Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1135

Chapter on Recitation in Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Recitation in Prayer

Zujajat al-Masabih 1135Volume 1

English

It is narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every prayer in which Umm al-Kitab (Al-Fatihah) is not recited is deficient." [Narrated by Ibn Majah and Ibn Abi Shaybah] In Al-Sa’ayah: These two narrations and similar ones indicate that Al-Fatihah is not a pillar (rukn). The term "khidaj" (with the kha’ voweled) means "deficient." If it were a pillar, the Prophet would have said, "It is invalid," because omitting a pillar invalidates the prayer. Deficiency, however, pertains to obligations (wajibat). Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory. 2

العربية

Typed, pending editorial approval
١١٣٥ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيْهَا بِأُمَّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهِ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَفِي السَّعَايَةِ»: فَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ وَأَمْثَالُهُمَا دَلِيْلٌ عَلَى عَدَمِ رُكْنِيَّةِ الْفَاتِحَةِ؛ فَإِنَّ الخَدَاجَ بِفَتْحِ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ بِمَعْنَى النَّاقِصِ، وَلَوْ كَانَتْ رُكْنًا لَقَالَ: «فَهِيَ بَاطِلَةٌ؛ فَإِنَّ تَرْكَ الرُّكْنِ إِنَّمَا يُوجِبُ الْبُطْلَانَ، وَالتَّقْصَانُ مِنْ مُوْجَبَاتِ الْوُجُوبِ، فَعُلِمَ أَنَّ قِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ وَاجِبَةٌ. 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1287
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے ناقص ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 840 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory

(2) The statement: "Thus, it is established that reciting Al-Fatihah is obligatory": In Awjaz al-Masalik, it is noted that many misunderstand the Hanafis as permitting prayer without Al-Fatihah, which greatly surprised Al-Hafiz in Al-Fath. In reality, the Hanafis never permitted prayer without Al-Fatihah. The Hanafis only stated, in line with the Hadith, that such a prayer is deficient and must be repeated. Those who claim the Hadith invalidates the prayer are mistaken, as deficiency does not equate to non-existence.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فعلم أن قراءة الفاتحة واجبة: قال في أوجز المسالك: إن عامتهم يفهمون من الحنفية أنهم قالوا بجواز الصلاة بدون الفاتحة، ولذا تعجب الحافظ في «الفتح» أشد التعجب، والحقيقة ليس كذلك. والحنفية أبدا ما قالوا بجوازها بدون الفاتحة والله در الحنفية، ما قالوا إلا ما ورد في الحديث أن هذه الصلاة ناقصة ذات خداج ونقصان يجب إعادتها. نعم، من أثبت بهذا الحديث بطلان الصلاة فهذا تحكم منه، فاسد؛ لأن الناقص لا يقال له: معدوم.

Note 1

ف (1) واضح ہو کہ نماز میں بعض چیزیں فرض ہیں اور بعض واجب ہیں، فرض اور واجب کے درمیان فرق یہ ہے کہ جو چیزیں فرض ہیں اگر وہ عمداً ترک ہو جائیں یا سہواً دونوں صورتوں میں نماز باطل ہو جاتی ہے اور کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ اس کا اعادہ نہ کیا جائے اس لئے کہ فرائض ادا کئے بغیر نماز جائز ہی نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف نماز میں واجبات ترک ہو جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے بلکہ ناقص ہوتی ہے، واجب اگر سہواً ترک ہوا ہے تو سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہو جاتی ہے اور اگر واجب عمداً ترک ہوا ہو تو نماز کا لوٹانا ضروری ہے۔ فرض اور واجب کے اس فرق کو پیش نظر رکھ کر مذکورہ بالا دو حدیثوں پر غور کیجئے۔ مذکورہ بالا دو حدیثیں اور اسی طرح دوسری حدیثیں جو آگے آ رہی ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے اس لئے کہ حدیث شریف میں خداج کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ناقص کے ہیں اگر سورہ فاتحہ کا پڑھنا نماز میں فرض ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی گئی ہو ”فَهِيَ بَاطِلَةٌ“ (وہ نماز باطل ہے) فرماتے :”فَهِيَ خِدَاجٌ“ (وہ نماز ناقص ہے) نہ فرماتے، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ”فَهِيَ خِدَاجٌ“ فرمایا ہے اس لئے نماز ناقص ہوگی باطل نہیں ہوگی۔ اس طرح حدیث شریف کے لفظ ”خِدَاجٌ“ سے ثابت ہو گیا کہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے فرض نہیں ہے۔ (یہ مضمون سعایہ رد المحتار اور المنتقی کے بین السطور سے ماخوذ ہے۔) ف(2): مذکورہ حدیثوں کے پیش نظر احناف کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں بلکہ واجب ہے اس سے بعض حضرات کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ احناف کے پاس سورہ فاتحہ پڑھے بغیر بھی نماز جائز ہو جاتی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ احناف نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ سورہ فاتحہ کے بغیر بھی نماز جائز ہو جاتی ہے۔ حنفیوں کی فراست کا کیا کہنا کہ انہوں نے تو وہی کہا ہے جو حدیث شریف کا منشاء ہے، حدیث شریف میں ”خداج“ کا جو لفظ آیا ہے اس کے معنی ناقص کے ہیں اس لئے جس نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے تو وہ ناقص ہے اور نماز کے اس نقص کو دور کرنے کے لئے سہواً سورہ فاتحہ ترک ہو جائے تو سجدہ سہو کیا جائے گا اور عمداً سورہ فاتحہ ترک کی گئی ہے تو نماز کا اعادہ ضروری ہوگا اور یہی حنفی مذہب ہے۔ البتہ جو حضرات حدیث کے لفظ ”خداج“ سے نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کی صورت میں نماز کے باطل ہونے کا حکم لگاتے ہیں وہ حدیث کے منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اس لئے کہ ناقص چیز کو معدوم نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ ناقص اور معدوم میں بڑا فرق ہے معدوم تو باطل کو کہتے ہیں جس کا وجود ہی نہ ہوا اور ناقص ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جو نقص کے ساتھ موجود ہے اور حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے کہ نمازی کے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز ناقص ہو جاتی ہے یعنی نماز ادا تو ہو جاتی ہے مگر ناقص رہتی ہے اور اس نقص کا سجدہ سہو سے یا اعادہ سے دور کیا جانا ضروری ہے، اس کے باوجود بھی حنفیوں پر یہ اعتراض کہ یہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز کے درست ہونے کے قائل ہیں کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ (یہ مضمون اوجز المسالک سے ماخوذ ہے۔)