اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1863
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی تہجد کیا کہوں کیسی تہجد تھی؟) تہجد میں قیام اس قدر طویل ہوتا تھا جس کی وجہ سے قدم
مبارک پر ورم آ جاتا تھا (آپ کی اس مشقت کو دیکھ کر) صحابہ نے عرض کیا: حضور! اس قدر مشقت
کیوں اٹھاتے ہیں آپ کے اگلے پچھلے گناہ تو معاف کر دیئے گئے ہیں (پھر اتنی مشقت کی کیا
ضرورت ہے) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحبو! (کیا گناہوں کی مغفرت ہی
کے لئے ریاضت کی جاتی ہے اور مشقت اٹھائی جاتی ہے، نہیں! نہیں! اس کے سوا اور بھی بہت سے
مواقع ہیں جن کی وجہ سے مشقت اٹھائی جاتی ہے، مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بے گنتی احسانات ہیں اور مجھ کو
اللہ تعالیٰ سے اس قدر نعمتیں ملی ہیں کہ ان کا شکر اس طرح کی عبادت سے کیا کرتا ہوں) کیا میں اس
قدر عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (اللہ تعالیٰ کو بھی آپ کی اس مشقت کی بڑی
قدر تھی، اس لئے ارشاد ہوا (سورہ طہ پ16 ع1 آیت نمبر:2-1) طٰهٰ. مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ
الْقُرْآنَ لِتَشْقٰى. میرے پیارے نبی (آپ کے جیسا کوئی شکر گزار بندہ نہیں، آپ کا عبادت میں
یہ مشقت اٹھانا ہم سے دیکھا نہیں جاتا) ہم آپ پر اس لئے قرآن نہیں اتارے ہیں کہ آپ اس
قدر مشقت اٹھائیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1130 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2819a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.