Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1428

(یہ باب جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت اور اس کے احکام اور

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت اور اس کے احکام اور

Zujajat al-Masabih 1428Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1637
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرا ارادہ تھا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، جب لکڑیاں جمع ہو جائیں تو نماز کی تیاری کا حکم دوں، پھر اذان کے ذریعہ سے نماز کا اعلان کرا دوں (اذان کے بعد) کسی کو امامت کرنے کا حکم دوں اور میں خود اپنے اس حکم کا خلاف کر کے، خود نماز میں شریک نہ ہو کر، جماعت میں نہ آنے والوں کی طرف چلا جاؤں اور ان کے مکانات کو آگ لگا دوں، قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جماعت میں شریک نہ ہونے والوں کو آخرت کے ثواب کا یقین نہیں، دنیا ہی دنیا ان کے پیش نظر ہے، اگر ایک حقیر ہڈی یا معمولی تیریں مسجد میں دیئے جانے کا ان کو علم ہوتا تو یہ دنیا کے بندے نماز عشاء کی جماعت میں ضرور آتے (اور جماعتوں میں تو شریک ہو کر ریاء کر کے مخلوق کا حسن ظن حاصل کر سکتے ہیں، اس لئے دن کی جماعتوں میں کبھی آ بھی جاتے ہیں لیکن عشاء کی نماز کو جماعت سے ادا کرنے کا آخرت میں جو ثواب ملنے والا ہے ان کو اس کا یقین نہیں، اس لئے وہ عشاء کی جماعت میں نہیں آتے ہیں)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے، اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 644 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 651b (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز باجماعت میں شریک نہ ہونے والوں کے مکانات کو آگ لگا دوں۔ ابن قیم نے کہا ہے کہ اس قسم کی یہ وعید ظاہر ہے کہ صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتی، اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کی جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی اور جماعت کے ترک کی اجازت نہ دی، اگرچہ کہ اذان سننے والا نابینا ہو، اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کا مسجد میں ادا کرنا واجب ہے۔ (مرقات، ابن ہمام اور عینی)۔