اردو
اسود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے (ختم نماز
پر) سلام پھیرا تو پلٹ گئے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعا فرمائی۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے
مصنف میں کی ہے اور اس حدیث کی تائید ابن سنی کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت انہوں
نے کتاب ”عَمَلُ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ“، میں انس رضی اللہ عنہ سے کی ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی بندہ ہر (فرض) نماز کے بعد دونوں
ہاتھ پھیلا کر یوں دعا کرتا ہے ”اللّٰهُمَّ إِلٰهِى وَإِلٰهَ إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَإِلٰهَ جِبْرَئِيْلَ
(اے اللہ! میرے معبود! اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق وحضرت یعقوب علیہم السلام کے معبود!
اور جبرئیل ومیکائیل واسرافیل علیہم السلام کے معبود! میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ میری دعا
قبول فرمائیں اس لئے کہ میں بیقراری اور پریشانی کی حالت میں دعا کر رہا ہوں، اور میں آپ سے
سوال کرتا ہوں کہ آپ میرے دین کی حفاظت فرمائیں اس لئے کہ میں آزمائش میں پھنسا ہوا ہوں
اور میں یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی رحمت سے میرے گناہوں کو معاف فرما دیجئے، اس
لئے کہ میں گنہگار ہوں اور میری یہ بھی عرض ہے کہ آپ میری محتاجی کو دور فرما دیں اس لئے کہ میں محتاج
وتنگدست ہوں۔) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ ایسے شخص کی دعا کو قبول فرمائے اور اس کے ہاتھوں کو
ناکام نہ لوٹائیں۔
Arabic quotation in the English source
اللَّهُمَّ إِلَهِي، وَإِلَهَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ، وَإِلَهَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيْلَ، أَسْأَلُكَ أَنْ تَسْتَجِيْبَ دَعْوَتِي؛ فَإِنِّي مُضْطَرُّ، وَتَعْصِمَنِي فِي دِينِي فَإِنِّي مُبْتَلَى، وَتَنَالَنِي بِرَحْمَتِكَ، فَإِنِّي مُذْنِبُ، وَتَنْفِيَ عَنِّي الْفَقْرَ؛ فَإِنِّي مُتَمَسْكِنُ،
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مولانا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ ان احادیث سے فرض نماز کے بعد دعا کرنا اور دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا یہ دونوں باتیں سید الانبیاء اور پیشوائے اتقیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں جو علماء اذکیاء پر مخفی نہیں۔