Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 33

(اس باب میں تہجد پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور تہجد پڑھنے والے کو جو ثواب ملتا ہے اس کا بیان ہے)

21 narrations · In source reading order

Hadith 1601

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1843
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سوتا ہے (تو جیسے جادوگر جادو سے گرہیں لگاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ شخص جس پر جادو کیا گیا ہو اپنی مراد سے رک جاتا ہے اسی طرح) شیطان سونے والے کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے (تاکہ وہ تہجد اور ذکر سے رک جائے) اور ہر گرہ لگانے کے وقت اس کے دل میں ڈالتا ہے کہ ابھی بہت رات باقی ہے سوتے رہو (جیسے وہ شخص جس پر جادو کیا گیا ہے اپنے سے جادو کے اثر کو زائل کر دیتا ہے تو ان جادو کی گرہوں کا اثر باقی نہیں رہتا اور جو اس کا مقصد ہو وہ پورا کر لیتا ہے ایسا ہی سونے والا جب شیطان کے اس منتر کو کہ ”ابھی رات بڑی ہے سو جاؤ“ کا کچھ خیال نہ کر کے ایک دم اٹھ بیٹھتا ہے اور اس وقت کی مسنون دعاؤں کو پڑھنے لگتا ہے تو شیطان کی باندھی ہوئی غفلت کی (پہلی) گرہ کھل جاتی ہے، (پھر شیطان کہتے ہی رہتا ہے کہ ”ابھی رات بڑی ہے ذرا سو جاؤ“ وہ اس کی نہ سن کر) وضو کر لیتا ہے تو شیطان کی دوسری گرہ کھل جاتی ہے (اور یہ نجاست سے پاک ہو جاتا ہے) (اب شیطان دیکھتا ہے کہ یہ تہجد کو اٹھنے والا میرے ہاتھ سے چلا گیا تو سستی اور کسالت اس پر ڈالتا ہے تاکہ کسی طرح وہ نماز سے رک جائے اور اگر یہ اس کی نیند میں) نماز کے لئے کھڑے ہو جاتا ہے تو شیطان کی ڈالی ہوئی تیسری گرہ بھی (جو سستی اور کسالت کی تھی) کھل جاتی ہے (اب کیا ہے تہجد کا پڑھنے والا) جب صبح کرتا ہے تو تازہ دم اور خوش خرم اٹھتا ہے (اس لئے کہ وہ شیطان کی گرہوں سے نکل آیا اور غفلت اور سستی اس سے دور ہو گئی اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گئے، پھر اس کی فرحت اور خوشی کا کیا پوچھنا ،اسی وجہ سے تہجد پڑھنے والے کے چہرے پر ایک خاص نورانیت ہوتی ہے) اور اگر بیدار نہ ہوا اور شیطان کا کہنا ”کہ ابھی رات بڑی ہے سوتے رہو“ کو اگر سن لیا، نہ وضوء کیا اور نہ تہجد پڑھی تو یہ صبح کو جب اٹھتا ہے تو وہ پژمردہ اور سست اٹھتا ہے (نہ تو تہجد پڑھنے والے کی طرح اس کو فرحت ہوتی ہے اور تہجد گزار کے چہرہ کی طرح اس کے چہرہ پر نورانیت رہتی ہے) (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "Indeed, the hours of the night are more effective for concurrence [of heart and tongue] and more suitable for words." (Al-Muzzammil, 73:6)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1142 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 776 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1602

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1844
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تذکرہ آیا کہ ایک شخص رات بھر صبح صادق تک سوتا رہتا ہے تہجد کی نماز کے لئے نہیں اٹھتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایسا شخص ہے کہ شیطان اس کے کانوں میں پیشاب کر دیتا ہے (کہ اس کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ رات کتنی گزری اور اس پر غفلت طاری ہو جاتی ہے اور وہ پڑا سویا رہتا ہے، اس لئے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ایسا شخص جو رات بھر پڑا سو رہا ہو کان میں انگلی رکھ کر دیکھے تو کان میں پیشاب کی تری محسوس ہوگی) ۔(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1144 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 774 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1603

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1845
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھی کہ آپ نیند سے گھبرائے ہوئے اٹھے ہیں (میں پوچھنا چاہتی تھی کہ) خود آپ تعجب سے فرمانے لگے ”سُبْحَانَ اللّٰه“! آج کی رات کیا دیکھتا ہوں کہ (میری امت کی محتاجی دور ہوگی) اور ان کو بے شمار خزانے دئے جا رہے ہیں (اور یہ بھی میری امت پر بہت بڑا فتنہ ہے) اور کیا دیکھتا ہوں کہ طرح طرح کے فتنے بھی میری امت پر نازل ہو رہے ہیں (جس سے فساد اور خوں ریزی میری امت میں ظاہر ہوگی) کوئی ہے کہ میرے حجرے والیوں (ازواج مطہرات) کو جگا دے (کہ اب سونے کا وقت نہیں ہے، اٹھو! جاگو! خدا سے گڑگڑا کر دعائیں کرو، اور تہجد پڑھو (تاکہ اللہ تعالیٰ تہجد کی برکت سے مال و دولت اور فساد و خون ریزی کے فتنہ سے ہم کو بچائے) (مال و دولت کے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ ہے کہ عورتیں نہایت باریک اور قیمتی لباس پہنیں گی جس سے ان کا جسم ظاہر ہوگا اور نخوت اور غرور پیدا ہوگا جس کے سبب سے یہ قیامت کے دن برہنہ اٹھیں گی، دنیا میں جتنا غرور کی تھیں آخرت میں اتنا ذلیل ہوں گی) جیسے دنیا میں باریک لباس پہن کر برہنہ تھیں، ویسے ہی آخرت میں برہنہ رہیں گی۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7069 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1126 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 115 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1604

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1846
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات کو تہجد کے لئے اٹھا کرتا تھا لیکن پھر اس نے رات کو تہجد کے لئے اٹھنا چھوڑ دیا (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت پر مداومت کرنا پسند ہے اگرچہ کہ وہ عبادت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو)۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص رات کو عبادت کرتا ہو، اس کو رات کی عبادت بالکل ترک کر دینا مکروہ ہے)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1152 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1159 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1605

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1847Noor 1848
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر رات جب کہ اس کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب جو بڑی برکت والا اور بڑی شان والا ہے، دنیا سے جو قریب آسمان ہے اس پر نزول اجلال فرماتا ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے (نزول فرمانے کے معنی تو معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت ہم کو معلوم نہیں ”لَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَهُ اِلَّا اللّٰهُ“ اللہ کے سوا امت میں سے کوئی اس کی تاویل اور تفسیر کو نہیں جانتا، یہ متشابہات سے ہے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، اس کی کیفیت معلوم کرنے کی کھوج کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے ہم ایمان لاتے ہیں کہ بیشک ہمارا رب رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا پر نزول فرما کر نہایت محبت سے) ارشاد فرماتا ہے (اس وقت میری رحمت عام ہے): ہے کوئی جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں؟ ہے کوئی ایسا گنہگار (جو گناہوں کی وجہ سے نادم و شرمندہ ہے۔ اس کو میری رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے) وہ گناہوں کی معافی چاہے تو میں اس کے گناہوں کو معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی ایسا شخص جو قرض دے اس ذات کو جو محتاج نہیں ہے (قرض کی ادائی اس پر بار نہیں) اور نہ وہ ظالم ہے (کہ قرض کی ادائی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض ادا نہ کرے، اے قرض دینے والے ہم تیرے قرض کو دوگنا، تگنا اور کئی گنا بڑھا کر پھر تجھ کو دیں گے اس وقت تجھ کو معلوم ہوگا کہ ہم کیسے دینے والے ہیں، قرض بھی اداء کریں گے اور اس کے صلہ میں تجھے وہ وہ نعمتیں دیں گے جن کو نہ تو تیری آنکھوں نے دیکھا اور نہ تیرے کانوں نے سنا ہے! کیا تو سمجھا کہ ہم تجھ سے جو قرض مانگ رہے ہیں اس سے ہماری مراد کیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ تو خیرات کرے، قرض کا لفظ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ تیرا خیرات کرنا، تیرا روپیہ ضائع کرنا نہیں ہے، نہیں، نہیں! اس خیرات کو جو تو ہم کو دے گا قرض سمجھ، ہم اس کو بہت بڑھا کر تجھے پھر لوٹا دیں گے اور آخرت میں کئی گنا بڑھا کر اس کا صلہ دیں گے) اس قسم سے طرح طرح کے ارشادات ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ صبح صادق طلوع کرتی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1145 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 758a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1223 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 1223

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1606

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1849
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ (یوں تو ہر بندے کے رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں مگر) آخری تہائی رات میں اپنے بندہ سے بہت ہی قریب ہو جاتے ہیں (کیا کہوں کیسے قریب ہو جاتے ہیں، ایسا قریب ہوتے ہیں جیسا کہ ان کی شان کے سزاوار ہے، یہ بھی متشابہات سے ہے، قریب ہونے کے معنی معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت معلوم نہیں، ہم ایمان لائے ہیں کہ رات کے آخری تہائی حصہ میں اللہ تعالیٰ ہم سے بہت ہی قریب ہو جاتے ہیں۔ اے بندے! اللہ تعالیٰ سے تجھے اس طرح قرب حاصل ہوگیا ہے، اس کو تو غنیمت جان! اس لئے) اگر تجھ سے ہو سکے تو اس وقت اللہ کے ذکر کرنے والوں میں سے ہو جا (پھر تو کہاں اور یہ قرب کہاں!)۔ (اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

[Narrated by Tirmidhi, who said: This is a Hasan Sahih Gharib Hadith in its chain]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3579 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1607

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1850
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ کونسا وقت ہے جس میں دعاء تمام اوقات سے زیادہ قبول ہوتی ہے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری تہائی حصہ کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے اور ایسا ہی فرض نمازوں کے بعد جو دعا کی جاتی ہے وہ بھی بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3499 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1608

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1851
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے (بارہ رکعت سنن موکدہ جو دن رات میں فرائض کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں، ان کی فضیلت کا کیا کہنا، یہ بارہ رکعت فرائض کے مکملات ہیں اس سے بڑھ کر ان کی اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے) فرائض (اور ان کے توابع مؤکدہ سنتوں کے) سوا رات دن کے باقی تمام نوافل سے تہجد جو رات کے آخری تہائی حصہ میں پڑھی جاتی ہے افضل ہے (اس لئے کہ تہجد نفس پر بہت شاق ہوتی اور اس میں ریا بھی نہیں ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1236 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1236

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أفضل الصلاة إلخ وقد يقال: التهجد أفضل من حيث زيادة مشقة على النفس وبعده عن الرياء، والرواتب أفضل من حيث الأكدية في المتابعة للمفروضة، فلا منافات. كذا في «المرقاة».

Hadith 1609

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1852
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو مسلمان چاہتا ہے کہ اپنی دعا قبول ہو تو اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر رات ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں ضرور دعا قبول ہوتی ہے، چاہے دنیا کی بھلائی مانگیں یا آخرت کی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 757a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1610

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1853
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ داؤد علیہ السلام کا رات میں ایک وقت ایسا مقرر تھا جس میں آپ خود بھی عبادت فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: اے داؤد کے گھر والو! اٹھو! جاگو! نماز پڑھو (کیا تم کو کچھ معلوم ہے کہ یہ کیسا وقت ہے) اس وقت اللہ تعالیٰ عبادت کرنے والے کی عبادت اور دعا کرنے والے کی دعا قبول فرماتے ہیں (ایسے مبارک وقت کو غفلت میں مت ضائع کرو، ہاں ایسے مقبول وقت میں بھی) جادوگر کی دعا اور ظلم سے چنگی وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں فرماتے۔ (یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کو غضب میں لاتی ہیں اور مقبولیت وقت کا بھی ان پر اثر نہیں کرتا)۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1243 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1243

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1611

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1854
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانو! تہجد ضرور پڑھا کرو (تم کو خبر نہیں کہ) تم سے پہلے جو صالحین گزرے ہیں تہجد پڑھنا ان کا طریقہ خاص تھا اسی سے وہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتے تھے (تم تو خیر الامم ہو، تم بھی تہجد ضرور پڑھا کرو) تہجد سے تم کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور اسی تہجد کی وجہ سے تم سے برائیاں دور ہوں گی (اور تہجد کا ایک خاص اثر یہ ہے کہ) یہ تم کو گناہوں سے روکے گی۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3549 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1612

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1855
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں (جن پر اللہ تعالیٰ کی محبت آتی ہے اور ان سے راضی ہو کر وہ جو تین کام کر رہے ہیں) ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں، جس طرح ان کی شان کے سزاوار ہے (یہ ہنسنا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور راضی ہونے کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ کا ہنسنا بھی متشابہات سے ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں، ہنسنے کے معنی تو معلوم ہیں مگر اس کی کیفیت معلوم نہیں، کیسے خوش تقدیر ہیں وہ لوگ جن سے اللہ راضی ہو کر ہنسیں، جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں ان میں) ایک تو وہ شخص ہے جو رات کے وقت (نیند کو دور کر کے نرم بستر سے اٹھ کر محض اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے) تہجد پڑھنے کھڑا ہو، دوسرے جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں وہ لوگ ہیں جو نماز کے لئے صف بندی کرتے ہیں (یہ صف بندی اللہ تعالیٰ کو نہایت پیاری معلوم ہوتی ہے ان کے فعل کو پسند کر کے اور ان سے راضی ہو کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں) تیسرے جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں وہ لوگ ہیں (جو محض اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جان پر کھیل کر) اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے ان کے مقابلہ میں صف بستہ ڈٹے ہوئے کھڑے رہتے ہیں۔ (اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔)

Hadith 1613

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1856
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمت بھیجے جو خود بھی تہجد کے لئے اٹھتا ہے اور تہجد پڑھتا ہے اور بیوی کو (دیکھتا ہے کہ تھک گئی ہے یا سستی سے تہجد کے لئے نہیں اٹھ رہی ہے تو اس کو) جگانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی اٹھ کر تہجد پڑھنے کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے تو بہتر ہے اگر وہ غلبہ نیند کی وجہ سے نہ جاگے تو اس کے منھ پر پانی چھڑک کر نیند سے جگاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی اپنی رحمت بھیجے جو خود بھی تہجد کے لئے اٹھتی ہے اور تہجد پڑھتی ہے خاوند کو دیکھتی ہے کہ تھک گیا ہے یا سستی سے تہجد کے لئے نہیں اٹھ رہا ہے تو اس کو) جگانے کی کوشش کرتی ہے اگر وہ جاگ گیا اور تہجد پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا تو بہتر ہے اگر وہ غلبۂ نیند کی وجہ سے نہ جاگے تو اس کے منھ پر پانی چھڑک کر نیند سے جگاتی ہے (ما شاء اللہ کیسا اچھا شوہر اور کیسی اچھی بیوی ہے! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں کیسے محبت اور اتفاق سے گزرتی ہے، یہ دونوں اللہ کی عبادت کے لئے کیسے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1308 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1610 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1230 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 1230

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1614

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1857
ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص نیند سے تہجد کے لئے خود بھی اٹھتا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی جگاتا ہے اور یہ سب مل کر تہجد کے (آٹھ رکعت پڑھیں یا کم سے کم) دو رکعت ہی پڑھ لیں تو اللہ تعالیٰ مردوں کا نام ذاکرین میں یعنی ان لوگوں میں جو اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرتے ہیں اور عورتوں کا نام ذاکرات میں یعنی اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والیوں میں لکھ دیتے ہیں، تہجد کا کیسا مبارک وقت ہے کہ تھوڑی سی عبادت سے بہت عبادت کا ثواب ملتا ہے) (اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1309 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1335 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1459 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1615

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1858
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عادت شریف تھی کہ وہ رات کو تہجد کے لئے بیدار ہوتے اور جتنی رکعتیں اور جتنا وقت مقدر میں لکھا ہوتا اس کو پورا کرتے پھر جب دیکھتے کہ پچھلی رات ہوگئی ہے تو اپنے اہل و عیال کو جگاتے اور فرماتے (اٹھو! اٹھو! اب سونے کا وقت نہیں! جاگو! جاگو! رحمت کے خزانے لٹ رہے ہیں) تم بھی نماز پڑھو (اور خدا کی رحمت حاصل کرو! گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں) پھر (سورۂ طہ پ16 ع8 کی) اس آیت کو تلاوت فرماتے: وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا، تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہو جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) اپنے گھر والوں پر نماز کی تاکید رکھو، اور خود بھی اس کے پابند رہو (دیکھو دنیا کے مالک اپنے غلاموں سے کہتے ہیں کہ ہماری روزی کما کر لاؤ ہم ایسے مالک نہیں) ہم تم سے اپنا رزق نہیں مانگتے ہم خود تم کو روزی دیتے ہیں (ہم تو تم سے صرف اپنی عبادت کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بھی تمہارے ہی فائدے کے لئے، اس لئے تم عبادت کر کے دیکھو گے کہ) جنت اور جنت کی ساری نعمتیں متقیوں کے لئے ہیں یعنی ہماری عبادت کرنے والوں کو ہی ملیں گی۔ (اس وقت ہماری عبادت کرنے کو یاد کرو گے اور پچھتاؤ گے کہ ہم نے اس سے زیادہ عبادت کیوں نہیں کی، ایسے وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اب وقت ہے کہ جتنی چاہو عبادت کر لو)۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 259 (unverified) 35% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1616

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1859Noor 1860
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جنت میں بالا خانے ہیں (ان کی لطافت و صفائی کیا کہوں ایسے شفاف ہیں) کہ جن کے اندر کی چیزیں باہر سے اور باہر کی چیزیں اندر سے نظر آتی ہیں (کسی نے عرض کیا: حضور! کیسا خوش تقدیر یہ ہوگا وہ شخص جس کو یہ ملیں گے، اگر یہ کوشش سے مل سکتے ہیں تو ہم بھی کوشش کریں گے، ارشاد ہو کہ یہ کس کو ملیں گے؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (کوئی خاص مرتبہ کے لوگوں کے لئے یہ بالا خانے نہیں ہیں بلکہ ہر ایسے شخص کے لئے ہیں جو ان صفات سے متصف ہو، جو ذیل میں آ رہے ہیں وہ صفات یہ ہیں کہ) وہ خوش اخلاق ہو، اور شیریں کلام ہو (اس کے نرم لہجے سے اس کی خوش اخلاقی کا پتہ لگتا ہو۔ اس کی مزاج میں سخاوت ہو کہ تمام جن کو کھانا کھلاتا ہوں (اور مہمانوں کی خاطرداری کرتا ہوں) اکثر نفل روزے رکھا کرتا ہوں (اور کم از کم ایام بیض یعنی ہر ماہ ہلالی کی 13/14/15 کے روزے رکھا کرے) اور رات کو اٹھ کر تہجد پڑھا کرتا ہوں، نیند کے ایسے غلبے کے وقت میں جبکہ اور لوگ سو رہے ہوں (اور یہ خدا کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا ہے)۔ (اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔) اور رزین نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

Hadith 1617

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1861
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (ایک دن عجیب واقعہ ہوا ہم سب بیٹھے ہوئے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما ہیں) ایک صاحب آئے اور کہنے لگے حضور! (ایک شخص کی حالت پر بہت افسوس ہوتا ہے) وہ پابندی سے تہجد پڑھتا ہے اور صبح ہوتے ہوتے چوری بھی کرتا ہے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (یوں تو ہر نماز آہستہ آہستہ ہر گناہ چھڑا دیتی ہے مگر تہجد میں ایک خاص اثر ہے، تہجد سے دل میں ایک نورانیت پیدا ہونا شروع ہوتی ہے جیسے جیسے یہ نورانیت بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے تہجد پڑھنے والے کے دل میں گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے ایسا ہی) اس شخص کو (تم دیکھو گے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ) تہجد (کی نورانیت) اس سے چوری چھڑا کر رہے گی۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1237 (unverified) 75% confidence

Mishkat (candidate) 1237

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1618

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1862
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (دنیا والوں کے پاس بڑی عزت ان کی ہے جن کے پاس مال و دولت ہو، اور حکومت ہو، اور اللہ کے پاس) میری امت میں اشراف یعنی بڑے عزت والے وہ ہیں جو باعمل حافظ ہوں یا تہجد گزار ہوں (اس سے قرآن یاد کرنے کی اور شب بیداری کرنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے)۔ (اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)

[Narrated by Bayhaqi in Shu'ab al-Iman]

Hadith 1619

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1863
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تہجد کیا کہوں کیسی تہجد تھی؟) تہجد میں قیام اس قدر طویل ہوتا تھا جس کی وجہ سے قدم مبارک پر ورم آ جاتا تھا (آپ کی اس مشقت کو دیکھ کر) صحابہ نے عرض کیا: حضور! اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں آپ کے اگلے پچھلے گناہ تو معاف کر دیئے گئے ہیں (پھر اتنی مشقت کی کیا ضرورت ہے) تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحبو! (کیا گناہوں کی مغفرت ہی کے لئے ریاضت کی جاتی ہے اور مشقت اٹھائی جاتی ہے، نہیں! نہیں! اس کے سوا اور بھی بہت سے مواقع ہیں جن کی وجہ سے مشقت اٹھائی جاتی ہے، مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بے گنتی احسانات ہیں اور مجھ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر نعمتیں ملی ہیں کہ ان کا شکر اس طرح کی عبادت سے کیا کرتا ہوں) کیا میں اس قدر عبادت کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (اللہ تعالیٰ کو بھی آپ کی اس مشقت کی بڑی قدر تھی، اس لئے ارشاد ہوا (سورہ طہ پ16 ع1 آیت نمبر:2-1) طٰهٰ. مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقٰى. میرے پیارے نبی (آپ کے جیسا کوئی شکر گزار بندہ نہیں، آپ کا عبادت میں یہ مشقت اٹھانا ہم سے دیکھا نہیں جاتا) ہم آپ پر اس لئے قرآن نہیں اتارے ہیں کہ آپ اس قدر مشقت اٹھائیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1130 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2819a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1620

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1864
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یوں تو اور لوگ بھی تہجد پڑھا کرتے ہیں مگر) حضرت داؤد علیہ السلام کی تہجد اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھی ایسا ہی (نفل روزے اور لوگ بھی رکھا کرتے ہیں مگر) حضرت داؤد علیہ السلام کے نفل روزے بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھے (حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح تہجد پڑھتے تھے اس کو سنئے: آپ رات کے چھ حصے کرتے) آدھی رات یعنی پہلے تین حصوں میں (اوراد و وظائف کے بعد) سوجاتے تھے، اور اس کے بعد کا چوتھا اور پانچواں حصہ تہجد میں گزارتے پھر آخری چھٹے حصے میں سوجاتے (اور صبح صادق ہوتے ہی اٹھ جاتے تھے۔ اب حضرت داؤد علیہ السلام کے نفل روزوں کی کیفیت سنئے:) آپ ایک دن نفل روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے (کہنے کو تو
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1131 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

یہ آسان ہے مگر ان پر عمل کر کے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ یہ نفس پر کس قدر شاق ہیں، اب رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسی تہجد کیوں نہیں پڑھے اور ایسے روزے کیوں نہیں رکھے؟ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر عمل کرتے تو امت کے لئے یہ سنت ہوجاتا، ہر تہجد پڑھنے والے کو اسی طرح کرنا پڑتا، اور ہر نفل روزہ رکھنے والے کو اسی طرح روزے رکھنا پڑتا۔ آپ رحمۃٌ للعالمین ہیں، آپ نہیں چاہتے کہ امت کو اس طرح مجبور کریں اور مشقت میں ڈالیں، اس لئے خود اس پر عمل نہ کر کے امت کو بتا دیئے کہ تم کو جس طرح آسان ہو تہجد پڑھو اور جس طرح تمہارے لئے نفل روزے رکھنے میں سہولت ہو اس طرح روزے رکھو! بات بات میں آپ جو سہولت رکھے ہیں اس سے دل چاہتا ہے کہ آپ پر قربان ہوجائیں)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Hadith 1621

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1865
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ (عشاء کی نماز کے بعد اوراد و وظائف سے فارغ ہوکر جن کو آپ عشاء کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے) آدھی رات تک آرام فرماتے تھے، پھر آخری نصف رات میں آپ کی تہجد کے مختلف اوقات تھے (کبھی کسی وقت اور کبھی کسی وقت) تہجد پڑھنے کے بعد اگر جماع کی حاجت ہوتی تو جماع سے فارغ ہو جاتے، پھر رات کے (چھٹے حصے میں) آرام فرماتے (تاکہ صبح کی فرض اور اس کے بعد کے وظائف میں تھکان نہ ہو، اور نشاط حاصل رہے) پھر صبح کی اذان ہوتے ہی آپ فوراً بیدار ہو جاتے اور اگر جنابت کی حالت میں ہوتے تو غسل سے فارغ ہو جاتے اور اگر جنابت کی حالت نہ ہوتی تو وضو فرماتے اور صبح کی دو سنتیں ادا کر کے فجر کی لئے باہر تشریف لے جاتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1146 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 740a (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.