Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1330

(یہ باب نماز کے بعد دعا اور ذکر کرنے کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب نماز کے بعد دعا اور ذکر کرنے کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1330Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1513Noor 1514
عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کی (کی سنت کے) اور نماز فجر کے فرض کے بعد کسی طرف پلٹے بغیر اس حالت میں کہ وہ ہیئت نماز پر ہی اپنے پیروں کو موڑے ہوئے (یعنی تشہد میں جیسا بیٹھا تھا ویسا ہی بیٹھا ہو) یہ دعا دس بار کہے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“، تو ہر بار کے کہنے پر اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے دس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کے دس درجے بلند کر دیئے جاتے ہیں اور وہ شخص تمام دن ہر آفت و ناپسندیدہ چیز اور شیطان مردود سے اللہ کی حفاظت و نگہبانی اور امان میں رہے گا (یہ دعاء پڑھنے کے بعد پھر اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس دعا کی برکت سے اس کو توبہ کی توفیق ہوگی) اور وہ اس گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہوگا، ہاں اگر اس نے اس دعاء کے پڑھنے کے بعد شرک کیا (تو اس دعاء میں جو توحید تھی وہ شرک سے زائل ہوگئی اور وہ مذکورہ ثواب سے محروم ہو کر عذاب میں گرفتار ہو جائے گا) اور اس دعاء کے پڑھنے والے کے نیک عمل اُن لوگوں کے مقابلہ میں جو اس کو نہ پڑھتے ہوں زیادہ لکھے جائیں گے البتہ جو شخص اس دعا کو دس مرتبہ سے زیادہ پڑھے تو اس کے اعمال اس دس مرتبہ پڑھنے والے کے اعمال سے زیادہ ہوں گے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔) اور ترمذی نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

Arabic quotation in the English source

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 974 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 974

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں صلوٰۃ مغرب کے بعد مذکورہ دعاء پڑھنے کا جو ذکر ہے یہاں صلوٰۃ مغرب سے مراد فرض مع سنت ہے کیونکہ صلوٰۃ مغرب کا اطلاق فرض اور سنت دونوں پر ہوتا ہے اس لئے اس دعاء کو پڑھنے والا مغرب کی دو سنتوں کے پڑھنے کے بعد ہیئت نماز پر ہی جیسے کہ وہ تشہد میں بیٹھا تھا ویسے ہی بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے البتہ فجر کے فرض کے بعد چونکہ سنتیں نہیں ہیں اس لئے فجر کے فرض کے بعد بھی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے۔ اور ترغیب و ترہیب میں نسائی کی جو روایت مذکور ہے اس میں بجائے مغرب کے عصر کا ذکر ہے اس لئے فجر اور عصر کے فرض کے بعد اسی ہیئت نماز پر یہ دعاء پڑھی جائے تو اس کے پڑھنے والے کو مذکورہ ثواب حاصل ہوگا۔ (اعلاء السنن)