Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1358

(یہ باب ان اعمال کے بیان میں ہے جن کا نماز میں کرنا جائز ہے

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب ان اعمال کے بیان میں ہے جن کا نماز میں کرنا جائز ہے

Zujajat al-Masabih 1358Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1544Noor 1545
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آ جائے تو جہاں تک ہو سکے جمائی کو روکے اس لئے کہ شیطان منہ میں گھس جانا چاہتا ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور بخاری کی ایک روایت میں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آ جائے تو جہاں تک ہو سکے جمائی کو روکے اور (آواز سے) ھاء نہ کہے کیونکہ آواز ھاء کہنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے (اور نمازی جب جمائی کے وقت آواز سے ھاء کہتا ہے تو) شیطان اس پر ہنستا ہے (اس لئے کہ آواز سے ھاء کہنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔) اور شیطان کا مقصد یہی ہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے، اس لئے جہاں تک ہوسکے شیطان کی مزاحمت اور مدافعت کی جائے اور کوشش کی جائے کہ شیطان اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہونے پائے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2995b (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3289 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ نمازی کو نماز میں جب جمائی آجائے تو جہاں تک ہوسکے جمائی کو روکنا چاہئے واضح ہو کہ جمائی کو روکنے کے کئی تدبیریں ہیں، ایک تدبیر یہ ہے کہ جمائی کے وقت یہ خیال کیا جائے کہ انبیاء علیہم السلام کو جمائی نہیں آتی تو اس خیال سے جمائی رک جاتی ہے، خلاصہ میں لکھا ہے کہ دانتوں سے ہونٹ کو دبا کر بھی جمائی کو روکنا چاہئے اور مجتبیٰ میں مذکور ہے کہ نماز میں اگر بحالت قیام جمائی آجائے تو سیدھے ہاتھ کی پشت کو منہ پر رکھ کر جمائی کو روکے اور قیام کے سوا نماز کے کسی اور رکن میں جمائی آجائے تو بائیں ہاتھ کی پشت کو منہ پر رکھ کر جمائی کو روکنا چاہئے اور خارج نماز جمائی آنے کی صورت میں جمائی کو روکنے کی جو صورتیں اوپر بیان کی گئی ہیں ان سب کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ (یہ پورا مضمون ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔)