اردو
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہما اپنے والد عبداللہ ابن شخیر سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن شخیر نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس
میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نماز پڑھ رہے ہیں اور رونا دبانے کی وجہ سے
حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے سینہ مبارک سے ایسی آوازیں آ رہی ہیں جیسے دیگ کے اندر سے دیگ
کے جوش مارتے وقت آوازیں آیا کرتی ہیں۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ عبداللہ بن شخیر نے کہا میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور رونا رونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک
سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی کے چلنے وقت چکی کی آواز آیا کرتی ہے۔ ان دونوں حدیثوں کی
روایت امام احمد نے کی ہے اور نسائی نے بھی پہلی حدیث کی روایت کی ہے اور ابوداؤد نے بھی دوسری
حدیث کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 904 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1214 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ نماز میں دھیمی آواز سے رونا یا بڑی آواز سے رونا اگر یہ آخرت کے خیال سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور امید کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ کسی درد یا دنیوی مصیبت کی وجہ سے ہوں تو ان سے نماز فاسد ہو جائے گی، اس لئے کہ اس سے افسوس اور بے قراری کا اظہار ہوتا ہے اور یہ فعل حقیقت میں شکایت ہے کہ گویا نمازی کہہ رہا ہے کہ میری مدد کرو اور نماز میں ایسا کہنا نماز کے اندر کلام ہوا، اور کلام سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، اس کے برخلاف نماز میں دھیمی آواز سے رونا یا بڑی آواز سے رونا آخرت کے خیال سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف یا امید کی وجہ سے ہو تو یہ حقیقت میں دعاء اور ثناء ہے اور اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (شرح نقایہ، مرقات۔)