو
خاموشی سے کان لگا کر سنو)۔
(اس کی روایت عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ اور بیہقی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah that he said: "This verse was revealed regarding raising voices while they were behind the Messenger of Allah (peace be upon him) in prayer."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (مقتدی ہونے کے باوجود جہر سے قرأت کرتے تو) چاروں طرف سے آوازیں
بلند ہو جاتی تھیں (اس کی ممانعت میں) ”فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ کی آیت نازل ہوئی (جس
سے قرأت خلف الامام کی ممانعت کی گئی)۔
(اس کی روایت ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ، ابن مردویہ، بیہقی اور ابن عساکر نے کی ہے)
It is narrated from Al-Zuhri: "This verse was revealed regarding a young man from the Ansar who would recite whatever the Messenger of Allah (peace be upon him) recited."
- زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان مقتدی ہونے کے
باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ قرآن (سورۂ فاتحہ ہو یا ضم سورہ) کی قرأت فرماتے تو وہ بھی
اس کو دہراتے جاتے اس پر (فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ کی) آیت نازل ہوئی۔ (جس سے قرأت
خلف الامام کی ممانعت کی گئی)۔ (اس کی روایت ابن جریر اور بیہقی نے کی ہے۔)
It is narrated from Abu al-Aliyah: "When the Prophet (peace be upon him) led his companions in prayer and recited, his companions would also recite. Then this verse was revealed."
- ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو نماز پڑھاتے
اور نماز میں قرأتِ قرآن فرماتے تو صحابہ بھی اس کو دہراتے تھے اس پر (فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا کی)
آیت نازل ہوئی (جس سے قرأت خلف الامام کی ممانعت کی گئی۔)
(اس کی روایت عبد بن حمید، ابوالشیخ اور بیہقی نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibrahim: "The Prophet (peace be upon him) would recite, and a man would also recite. Then this verse was revealed." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
In a narration by Al-Bayhaqi from Imam Ahmad: "The people unanimously agreed that this verse pertains to prayer." Shaykh Ibn al-Humam and others said: "The command includes two things: listening and remaining silent. The first applies to audible prayers, and the second applies to silent prayers." This is the meaning: "And when the Qur’an is recited, listen to it if it is recited aloud, and remain silent if it is recited silently." This was the view of our Imam Abu Hanifah and his companions, as well as Jabir ibn Abdullah, Zaid ibn Thabit, Ali ibn Abi Talib, Umar ibn al-Khattab, Abdullah ibn Mas’ud, Sufyan al-Thawri, Sufyan ibn Uyaynah, Ibn Abi Layla, Al-Hasan ibn Salih, Ibrahim al-Nakha’i, and the companions of Ibn Mas’ud, among other prominent companions and successors. This was mentioned by Ibn Abd al-Barr in Al-Istidhkar and Al-Tamhid. Al-Ayni said: "It has been reported that eighty prominent companions, including Al-Murtada and the three Abdallahs, prohibited recitation behind the Imam. Their names are well-known among the scholars of Hadith. It is said that the number of those who issued fatwas on this matter exceeded eighty, making their agreement akin to consensus."
Shaykh Imam Abdullah ibn Ya’qub al-Harithi al-Sabadmuni mentioned in his book Kashf al-Asrar from Abdullah ibn Zaid ibn Aslam, from his father, who said: "Ten companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) strongly prohibited recitation behind the Imam: Abu Bakr al-Siddiq, Umar ibn al-Khattab, Uthman ibn Affan, Ali ibn Abi Talib, Abd al-Rahman ibn Awf, Sa’d ibn Abi Waqqas, Abdullah ibn Mas’ud, Zaid ibn Thabit, Abdullah ibn Umar, and Abdullah ibn Abbas."
Our scholars said: "There is no evidence to restrict this verse to audible prayers, as listening and remaining silent are two separate rulings, not a single ruling combined. Even if the verse was revealed regarding audible prayers, it is not restricted to them, as the general wording is considered, not the specific context."
- ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں)
قرأتِ قرآن فرماتے تو ایک اور صاحب بھی (مقتدی ہونے کے باوجود) اس کو دہراتے اس پر
(فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا کی) آیت نازل ہوئی جس سے قرأت خلف الامام کی ممانعت کی گئی۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
اور بیہقی کی ایک روایت میں امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سب کا اس
بات پر اجماع ہے کہ آیت (فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا) نماز میں قرأت خلف الامام کی ممانعت کے
بارے میں نازل ہوئی ہے۔
ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثیں قرأت خلف الامام کی ممانعت پر ہی دلالت کرتی ہیں امام
ابن الہمام اور دیگر فقہاء رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ نماز میں مقتدی کو قرأت کے متعلق دو حکم دئیے گئے ہیں
(1) ایک استماع یعنی کان لگا کر سننا اور (2) دوسرے انصات یعنی چپ رہنا، پہلا حکم استماع یعنی امام
کی قرأت کو کان لگا کر سننا جہری نمازوں سے متعلق ہے، اور دوسرا حکم یعنی انصات یعنی چپ رہنا سری
نمازوں سے متعلق ہے۔
اب آیت کے معنی سنئے: ”(وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ) اِنْ جُهِرَ بِهِ“ (اگر
قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو جبکہ جہر سے پڑھا جا رہا ہو) ”( وَأَنْصِتُوا) وَاسْكُتُوا اِنْ
أُسِرَّ بِهِ“ اور چپ رہو اور خاموشی اختیار کرو اگر قرآن آہستہ پڑھا جا رہا ہو۔ (امام ابن ہمام کی عبارت
یہاں ختم ہوئی۔)
ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ”استذکار“ اور ”تمہید“ میں کہا ہے کہ آیت ”فَاسْتَمِعُوا لَهُ
وَأَنْصِتُوا“ پر عمل کرتے ہوئے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں نے قرأت خلف
الامام کے بارے میں جو مذہب اختیار کیا ہے وہ یہی ہے کہ مقتدی جہری نمازوں میں قرأت کو کان لگا کر
سنے اور سری نمازوں میں چپ رہے اور خود کچھ نہ پڑھے چنانچہ جابر بن عبداللہ زید بن ثابت اور حضرت
علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم، کا بھی یہی قول ہے، اور حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہما سے جو ارجح روایت آئی ہے وہ بھی یہی ہے نیز سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ اور ابن ابی لیلیٰ
اور حسن بن صالح بن حی اور ابراہیم نخعی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے جملہ شاگرد اور ان سب کے
سوا جن میں مشہور صحابہ اور تابعین ہیں وہ سب قرأت خلف الامام کی ممانعت کے قائل ہیں کہ مقتدی جہری
نمازوں میں صرف قرأت سنے اور سری نمازوں میں چپ رہے۔ (یہاں ابن عبدالبر کا مضمون ختم ہوا۔)
علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ترک قرأت خلف الامام کی ممانعت اسّی (80) جلیل القدر صحابہ سے
مروی ہے جن میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس رضی
اللہ عنہم ہیں اور ان (80) صحابہ کے اسماء محدثین کے پاس محفوظ ہیں اور منقول ہے کہ قرأت خلف الامام
کی ممانعت کے متعلق اس زمانہ میں فتویٰ دینے والوں کی تعداد (80) سے زائد تھی اور ان سب حضرات
کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر اتفاق کر لینا اجماع کی طرح ہے اور شیخ امام عبداللہ بن یعقوب حارثی
اسبذمونی نے ”کتاب کشف الاسرار“ میں عبداللہ بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے وہ اپنے
والد زید سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن اسلم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
صحابہ میں دس صحابہ قرأت خلف الامام کی سخت ممانعت فرماتے تھے وہ دس صحابہ یہ ہیں: (1) حضرت
ابوبکر صدیق، (2) حضرت عمر ابن خطاب، (3) حضرت عثمان بن عفان، (4) حضرت علی ابن ابی
طالب، (5) عبدالرحمن بن عوف، (6) سعد بن ابی وقاص، (7) عبداللہ بن مسعود، (8) زید ابن ثابت
اور (9) عبداللہ بن عمر (10) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔ (یہاں علامہ عینی کی عبارت ختم ہوئی۔)
توضیحات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کے لئے قرأت خلف الامام کی ممانعت ہے
جیسا کہ آیت ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ سے واضح ہوتا ہے کہ امام جب آواز
سے قرأت کرے تو مقتدی اس کو سنے اور امام جب آہستہ قرأت کرے تو مقتدی خاموش رہے۔
یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کے حکم کو صرف جہری نمازوں سے متعلق کیا جا سکتا
ہے نہ کہ سری نمازوں میں مقتدی کو امام کی قرأت سننے کا موقع ہی نہیں ہے اس لئے کہ آیت
میں ”أَنْصِتُوا“ کا کلمہ ”اسْتَمِعُوا لَهُ“ کی تاکید کے لئے ہے کہ دونوں کلموں سے ایک ہی حکم نکل
رہا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مقتدی امام کی قرأت کو خاموش رہ کر سنے۔
ہمارے فقہاء رحمہم اللہ نے اس شبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا
لَهُ وَأَنْصِتُوا) کو صرف جہری نمازوں کے ساتھ ہی مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اس لئے کہ آیت ”
فَاسْتَمِعُوا لَهُ“ اور ”أَنْصِتُوا“ دو مستقل کلمے ہیں۔
دوسرا کلمہ پہلے کلمہ کی تاکید کے لئے نہیں ہے جیسا کہ شبہ میں کہا گیا ہے بلکہ دوسرا کلمہ یعنی
”أَنْصِتُوا“، تخصیص (اصل قرآن) کے لئے ہے کہ پہلے کلمہ سے علیحدہ حکم نکلتا ہے اور دوسرے کلمہ سے
علیحدہ حکم اور اصولیین کے قاعدے کے مطابق تخصیص تاکید سے افضل ہے، اس لحاظ سے آیت ”
فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ سے مقتدی کو دو مستقل حکم دیئے گئے ہیں ایک استماع یعنی کان لگا کر سننا اور
دوسرا انصات یعنی چپ رہنا، پہلا حکم استماع یعنی امام کی قرأت کو کان لگا کر سننا جہری نمازوں سے متعلق
ہوگا اور دوسرا حکم انصات یعنی چپ رہنا، سرّی نمازوں سے متعلق رہے گا اور یہی حنفی مذہب ہے۔
مذہب حنفی کی تائید پر ذیل کی یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں:۔
(1) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ امام کی قرأت تمہارے لئے کافی ہے، خواہ امام (سرّی نماز میں) آہستہ قرأت کرے یا (جہری
نماز میں) آواز سے قرأت کرے۔
(2) علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرأت نہیں
کرتے تھے خواہ امام جہر سے قرأت کر رہا ہو، یا آہستہ، نہ تو پہلی دو رکعتوں میں قرأت کرتے تھے اور نہ
آخری دو رکعتوں میں۔
(3) ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ
مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے، خواہ نماز جہری ہو یا سرّی۔
بنایہ میں مذکور ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے خواہ امام جہر سے قرأت کرے یا
آہستہ، چنانچہ ابن المسیب، عروۃ بن زبیر، سعید بن جبیر، زہری، شعبی، ثوری، نخعی، اسود، ابن ابی لیلی رضی
اللہ عنہم اسی کے قائل ہیں، نیز ابن وہب اشہب، ابن عبدالحکم ابن حبیب رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ مقتدی
سرّی نمازوں اور جہری نمازوں دونوں میں قرأت نہ کرے۔
(یہ مضمون سعایہ سے ماخوذ ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ قرأت قرآن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 396a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
There is no prayer without recitation
(1) The statement: "There is no prayer without recitation" clearly indicates that prayer is not valid without recitation. Since the obligation of recitation is established by the Quran, the statement is understood to negate the validity of prayer without it. This is mentioned in I’la al-Sunan.
Note 1
قوله
(۱) قوله: لا صلاة إلا بقراءة دلالته على أن الصلاة لا تصح إلا بالقراءة ظاهرة؛ لأن مطلق القراءة فرض ثابت بالكتاب، فقوله: لا صلاة إلخ) محمول على نفي الصحة، قاله في تعليق إعلاء السنن».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں مطلق قرأت فرض ہے، سورہ فاتحہ کی قرأت فرض
نہیں ہے بلکہ قرآن میں سے جو کچھ (سورہ یا آیت) ہو سکے پڑھ لینے سے قرأت کی فرضیت ادا ہو جاتی
ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اس کی تائید قرآن کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔
”فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (سورہ مزمل، پ:29، ع:2، آیت نمبر:20)(تم
لوگ نماز میں) قرآن سے جو کچھ ہو سکے پڑھ لیا کرو۔ (عمدۃ الرعایۃ وفتح القدیر)12
It is narrated from Abu Uthman al-Hindi, from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said to me: "Go out and announce in the city: 'There is no prayer except with Qur’an, even if it is only Surah Al-Fatihah or more.'" [Narrated by Abu Dawud, who remained silent about it]
All its narrators are trustworthy and well-known except Ja’far ibn Maymun. Al-Hakim authenticated him in Al-Mustadrak, and Ibn Hibban and Ibn Shahin mentioned him among the trustworthy. The Hadith explicitly indicates that Al-Fatihah is not a pillar (rukn) of prayer, as the phrase "even if" suggests no exclusivity to Al-Fatihah and implies generality, extending the obligation to Al-Fatihah and other recitations. Therefore, Abu Hanifah ruled it as obligatory. 1
ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ طیبہ میں
جا کر یہ اعلان کر دو کہ ”لاصلاة الّا بقران ولو بفاتحة الكتاب فمازاد“ یعنی بغیر قرآن پاک
کی قرآت کے نماز صحیح نہیں ہوتی اگرچہ سورہ فاتحہ کی قرآت ہی کیوں نہ ہو، اور چاہے پھر سورہ فاتحہ پر
قرآن کی کسی آیت یا سورہ کو زیادہ کیا جائے۔ (بہرحال نماز میں قرآن کی قرآت ضروری ہے، اس
لئے کہ مطلق قرآن کی قرآت نماز میں فرض ہے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت حدیث کے صحیح
ہونے کی دلیل ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ اور مشہور ہیں، جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں ان
کا ثقہ ہونا بیان کیا ہے اور ابن حبان اور ابن شاہین نے اپنی اپنی ثقات میں ان کا ذکر کیا ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 820 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Therefore, Abu Hanifah ruled it as obligatory
(1) The statement: "Therefore, Abu Hanifah ruled it as obligatory" refers to the recitation in prayer. As for Malik, Al-Shafi’i, and Ahmad, they held that Al-Fatihah is a pillar (rukn). The Hadith of ‘Ubadah ibn al-Samit and the narration of Ziyad ibn Ayyub were addressed by explaining that ‘Ubadah’s Hadith refers to negating excellence (not validity), similar to the statement: "There is no prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque." As for Ziyad’s narration, it is considered anomalous (shadh) because others narrated: "There is no prayer for one who does not recite," suggesting Ziyad added wording or paraphrased. This is taken from Sharh Al-Nuqayah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: لذلك قال أبو حنيفة بوجوبها وأما مالك والشافعي وأحمد فقالوا: هي ركن الحديث عبادة بن الصامت وحديث زياد بن أيوب أجيب عن حديث عبادة بأن المراد به نفي الفضيلة بنحو لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد. وأما الجواب عن رواية زياد فبأنها شاذة؛ إذ رواية غيره: لا صلاة لمن لم يقرأ»، وكأن زيادا زاد في المبنى وروي بالمعنى، أخذته من شرح النقاية».
Note 1
ف: یہ حدیث صراحت کے ساتھ اس بات پر دلیل ہے کہ سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض نہیں
ہے کیونکہ حدیث میں لفظ ”وَلَوْ“ (اگرچہ) جو مذکور ہے اس سے نماز میں خصوصیت کے ساتھ سورہ فاتحہ
کا پڑھنا ہی معلوم نہیں ہوتا کہ جس سے نماز میں قرآت فاتحہ کی فرضیت ثابت کی جا سکے بلکہ لفظ ”وَلَوْ“
سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی قرآت فرض ہے مگر قرآن کے کسی خاص حصہ کی قرآت فرض نہیں ہے
اس لئے قرآن میں سے جس چیز کو پڑھ لیا جائے اس سے قرآت کی فرضیت ادا ہو جاتی ہے خواہ وہ سورہ
فاتحہ ہو یا کوئی اور سورہ اس لئے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کی قرآت فرض نہیں ہے
بلکہ واجب ہے البتہ سورہ فاتحہ کی قرآت نماز میں دیگر ائمہ کے پاس فرض ہے اور یہ حضرات سورہ فاتحہ کی
فرضیت پر جن حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں، ان میں ایک حدیث یہ ہے:
”عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“۔
اس حدیث سے یہ حضرات ثابت کرتے ہیں کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوسکتی حالانکہ
مراد اس سے فضیلت کی نفی ہے یعنی سورہ فاتحہ کا پڑھنا افضل ہے، یہ مراد نہیں کہ فاتحہ کے بغیر نماز درست
ہی نہیں، اگر نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو وہ نماز ناقص اور غیر افضل ہوگی، کیونکہ نماز میں سورہ فاتحہ
کا پڑھنا واجب ہے اس کی نظیر ”لَا صَلٰوةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ“ والی حدیث ہے کہ
مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی، حالانکہ سب ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد کے
پڑوسی کی نماز گھر میں ادا ہوجاتی ہے البتہ ناقص اور غیر افضل ہوتی ہے تو پھر ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ“ سے کس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو نماز صحیح نہیں ہوتی
جبکہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی نظیر ہیں، اسی طرح ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے
نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
دوسری حدیث جس سے دیگر ائمہ نے نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو فرض قرار دیا ہے زیاد بن
ایوب رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے ”لَا تُجْزِئُ صَلٰوةٌ لَا يَقْرَءُ الرَّجُلُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ“۔
اس حدیث سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی،
حالانکہ زیاد بن ایوب کی یہ حدیث شاذ ہے۔
صاحب تنقیح نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں ”لا تجزئ“ کے جو الفاظ زائد ہیں وہ زیاد بن
ایوب رضی اللہ عنہ کا انفراد ہے کہ یہ الفاظ صرف انہی سے مروی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ زیاد بن ایوب کی
سند عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے اور زیاد کے سوا ایک جماعت نے بھی عبادہ ابن صامت
رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے جس کے الفاظ متفقہ طور پر صرف یہ ہیں ”لَا صَلٰوةَ لِمَنْ لَمْ
يَقْرَءْ“ یعنی بغیر قرأت قرآن کے نماز صحیح نہیں، گویا اس حدیث سے نماز میں مطلق قرأت قرآن کے
فرض ہونے کا ثبوت ملتا ہے جس سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے۔
اس کے برخلاف زیاد بن ایوب کی حدیث بالمعنی ہے کہ عبادہ ابن صامت کے واسطہ سے ان کو
جو حدیث ملی ہے اس کو انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حدیث کے الفاظ
ان الفاظ سے جدا ہیں جن کی روایت ایک جماعت نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اسی لئے زیاد بن ایوب کی
حدیث ایک جماعت کی حدیث کے مقابلہ میں ان کی منفرد اور تنہا ہونے کی وجہ سے ”قابل استناد“ نہیں
اور اسی بناء پر زیاد بن ایوب کی روایت شاذہ سے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
(یہ مضمون شرح نقایہ اور التعلیق المغنی شرح سنن اور دارقطنی سے ماخوذ ہے۔)
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever performs a prayer without reciting Umm al-Qur’an (Al-Fatihah), it is deficient, deficient, deficient."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کسی نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز ناقص ہے وہ نماز ناقص ہے
وہ نماز ناقص ہے۔
(اس کی روایت صحاح ستہ نے کی ہے اور امام مالک، امام احمد، دارقطنی اور بیہقی نے بھی اس کی
روایت کی ہے۔)
It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every prayer in which Umm al-Kitab (Al-Fatihah) is not recited is deficient." [Narrated by Ibn Majah and Ibn Abi Shaybah]
In Al-Sa’ayah: These two narrations and similar ones indicate that Al-Fatihah is not a pillar (rukn). The term "khidaj" (with the kha’ voweled) means "deficient." If it were a pillar, the Prophet would have said, "It is invalid," because omitting a pillar invalidates the prayer. Deficiency, however, pertains to obligations (wajibat). Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory. 2
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے ناقص ہے۔
(اس کی روایت ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 840 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory
(2) The statement: "Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory": In Awjaz al-Masalik, it is noted that many misunderstand the Hanafis as permitting prayer without Al-Fatihah, which greatly surprised Al-Hafiz in Al-Fath. In reality, the Hanafis never permitted prayer without Al-Fatihah. The Hanafis only stated, in line with the Hadith, that such a prayer is deficient and must be repeated. Those who claim the Hadith invalidates the prayer are mistaken, as deficiency does not equate to non-existence.
Note 2
قوله
(۲) قوله: فعلم أن قراءة الفاتحة واجبة: قال في أوجز المسالك: إن عامتهم يفهمون من الحنفية أنهم قالوا بجواز الصلاة بدون الفاتحة، ولذا تعجب الحافظ في «الفتح» أشد التعجب، والحقيقة ليس كذلك. والحنفية أبدا ما قالوا بجوازها بدون الفاتحة والله در الحنفية، ما قالوا إلا ما ورد في الحديث أن هذه الصلاة ناقصة ذات خداج ونقصان يجب إعادتها. نعم، من أثبت بهذا الحديث بطلان الصلاة فهذا تحكم منه، فاسد؛ لأن الناقص لا يقال له: معدوم.
Note 1
ف (1) واضح ہو کہ نماز میں بعض چیزیں فرض ہیں اور بعض واجب ہیں، فرض اور واجب کے
درمیان فرق یہ ہے کہ جو چیزیں فرض ہیں اگر وہ عمداً ترک ہو جائیں یا سہواً دونوں صورتوں میں نماز باطل
ہو جاتی ہے اور کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ اس کا اعادہ نہ کیا جائے اس لئے کہ فرائض ادا کئے
بغیر نماز جائز ہی نہیں ہوتی۔
اس کے برخلاف نماز میں واجبات ترک ہو جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے بلکہ ناقص ہوتی
ہے، واجب اگر سہواً ترک ہوا ہے تو سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہو جاتی ہے اور اگر واجب عمداً ترک ہوا ہو
تو نماز کا لوٹانا ضروری ہے۔
فرض اور واجب کے اس فرق کو پیش نظر رکھ کر مذکورہ بالا دو حدیثوں پر غور کیجئے۔
مذکورہ بالا دو حدیثیں اور اسی طرح دوسری حدیثیں جو آگے آ رہی ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ
نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے اس لئے کہ حدیث شریف میں خداج کا لفظ آیا ہے جس کے
معنی ناقص کے ہیں اگر سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو جس میں
سورہ فاتحہ نہ پڑھی گئی ہو ”فَهِيَ بَاطِلَةٌ“ (وہ نماز باطل ہے) فرماتے :”فَهِيَ خِدَاجٌ“ (وہ نماز ناقص
ہے) نہ فرماتے، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ”فَهِيَ خِدَاجٌ“ فرمایا ہے اس لئے نماز ناقص
ہوگی باطل نہیں ہوگی۔ اس طرح حدیث شریف کے لفظ ”خِدَاجٌ“ سے ثابت ہو گیا کہ نماز میں سورہ
فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے فرض نہیں ہے۔
(یہ مضمون سعایہ رد المحتار اور المنتقی کے بین السطور سے ماخوذ ہے۔)
ف(2): مذکورہ حدیثوں کے پیش نظر احناف کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں
بلکہ واجب ہے اس سے بعض حضرات کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ احناف کے پاس سورہ فاتحہ پڑھے بغیر
بھی نماز جائز ہو جاتی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ احناف نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ سورہ فاتحہ
کے بغیر بھی نماز جائز ہو جاتی ہے۔
حنفیوں کی فراست کا کیا کہنا کہ انہوں نے تو وہی کہا ہے جو حدیث شریف کا منشاء ہے، حدیث
شریف میں ”خداج“ کا جو لفظ آیا ہے اس کے معنی ناقص کے ہیں اس لئے جس نماز میں سورہ فاتحہ نہ
پڑھی جائے تو وہ ناقص ہے اور نماز کے اس نقص کو دور کرنے کے لئے سہواً سورہ فاتحہ ترک ہو جائے تو
سجدہ سہو کیا جائے گا اور عمداً سورہ فاتحہ ترک کی گئی ہے تو نماز کا اعادہ ضروری ہوگا اور یہی حنفی مذہب ہے۔
البتہ جو حضرات حدیث کے لفظ ”خداج“ سے نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کی صورت میں
نماز کے باطل ہونے کا حکم لگاتے ہیں وہ حدیث کے منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اس لئے کہ ناقص چیز کو
معدوم نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ ناقص اور معدوم میں بڑا فرق ہے معدوم تو باطل کو کہتے ہیں جس کا وجود ہی
نہ ہوا اور ناقص ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جو نقص کے ساتھ موجود ہے اور حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے کہ
نمازی کے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز ناقص ہو جاتی ہے یعنی نماز ادا تو ہو جاتی ہے مگر ناقص رہتی ہے اور اس نقص
کا سجدہ سہو سے یا اعادہ سے دور کیا جانا ضروری ہے، اس کے باوجود بھی حنفیوں پر یہ اعتراض کہ یہ سورہ فاتحہ کے بغیر
نماز کے درست ہونے کے قائل ہیں کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ (یہ مضمون اوجز المسالک سے ماخوذ ہے۔)
It is narrated from Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) who said: "We were commanded to recite Al-Fatihah and whatever is easy (of the Qur’an)." [Narrated by Abu Dawud with a Sahih chain]
In a narration by Al-Tirmidhi and Ibn Majah: "There is no prayer for one who does not recite Al-Hamd (Al-Fatihah) and a Surah." In Ibn ‘Adiyy’s narration from Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him), the Prophet (peace be upon him) said: "The obligatory prayer is not valid except with Al-Fatihah and three or more verses."
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں نماز میں سورہ فاتحہ
اور قرآن سے جو ہو سکے (خواہ آیت ہو یا سورہ) پڑھنے کا حکم ہوا ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔)
اور ترمذی اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ جس نے نماز میں سورہ فاتحہ
اور کوئی سورۃ نہ پڑھی تو اس کی نماز کامل نہیں ہوئی بلکہ ناقص ہوئی۔
اور ابن عدی کی ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ اور کوئی تین آیتیں یا تین آیتوں سے
زیادہ کا پڑھنا نماز میں جو قرأت فرض ہے اس کے لئے کافی ہے، (اس لئے کہ نماز میں مطلق قرآن کا
پڑھنا فرض ہے، سورہ فاتحہ اور کسی سورہ کا پڑھنا واجب ہے چونکہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کی قرأت
ہو چکی ہے، اس لئے ان دونوں کی قرأت کے ضمن میں فرض قرأت بھی ادا ہو گئی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 818 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Three verses
(1) The statement: "Three verses": Our scholars (Hanafis) acted upon all these narrations by obligating the recitation of Al-Fatihah along with a Surah or three additional verses. Since these are solitary narrations (ahad), they do not establish an absolute obligation (farḍ). The only obligation, according to us, is general recitation, as Allah said: "Recite what is easy of the Qur’an" (73:20). Restricting this to Al-Fatihah exceeds the general textual command, which is impermissible. Thus, we combined the narrations, obligating Al-Fatihah with a Surah or three verses. The statement "No prayer except with Al-Fatihah" is akin to "No prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque" (indicating excellence, not validity). This was affirmed by prominent companions, as stated by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثلاث آيات وقد عمل أصحابنا بكل الحديث حيث أوجبوا قراءة الفاتحة وضم سورة أو ثلاث آيات معها؛ لأن هذه الأخبار أخبار آحاد، فلا تثبت بها الفرضية، وليس الفرض عندنا إلا مطلق القراءة؛ لقوله تعالى: ﴿فَأَقْرَهُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ﴾ (المزمل: (۲۰) فأمر بقراءة ما تيسر من القرآن مطلقا، وتقييده بالفاتحة زيادة على مطلق النص، وذا لا يجوز، فعملنا بالكل، وأوجبنا قراءة الفاتحة وضم سورة أو ثلاث آيات معها. وقلنا: إن قوله: لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب مثل معنى قوله: لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد، وصح أيضًا عن جماعة من الصحابة إيجاب ذلك، قاله العلامة العيني في عمدة القاري.
Note 1
ف: واضح ہو کہ نماز میں مطلق قرأت قرآن، سورہ فاتحہ اور ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین آیتیں یا
تین آیتوں سے زیادہ کا پڑھنا ان میں مطلق قرأت قرآن کی فرضیت کے متعلق نص قرآنی اور دوسری
چیزوں کے وجوب کے متعلق جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں احناف نے ان سب میں حسب ذیل طریقہ پر
اس طرح تطبیق دی ہے کہ جس سے نص قرآنی اور ساری حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ نماز میں
مطلق قرأت قرآن فرض ہے اور سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور سورہ فاتحہ کے ساتھ ضم سورہ یا ضم سورہ
میں تین آیتوں کا پڑھنا بھی واجب ہے۔
احناف کے پاس نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے
”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (تم لوگ نماز میں قرآن سے جو کچھ ہو سکے پڑھ لیا کرو۔) اس
آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تم نماز میں قرآن سے جو ہو سکے پڑھ لیا کریں اور یہ حکم مطلق ہے
جو قرآن کے کسی خاص حصے سے مخصوص اور مقید نہیں ہے کہ جس کو نماز میں پڑھنا لازم کیا جائے، اس کی
تائید مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے:
”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
لَاصَلَوةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ“۔
(ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
قرأت قرآن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔)
اس حدیث سے بھی نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔
جو حضرات نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دیتے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ جب کسی
مسئلہ میں دو حکم وارد ہوں جن میں (1) ایک مطلق ہو اور (2) دوسرا مقید، تو اصولیین کے قاعدے کے
مطابق مطلق حکم سے مقید حکم مراد لیا جاتا ہے اور مطلق نہیں رکھا جاتا جیسے نماز میں قرأت کا مسئلہ ہے، اس
میں دو حکم وارد ہیں، ایک مطلق ہے جو آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ سے ثابت ہوتا ہے
کہ نماز میں مطلق قرآن کا پڑھنا فرض ہے اور دوسرا حکم حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“
سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی قرأت کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی اس لئے وہ حضرات جن کے پاس
نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے وہ اس اصولی قاعدے کے تحت اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ
آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ میں جو مطلق قرأت کا حکم ہے اس سے مراد حدیث شریف
کا مقید حکم ہی ہے جو ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے معلوم ہو رہا ہے، اس طرح یہاں دو حکم
علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حکم ہے جو کہیں مطلق بیان کیا گیا اور کہیں مقید اور اسی بناء پر ان حضرات
کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا آیت اور حدیث دونوں سے فرض قرار پاتا ہے۔
حنفی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ مطلق حکم اور مقید حکم سے ایک ہی چیز اسی وقت مراد
ہوسکتی ہے جبکہ دونوں حکم کے ماخذ قوت میں برابر ہوں، یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ مطلق قرأت تو
قرآن سے ثابت ہو رہی ہے اور سورہ فاتحہ کی قرأت خبر واحد سے اگر آیت اور حدیث دونوں سے ایک
ہی حکم مراد لیا جائے تو قرآن کے مطلق حکم پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی لازم آجائے گی حالانکہ کتاب اللہ
پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی جائز نہیں ہے، اس لئے یہاں مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد نہیں
لے سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم نے مطلق کو مطلق رکھ کر بحکم کتاب اللہ نماز میں مطلق قرأت کو فرض قرار
دیا اور مقید حکم یعنی سورہ فاتحہ کی قرأت کو خبر واحد سے ثابت ہونے کی وجہ سے واجب قرار دیا، اس طرح
ہم نے قرآن اور حدیث دونوں پر عمل کیا۔
اس کے قطع نظر مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد لے کر نماز میں سورہ فاتحہ کو فرض قرار
دیں تو وہ حضرات جن کے پاس سورہ فاتحہ کی قرأت فرض ہے ان پر لازم آ جائے گا کہ ضم سورہ کی قرأت کو
بھی فرض قرار دیں، اس لئے کہ جن حدیثوں میں سورہ فاتحہ کا ذکر ہے ان میں ضم سورہ کا بھی ذکر موجود
ہے، حالانکہ یہ حضرات ضم سورہ کی قرأت کو سنت قرار دیتے ہیں، اس کے برخلاف ہم مطلق اور مقید کو
علیحدہ علیحدہ دو حکم قرار دے کر آیت سے مطلق قرأت کی فرضیت ثابت کرتے ہیں اور حدیث سے جس
طرح سورہ فاتحہ کی قرأت کو واجب کہتے ہیں، ایسا ہی ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین یا تین سے زائد آیتوں کو
بھی واجب قرار دیتے ہیں۔
مذکورہ بالا توضیحات سے ثابت ہو گیا کہ حدیث ” لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ “ چونکہ خبر
واحد ہے اس لئے یہ حدیث قوت میں آیت: ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ “ کے برابر نہیں ہو سکتی
جس کی وجہ سے آیت کے مطلق حکم کو مقید نہیں کیا جا سکتا۔
اگر کوئی کہے کہ حدیث ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ خبر واحد نہیں ہے بلکہ خبر مشہور ہے
اس لئے اس حدیث سے آیت ” فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ “ کے مطلق حکم کو مقید کیا جا سکتا ہے
تو اس کے دو جواب ہیں:
(1) ایک جواب تو یہ ہے کہ ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کو اس لئے خبر مشہور نہیں کہا
جا سکتا ہے کہ تابعین کے درمیان اس حدیث کے مشہور ہونے میں اختلاف ہے اور سب تابعین نے اس
حدیث کو قبول نہیں کیا ہے اور خبر مشہور اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو سب تابعین قبول کر لیں اگر ”لَاصَلٰوةَ
إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کا خبر مشہور ہونا صحیح ہوتا تو اس حدیث سے آیت ” لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ “ کے حکم مطلق کو مقید کر کے نماز میں سورہ فاتحہ کی فرضیت کی جا سکتی تھی لیکن جب ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ
الْكِتَابِ“ کا خبر مشہور ہونا ثابت نہیں ہوا تو یہ خبر واحد ہوئی اور ظاہر ہے کہ خبر واحد سے کتاب اللہ کے حکم مطلق کو مقید
نہیں کیا جا سکتا، اس لئے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کا فرض ہونا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
(2) دوسرا جواب یہ ہے کہ بالفرض اگر حدیث ” لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ “ کو خبر مشہور
تسلیم کرلیا جائے تو اس کے باوجود بھی آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ کے حکم مطلق کو اس
حدیث سے مقید نہیں کیا جاسکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر مشہور سے کسی آیت کے حکم مطلق کو اسی وقت مقید
کرسکتے ہیں جبکہ وہ خبر مشہور محکم ہو یعنی اس سے ایک ہی معنی مراد لئے جاتے ہوں، اور اس میں دوسرے
معنے کا احتمال نہ ہو، یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ میں دو
معنوں کا احتمال موجود ہے ایک معنی تو یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی اور دوسرے معنی یہ ہیں
کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں بلکہ ناقص ہوتی ہے اور اس دوسرے معنی کی نظیر حدیث ”لَاصَلٰوةَ
لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِى الْمَسْجِدِ“ ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی حالانکہ
اس حدیث سے یہ معنی کسی نے بھی مراد نہیں لئے ہیں بلکہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد کے پڑوسی
کی نماز گھر میں ادا تو ہوجاتی ہے مگر ناقص اور غیر افضل رہتی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ حدیث ”لَا
صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ میں مذکورہ دونوں معنوں کا احتمال ہے اور ایسی مشہور حدیث جس میں دو
معنوں کا احتمال پایا جاتا ہو وہ کسی آیت کے مطلق حکم کو مقید نہیں کرسکتی۔
اس طرح ثابت ہوا کہ حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کے ذریعہ آیت ”فَاقْرَءُوْا
مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ کے مطلق حکم کو مقید کرکے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دینا درست
نہیں بلکہ آیت مذکورہ کے لحاظ سے نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہے اور حدیثوں کے لحاظ سے نماز
میں سورہ فاتحہ ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین یا تین سے زیادہ آیتوں کا پڑھنا واجب ہے اور یہی مذہب حنفی
ہے۔ (عمدة القاری، مرقات۔)
It is narrated from ‘Ubadah ibn al-Samit (may Allah be pleased with him) attributing it to the Prophet (peace be upon him): "There is no prayer for one who does not recite Al-Fatihah or more."
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے
ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے (نماز میں) سورہ فاتحہ اور اس پر قرآن
کا کچھ حصہ زیادہ کرکے نہ پڑھا تو اس کی نماز کامل نہیں ہوئی ناقص ہوئی۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "The Prophet (peace be upon him) would recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." He added: "We used to discuss that no prayer is valid except with Surah Al-Fatihah and something additional to it." [Narrated by Al-Bayhaqi] 2
It is also narrated by Ubaydullah ibn Miqsam from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) that he said: "The Sunnah of recitation in prayer is to recite Surah Al-Fatihah and another Surah in the first two rak’ahs, and only Surah Al-Fatihah in the last two rak’ahs." Sufyan added: "This is for one who prays alone." [Narrated by Abu Dawud]
Al-Tirmidhi said: "As for Ahmad ibn Hanbal, he said that the meaning of the Prophet’s (peace be upon him) statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' applies when praying alone." He argued with the Hadith of Jabir ibn Abdullah, where he said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam." Ahmad said: "This is a companion of the Prophet (peace be upon him) interpreting the Prophet’s statement, 'There is no prayer for one who does not recite Surah Al-Fatihah,' as applying to one who prays alone."
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم (چار رکعت والی فرض نماز کی) پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ ضم کرلیا
کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے، جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
ہمارے زمانہ میں یہ بات مشہور تھی کہ نماز میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ ضم سورہ کئے بغیر نماز جائز نہیں
ہوتی۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور اس
کے ساتھ کسی سورہ کو ضم کرنا اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ کا پڑھنا سنت ہے (یعنی فرض نہیں
ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 803 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 2
Narrated by Al-Bayhaqi
(2) The statement: "Narrated by Al-Bayhaqi": All its narrators are trustworthy except Abu Ghanim Azhar ibn Ahmad ibn Hamdun, the teacher of Al-Hakim. Al-Bayhaqi mentioned him in a context of reliance, so he is acceptable according to him. This is an explicit text indicating the impermissibility of prayer without adding something to Surah Al-Fatihah. Jabir explained this addition as a Surah. It also indicates that Surah Al-Fatihah is not a pillar (rukn) of prayer, as Jabir equated it with the Sunnah of reciting a Surah, treating them equally. [Summarized from I’la al-Sunan]
Note 2
قوله
(۲) قوله: رواه البيهقي: رجاله كلهم ثقات ما خلا شيخ الحاكم أبي غانم أزهر بن أحمد بن حمدون، فقد ذكره البيهقي في موضع الاحتجاج به، فهو صالح له عنده، وهو نص صريح في عدم جواز الصلاة بدون ضم شيء إلى الفاتحة، وقد فسره جابر بسورة، وأيضًا يدل على أن الفاتحة ليست بركن في الصلاة؛ لأن جابرا جعلها من السنة مثل السورة، سواء بسواء، من تعليق إعلاء السنن ملخصا.
Note 1
ف(1): اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں یہ بات مشہور تھی کہ
سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہوتی اس سے ثابت ہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا ہر نماز میں
پڑھنا واجب ہے خواہ وہ نماز وتر ہو یا سنت یا نفل ان تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا
پڑھنا ضروری ہوگا، البتہ جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرض کی چار رکعت
والی نماز یا تین رکعت والی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا پڑھنا ضروری ہوگا
اور آخری دو یا ایک رکعت میں صرف سورہ فاتحہ کا پڑھ لینا کافی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنے کے لئے فرض کی پہلی دو
رکعتوں کو ہی معین کرلینا واجب ہے اگر کسی نے سورہ فاتحہ اور ضم سورہ یا ان میں سے کسی ایک کو فرض نماز کی
پہلی دو رکعتوں میں پڑھنا بھول گیا اور ان کی آخری دو رکعتوں میں پڑھ لیا تو چونکہ اس نے پہلی دو
رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ پڑھنا جو واجب تھا سہواً ترک کر دیا ہے اس وجہ سے اس کو سجدہ سہو کرنا
ضروری ہوگا۔ (عمدۃ القاری، ردالمحتار۔)
مذکور الصدر حدیث جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس کو عبیداللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ نے
اس طرح روایت کیا ہے کہ
Note 2
ف(2): عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ایک تو یہ
ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا رکن یعنی فرض نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے مذکورہ
حدیث میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو ضم سورہ کی طرح سنت قرار دیا ہے فرض نہیں کہا ہے اور ظاہر ہے کہ
کسی صحابی کا کسی چیز کو سنت قرار دینا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ چیز فرض نہیں ہو سکتی، یہاں یہ بات
واضح رہے کہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کو جو سنت قرار دیا گیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا پڑھنا
واجب نہیں ہے اس لئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں عام طور پر دو اصطلاحیں تھیں، ایک فرض
دوسرے سنت، اور سنت میں فرض کے سوا ہر چیز داخل تھی، خواہ وہ واجب ہو یا سنت موکدہ یا غیر موکدہ ہو
یا نفل، غرض ان تمام چیزوں پر سنت کا اطلاق ہوتا تھا چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ کا اس حدیث میں سورہ فاتحہ
اور ضم سورہ کو سنت کہنا انہی معنوں میں تھا کہ یہ فرض نہیں ہیں، یعنی واجب ہیں۔
علاوہ ازیں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کے واجب ہونے کے متعلق حدیثیں ابھی اوپر گزر چکی ہیں۔
عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے دوسری چیز یہ ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح نماز
میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اسی طرح ضم سورہ کا پڑھنا بھی واجب ہے اس لئے کہ جابر رضی اللہ عنہ
نے سورہ فاتحہ اور ضم سورہ دونوں کا ذکر ایک ہی حیثیت سے کیا ہے۔
(یہ مضمون تعلیق اعلاء السنن سے ماخوذ ہے۔)
عبادہ بن صامت اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیثوں سے واضح ہو گیا کہ نماز میں
سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کا پڑھنا ضروری ہے اور ان دونوں کے بغیر نماز جائز نہیں اس کی توضیح میں حضرت
سفیان ابن عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ان مذکورہ حدیثوں کا حکم اس شخص کے لئے ہے جو تنہا نماز پڑھ
رہا ہو۔ (مقتدی کے لئے یہ حکم نہیں ہے اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا چاہئے)۔
حضرت سفیان کے اس قول کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں کی ہے۔
واضح ہو کہ مذکورہ بالا حدیثوں کی توضیح میں جس طرح ابوداؤد نے اپنی سنن میں حضرت سفیان
بن عیینہ کا قول نقل کیا ہے اسی طرح ترمذی نے بھی اپنی سنن میں حدیث لَا صَلٰوةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ
بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کے متعلق امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ حدیث تنہا نماز
پڑھنے والے سے متعلق ہے مقتدی سے متعلق نہیں ہے اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا ضروری ہے۔)
نیز ترمذی نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے اس خصوص میں جابر ابن عبداللہ رضی اللہ
عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے: ”مَنْ صَلّٰى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيْهَا بِأُمِّ
الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ وَرَاءَ الْإِمَامِ“۔
(جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوئی، مگر یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو
(تنہا ہو) اور امام کے پیچھے (مقتدی کی حالت میں) نہ ہو۔
امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کے اس ارشاد ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث تنہا نماز پڑھنے
والے سے متعلق ہے۔
واضح رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے بہتر کوئی نہیں سمجھ
سکتا اور جب جابر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد کی تفسیر یہ کی ہے
کہ یہ حدیث تنہا نماز پڑھنے والے سے متعلق ہے تو یہ حکم مقتدی سے متعلق نہ ہوگا۔ (یہ مضمون ترمذی
سے ماخوذ ہے۔)
It is narrated from Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) who said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam."
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جو شخص نماز میں
سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوئی، مگر یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو (تنہا ہو) اور امام کے پیچھے
مقتدی کی حالت میں نہ ہو۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، نیز امام محمد، امام مالک
اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
It is also narrated from Jabir (may Allah be pleased with him), from the Prophet (peace be upon him), who said: "Whoever prays a rak’ah without reciting Surah Al-Fatihah has not prayed, unless he is behind the Imam."
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز پڑھی اور اس میں اس نے سورہ فاتحہ نہ
پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی مگر یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو (تنہا ہو اور امام کے پیچھے (مقتدی کی
حالت میں نہ ہو۔)(اس لئے کہ مقتدی کو خاموش رہنا ضروری ہے۔)۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ف: قرأت خلف الامام کے بارے میں جتنی حدیثیں آئی ہیں وہ امام اور منفرد کی قرأت سے
متعلق ہیں، اس لئے ان احادیث سے مقتدی کے لئے بھی قرأت کا وجوب ثابت کرنا درست نہیں،
ابتداء اسلام میں مقتدی کے لئے بھی سورہ فاتحہ اور ضم سورہ کی قرأت جائز تھی پھر ضم سورہ کی قرأت
منسوخ ہوگئی اور مقتدی کے لئے جو سورہ فاتحہ کی قرأت باقی تھی وہ بھی بعد ازاں منسوخ ہوگئی۔ اب
مقتدی کو نہ تو سورہ فاتحہ پڑھنا چاہئے اور نہ ضم سورہ۔
(یہ اوجز المسالک میں مذکور ہے۔)
On his authority: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever performs a prayer in which he does not recite the Mother of the Book, it is incomplete, except behind the imam." 1
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بغیر سورہ فاتحہ کے نماز پڑھتے تو اس کی نماز ناقص
ہے لیکن یہ حکم اس مقتدی کے لئے نہیں ہے جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے۔ (اس کو تو خاموش رہنا
ضروری ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
(1) His saying: "Except behind the imam": Sheikh Al-Janjuhawi said that the narrations regarding recitation behind the imam cannot be used as evidence to obligate the follower's recitation. Initially, the follower was permitted to recite in prayer, then this was abrogated while allowing the recitation of Al-Fatihah, and then it was completely abrogated. This is mentioned in Aujaz Al-Masalik.
Note 1
قوله
(۱) قوله: إلا وراء الإمام: وقال الشيخ الجنجوهي: إن الروايات الواردة في أمر القراءة خلف الإمام لا يصحالاستدلال بها على وجوب القراءة للمقتدي، وأن المؤتم كان القراءة له مباحا في أول الإسلام، ثم نسخ وبقي إباحة الفاتحة، ثم نسخ بالمنع مطلقا، كذا في «أوجز المسالك».
On his authority, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "A prayer is not valid if Al-Fatihah is not recited in it, except when praying behind the imam."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ جو شخص بغیر سورہ فاتحہ کے نماز پڑھتے تو یہ نماز (ترک واجب کی وجہ سے) اس کو کافی نہ ہوگی
مگر یہ حکم اس مقتدی کے لئے نہیں ہے جو امام کے پیچھے ہو(اس لئے کہ مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی
ضرورت نہیں۔) (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
On the authority of Abu Sa’id, he said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about a man praying behind the imam without reciting anything. Would that suffice him? He said: "Yes."
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو امام کے پیچھے کچھ نہ پڑھتا ہو (نہ سورہ فاتحہ نہ کوئی
اور سورہ) کیا اس کے لئے یہ کافی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کافی ہے۔
(اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
On the authority of Ibn Abbas, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Any prayer in which Al-Fatihah is not recited is not valid, except behind the imam."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نماز (ترک واجب کی وجہ
سے) کامل نہیں ہوتی، مگر یہ حکم مقتدی کے لئے نہیں ہے جو امام کے پیچھے ہو۔ (اس لئے کہ مقتدی کو
سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔) (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
On the authority of Kathir bin Murrah Al-Hadrami, from Abu Darda, who heard him say: The Messenger of Allah ﷺ was asked: "Is there recitation in every prayer?" He said: "Yes." A man from the Ansar asked: "Is this obligatory?" He turned to me, as I was the closest among the people to him, and said: "I do not see that the imam, when he leads the people in prayer, has not sufficed them." [Narrated by Al-Nasa’i, At-Tahawi, and Al-Bayhaqi]
Al-Nasa’i said: "It indicates that the follower is sufficed with the recitation of the imam."
کثیر بن مرۃ حضرمی رضی اللہ عنہ ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں
کہ انہوں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا
کہ کیا ہر نماز میں قرأت ضروری ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (اس پر) انصار میں سے
ایک شخص نے عرض کیا کہ اب قرأت ہر نماز میں فرض ہوگئی (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری
طرف متوجہ ہوئے اور اس وقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: یاد رکھو! امام جب لوگوں کی امامت کرے تو اس کی قرأت مقتدیوں کی قرأت کے لئے بالکل
کافی ہے۔ (مقتدیوں کو پھر قرأت کرنے کی ضرورت نہیں۔) (اس کی روایت نسائی، طحاوی اور بیہقی
On the authority of Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ finished a prayer in which he had recited aloud, and he said: "Did any of you recite with me just now?" A man said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "I was wondering why I was being contended with in my recitation." After that, people refrained from reciting aloud in the prayers where the Messenger of Allah ﷺ recited aloud. [Narrated by Al-Nasa’i, Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Ahmad, Malik, and Muhammad whileIbn Majah narrated a similar report]
Al-Nasa’i said: "This indicates refraining from recitation behind the imam in prayers where he recites aloud."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی نماز
سے جس میں قرأت جہر سے کی جاتی ہے فارغ ہو کر فرمایا کیا تم میں سے ابھی کوئی میرے ساتھ
قرآن پڑھ رہا تھا؟ اس پر ایک شخص نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پڑھ رہا تھا
(یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسی لئے تو میں بھی (دل میں) کہہ رہا تھا کہ نماز
میں میرے ساتھ قرآن کی کشاکشی کیوں ہو رہی ہے (یعنی قرأت کے ذریعہ میں لوگوں کو اپنی طرف
متوجہ کرتا ہوں اور لوگ قرآن پڑھ کر مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں) جب اس حکم کو لوگوں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تو حضور کے پیچھے مقتدی ہو کر جہری نماز میں قرآن (خواہ سورہ فاتحہ ہو یا کوئی
اور سورہ) کا پڑھنا ترک کر دیا۔ (اس کی روایت نسائی، ترمذی، ابوداؤد، امام احمد، امام مالک اور امام محمد
نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور نسائی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اس
بات کا ثبوت ہے کہ جس نماز میں قرأت بالجہر کی جائے اس میں مقتدی (امام کے پیچھے) قرأت نہ
کرے۔
On his authority, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The imam is appointed to be followed, so when he says the takbir, say the takbir; and when he recites, listen attentively." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Ibn Majah]
This is an authentic hadith, and At-Tahawi narrated a similar report.
In a narration of Muslim from Abu Huraira and Qatadah: "And when he recites, listen attentively."
In another narration of his: "And when he says,
, say Ameen."
Ali Al-Qari said: "This implies the necessity of silence and listening."
It was said: "This indicates that the follower does not recite Al-Fatihah; otherwise, it would have been more appropriate to say: 'When one of you says
, then say Ameen.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے لہٰذا جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم
بھی اللہ اکبر کہو، اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔ (اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور ابن
ماجہ نے کی ہے۔) اور یہ حدیث صحیح ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں ابوہریرہ اور قتادہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امام
جب قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔
اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام جب ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ
عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ کہے تو تم آمین کہو۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں مقتدی کے لئے سکوت اختیار کرنے
اور امام کی قرأت کو خاموشی سے سننے کی طرف اشارہ ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں اس
بات کا ثبوت ہے کہ مقتدی سورہ فاتحہ نہ پڑھے اسی لئے کہا گیا ہے کہ امام جب سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے ”
وَلَا الضَّالِّينَ“ پر پہنچے تو مقتدی آمین کہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس کے بجائے یوں کہا جاتا کہ تم میں کا
ہر ایک (مقتدی ہو یا امام) ”وَلَا الضَّالِّينَ“ تک پہنچے تو آمین کہے ایسا نہ کہہ کر جب یہ کہا گیا کہ
امام ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“
کہے تو تم آمین کہو اس سے ثابت ہوا کہ مقتدیوں کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ
خاموشی سے امام کی قرأت سنتے رہیں۔
On the authority of Anas, he said: The Messenger of Allah ﷺ prayed, then turned towards the people and said: "Do you recite while the imam is reciting?" They remained silent. He asked them three times, and they replied: "Indeed, we do." He said: "Then do not do so."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب امام قرأت
کر رہا ہو تو کیا تم بھی اس وقت قرأت کیا کرتے ہو؟ سب نے سکوت اختیار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے سب سے اسی طرح تین دفعہ دریافت فرمایا سب نے عرض کیا جی ہاں! ہم بھی امام کے ساتھ
قرأت کیا کرتے ہیں (اس پر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ (جب تم مقتدی ہوں) تو امام
کے پیچھے قرأت نہ کیا کرو۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
On the authority of Ibn Amr Al-Bayadhi, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "A person in prayer is conversing with his Lord, so let him consider what he is saying to Him, and do not raise your voices over one another with the Qur'an." 1
ابن عمرو بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازی اپنے پروردگار سے (نماز میں) راز و نیاز کرتا رہتا ہے، پس وہ
غور کرلے کہ اپنے پروردگار سے کیا راز و نیاز کرتا رہتا ہے، پس وہ غور کرلے کہ اپنے پروردگار سے کیا
راز و نیاز کر رہا ہے؟ اس لئے تم (سب مقتدی) ایک دوسرے پر بآواز بلند قرأت قرآن کرکے (نماز
کے راز و نیاز میں خلل مت ڈالو بلکہ) سب خاموش رہا کرو۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Do not raise your voices over one another with the Qur'an
(1) His saying: "Do not raise your voices over one another with the Qur'an": At-Tahawi said: Since these narrations differed, we sought to understand their ruling through reasoning. We found that they all agree that if a person joins the imam while he is bowing, he should say the takbir and bow with him, and that this counts as a valid rak'ah even if he did not recite anything. This could mean that it is allowed due to necessity, or that recitation behind the imam is not obligatory. When we examined the matter, we found that scholars agree that if a person bows before entering the prayer properly, it is not valid. This proves that certain pillars of prayer are essential, while recitation behind the imam is not necessarily one of them.
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن قال الطحاوي: فلما اختلفت هذه الآثار المروية في ذلك التمسنا حكمه من طريق النظر، فرأيناهم جميعا لا يختلفون في الرجل يأتي الإمام وهو راكع أنه يكبر ويركع معه، ويعتد تلك الركعة وإن لم يقرأ فيها شيئا. فلما أجزأه ذلك في حال خوفه فوت الركعة احتمل أن يكون إنها اجزاء ذلك لمكان الضرورة واحتمل أن يكون إنها أجزأه ذلك؛ لأن القراءة خلف الإمام ليست عليه فرضا، فاعتبرنا ذلك.
فرأيناهم لا يختلفون أن من جاء إلى الإمام وهو راكع، فركع قبل أن يدخل في الصلاة بتكبير كان منه: إن ذلك لا يجزئه، وإن كان إنما تركه لحال الضرورة وخوف قوات الركعة. فكان لا بد له من قَوْمَةٍ في حال الضرورة وخوف فوات الركعة، فكان لا بد له من قومة في حال الضرورة وغير حال الضرورة.
فهذه صفات الفرائض التي لا بد منها في الصلاة، ولا تجزئ الصلاة إلا بإصابتها. فلما كانت القراءة مخالفة لذلك وساقطة في حال الضرورة كانت من غير جنس ذلك، فكانت في النظر أنها ساقطة في غير حالة الضرورة، فهذا هو النظر في هذا.
Note 1
ف: واضح رہے کہ قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مقتدی جہری اور سری ہر دو
نمازوں میں امام کے پیچھے نہ سورہ فاتحہ پڑھے اور نہ کوئی اور سورت، یہ نقلی دلیلیں تھیں جن کو آپ سن چکے
اب اس پر عقلی دلیل امام طحاوی رضی اللہ عنہ سے سنئے۔
وہ فرماتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے امام کو رکوع میں پایا اور قیام کی حالت میں تکبیر تحریمہ
کے لئے ”اللہ اکبر“ کہہ کر بغیر قرأت کئے رکوع میں امام سے جاملا تو جمہور ائمہ کا بلا اختلاف اس
بات پر اتفاق ہے کہ اس کو بلا شبہ وہ رکعت مل گئی، اگرچہ کہ اس نے اس رکعت کے قیام میں کچھ قرأت
نہیں کی ہے۔ (یہ عمدۃ القاری، جلد:2، صفحہ:559، میں مذکور ہے۔)
جمہور ائمہ کے اس قول کی توجیہ دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ مقتدی پر امام کے پیچھے قرأت
فرض نہیں تھی اس لئے اس کو وہ رکعت قرأت ترک ہونے کے باوجود مل گئی اور یہی مذہب حنفی ہے۔
دوسری توجیہ یہ ہے کہ اس شخص پر قرأت فرض تو تھی مگر رکعت فوت ہونے کے اندیشہ سے ضرورۃً
ساقط ہوگئی اور یہ دیگر ائمہ کا مسلک ہے، اس دوسری توجیہ کے سلسلہ میں فرض کی ماہیت پر غور کرنا
ضروری ہے کہ کیا کسی فرض کو ضرورۃً ترک کر دیا جا سکتا ہے؟
ایک ایسا شخص جس نے امام کو رکوع میں پایا اور رکعت فوت ہونے کے اندیشہ سے ضرورۃً قیام
کے لئے بغیر تکبیر تحریمہ کہے ہوئے امام سے رکوع میں جاملا تو جمہور ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے شخص
کو وہ رکعت نہیں ملی، حالانکہ اس نے ضرورۃً قیام ترک کیا ہے، اس مثال سے صراحت کے ساتھ معلوم
ہوگیا کہ قیام فرض ہے اور فرض ایسا عمل ہے جس کو ضرورۃً بھی ساقط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی ادائی
ضرورت اور غیر ضرورت ہر دو موقعوں پر لازمی ہے۔
فرض کی ماہیت کو اس مثال سے سمجھنے کے بعد قرأت خلف الامام کی نوعیت پر غور کرنے سے
معلوم ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام پر فرض کی ماہیت صادق نہیں آتی، اس لئے کہ مقتدی کے لئے
قرأت خلف الامام جس طرح دیگر ائمہ کے پاس ضرورۃً ساقط ہو جاتی ہے اسی طرح ہمارے پاس متعدد
احادیث سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے ساقط ہے اس کے برخلاف اگر قرأت خلف الامام فرض ہوتی تو
وہ نہ ضرورۃً ساقط ہوتی ہے اور نہ بلا ضرورت اس لئے کہ فرائض کسی وجہ سے ساقط نہیں ہو سکتے۔
اس طرح ثابت ہو گیا کہ مقتدی پر قرأت خلف الامام فرض نہیں ہے جیسا کہ متعدد احادیث اس
کے مقتدی پر فرض نہ ہونے پر وارد ہیں۔ (یہ پورا مضمون طحاوی شریف سے ماخوذ ہے۔)
On the authority of Imran bin Husayn, he said: The Prophet ﷺ prayed Dhuhr, and a man behind him recited سبح اسم ربك الأعلي. When he finished the prayer, he said: "Who recited سبح اسم ربك الأعلي?" A man said: "I did." He said: "I knew that some of you were competing with me in recitation." [Narrated by Al-Nasa’i]
Al-Nasa’i said: "This indicates refraining from recitation behind the imam in prayers where he does not recite aloud."
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی تو حضور علیہ السلام کے پیچھے (نماز میں) ایک شخص نے (سورۃ)
”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“ پڑھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ
نے دریافت فرمایا کہ نماز میں کون ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“ پڑھ رہا تھا؟ ایک شخص نے عرض
کیا کہ حضور میں پڑھ رہا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب ہی تو) میں محسوس کر رہا تھا کہ تم
میں سے کوئی شخص (قرآن پڑھ کر) مجھے الجھن میں ڈال رہا ہے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔) اور نسائی نے کہا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ
مقتدی امام کے پیچھے سرّی نمازوں میں بھی قرأت نہ کرے۔
On the authority of Umar bin Al-Khattab, he said: The Messenger of Allah ﷺ once led the Dhuhr prayer, and a man from among the people recited to himself. The Prophet ﷺ said: "Did anyone among you recite with me?" He repeated this three times, and the man replied: "Yes, O Messenger of Allah, I was reciting سبح اسم ربك الأعلي." The Prophet ﷺ said: "Why do I find myself contending with the Qur'an? Is it not sufficient for one of you to rely on the recitation of his imam? Indeed, the imam is appointed to be followed, so when he recites, listen attentively."
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک شخص نے
آہستہ قرأت کی نماز کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ لوگوں میں سے
کسی نے (نماز میں) میرے ساتھ قرأت کی ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کو تین دفعہ
فرمایا تو وہ شخص جس نے قرأت کی تھی عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ”سَبِّحِ
اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى“ کی قرأت کی ہے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں میرے
ساتھ قرأت قرآن کر کے کیوں مجھے الجھن میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا آپ لوگوں میں سے ہر (مقتدی)
کو اس کے امام کی قرأت کافی نہیں ہے؟ امام تو اسی لئے بنایا گیا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے اس لئے
جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہا کرو۔
(اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
On the authority of Jabir bin Abdullah, from the Prophet ﷺ, he said: "Whoever has an imam, the recitation of the imam is his recitation." 1 [Narrated by Ibn Majah while narrated by Ibn Hibban from Anas, and by Al-Daraqutni from Abu Huraira]
In Fath Al-Mulhim, it is mentioned: Al-Bayhaqi interpreted this hadith and similar ones as referring to abandoning loud recitation behind the imam and reciting the surah without Al-Fatihah. However, this is a specific interpretation without clear evidence and is far from the intended meaning of the hadith. The incident took place during Dhuhr and Asr prayers, as confirmed by the narration of the imam, so what sense would it make for someone to recite aloud during these prayers when the imam and other followers were not doing so?
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اس کے لئے کافی
ہے۔ (اس لئے مقتدی کو قرأت کی ضرورت نہیں ہے)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
اور اسی حدیث کی روایت ابن حبان نے انس رضی اللہ عنہ سے
اور دار قطنی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 850 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Unnumbered commentary
Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation.
The saying: "Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation."
And in Al-Rawd Al-Murbi‘ from Hanbali jurisprudence: "There is no recitation upon the follower," meaning the Imam bears the recitation of Al-Fatihah on his behalf due to this Hadith, as mentioned in Aujaz Al-Masalik.
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
قوله
(۱) قوله: من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة له وفي الروض المربع من فقه الحنابلة: ولا قراءة على مأموم، أي يتحمل الإمام عنه قراءة الفاتحة، لهذا الحديث، قاله في أوجز المسالك».
Note 1
ف(1): یہ اور اسی قسم کے دیگر احادیث میں مقتدی کے لئے امام کے پیچھے مطلقاً قرأت نہ
کرنے کا حکم وارد ہوا ہے اس لئے مقتدی امام کے پیچھے نہ سورہ فاتحہ پڑھے نہ کوئی اور سورہ۔
اس کے برخلاف جن حضرات نے ان احادیث سے جن میں مقتدی کو قرأت نہ کرنے کا عام حکم
موجود ہے اس عام حکم میں سورہ فاتحہ کو شامل نہ کر کے صرف ضم سورہ نہ پڑھنے سے خاص کیا ہے، یہ
تخصیص بلا مخصص ہے، حدیث کے عام حکم کو بغیر کسی سبب کے خاص کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی،
جبکہ اور احادیث میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے جو
ابھی اوپر نسائی، ترمذی بیہقی اور طحاوی وغیرہم کے حوالے سے گزر چکی ہیں۔
(یہ مضمون فتح الملہم سے ماخوذ ہے۔)
ف(2): امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے
”مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ“ (جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی کی
قرأت ہے) فقہ حنبلی کی کتاب الروض المربع میں اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
”وَلَا قِرَاءَةَ عَلَى مَأْمُومٍ“ (مقتدی پر کسی قسم کی قرأت نہیں ہے۔) (اس لئے نہ سورہ فاتحہ پڑھے اور
نہ ضم سورہ کرے۔) اس کا مفہوم یہ ہے کہ امام سورہ فاتحہ کو اپنے اور مقتدی کی طرف سے ادا کر لیتا ہے اس
لئے مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (یہ مضمون اوجز المسالک سے ماخوذ ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا ...... الخ“ کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب امام نماز میں قرآت جہر سے کرے تو مقتدی اس کو کان لگا کر سنے اور جب امام قرآن آہستہ پڑھے تو وہ چپ رہے، چنانچہ مدارک نے اس آیت کی تفسیر جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس طرح کی ہے: ”وجمهور الصحابة رضى الله عنهم على انه فى استماع المؤتم“۔ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو حکم مذکور ہے وہ مقتدی سے متعلق ہے کہ وہ نماز میں امام کے پیچھے قرآت نہ کرے۔