Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1629

(یہ باب نفل اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں ہے یعنی افراط و تفریط

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب نفل اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں ہے یعنی افراط و تفریط

Zujajat al-Masabih 1629Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1873
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دو شخصوں کو دیکھ کر بہت تعجب کرتے ہیں (اللہ تعالیٰ کا تعجب کرنا متشابہات سے ہے، ہم اس پر ایمان لائے، تعجب کے معنی معلوم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کی کیفیت معلوم نہیں، وہ دو شخص جن پر اللہ تعالیٰ تعجب کرتے ہیں ان میں) ایک تو وہ شخص ہے جو نرم اور گرم بچھونے پر سو رہا تھا، اوڑھنے کے لئے بھی لحاف موجود تھا (رات کا وقت ہے سرد ہوائیں چل رہی ہیں، لوگوں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ سو رہے ہیں، اس سے اس کا بھی دل سونے کی رغبت کرتا ہے) اور پہلو میں محبوبہ اس کی اہل موجود ہے (نفس چاہتا تھا کہ ان سب سے لطف اٹھائے، ایسے میں تہجد کا وقت آ گیا) اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی فکر اور اس کے عذاب سے بچنے کا خیال اس کو بے چین کر دیا ان سب کو چھوڑ کر اٹھا، وضوء کیا اور خدا کے سامنے آ کھڑا ہو گیا (اس وقت اظہار تعجب کے لئے) اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں: اے میرے مقرب فرشتو! (تم کو کوئی خواہش نہیں تم میری عبادت کرتے ہو تو کوئی تعجب نہیں) اس میرے بندے کو دیکھو (کیا کیا خواہشات اس کو گھیرے ہوئے ہیں، نرم بچھونا ہے، گرم لحاف ہے، پہلو میں محبوبہ ہے، کسی کا بھی اس کو کچھ خیال نہیں، میرا ثواب حاصل کرنے کی رغبت اور عذاب سے بچنے کا خیال سب سے بڑھ کر مجھے راضی کرنے کی دھن میں اپنی سارے خواہشات کو چھوڑ کر کس طرح میرے سامنے آ کر کھڑا ہے کبھی قیام میں ہے، کبھی رکوع میں ہے اور کبھی سجدہ کر رہا ہے۔ میرے لئے یہ جو کچھ کر رہا ہے سب میں دیکھ رہا ہوں اور میں اس سے راضی ہو گیا) دوسرا وہ شخص جس پر اللہ تعالیٰ تعجب فرماتے ہیں وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہا ہے (دشمن اس کو اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لئے ہیں، خدا کے دشمنوں کے مقابلہ کی طاقت نہ ہونے سے) سب کے سب بھاگ گئے (یہ شخص کافروں کے مقابلہ سے بھاگنے کی وعید کو سوچا اور یہ خیال بھی آیا کہ کبھی نہ کبھی تو مرنا ہے! کافروں سے بھاگ کر میں کب تک زندہ رہوں گا، ایک دن خدا کو منہ دکھانا ہے جب اس کے سامنے حاضری ہوگی اور وہ پوچھے گا کہ تو کافروں کے سامنے سے کیوں بھاگا تو میں کیا جواب دوں گا۔ یہ خیال آتے ہی) وہ پلٹ کر کفار کے مقابلہ میں آ گیا (جان توڑ لڑنا شروع کیا، بہت سے کفار کو قتل کیا اور) آخر خود بھی شہید ہو گیا۔ ایسے شخص کی حالت فرشتوں کو دکھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے مقرب فرشتو! دیکھو اس شخص کو! محض میرے ڈر سے اور مجھے خوش کرنے کے اور راضی کرنے کے خیال سے یہ جان دے دیا (میں بڑا ہی قدردان ہوں تم دیکھنا میں ان دونوں کو کیا کیا مراتب اور کیسے کیسے درجات دوں گا۔ اس حدیث شریف میں تمام رات جاگنے کی فضیلت نہیں بیان کی گئی ہے بلکہ صرف تہجد کے لئے اٹھنے والوں کی تعریف فرمائی گئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اعتدال پسند ہے)۔ (اس حدیث کی روایت صاحب المصابیح نے شرح السنہ میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اللہ تعالیٰ بہت بڑے قدر دان ہیں، ان کی قدر دانی کی ایک چھوٹی مثال وہ ہے۔ جس کو)