اردو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نمازوں کے ادا کرنے میں بڑا اہتمام فرماتے تھے) ہر نماز کو اس کے وقت پر
پڑھا کرتے تھے، کبھی کوئی نماز بے وقت ادا نہیں فرمائے (اور بے وقت کر کے کسی دوسری نماز کے
ساتھ جمع بھی نہیں کئے۔ آپ کیسے بے وقت نماز ادا کرتے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”إِنَّ الصَّلٰوةَ
كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا“ (مومنوں پر ہر نماز کا وقت مقرر ہے، بے وقت کر کے نہیں
اور ابوداؤد کی ایک دوسری روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح
مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1682 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1289a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
پڑھنا چاہئے)۔ حضور، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیسا خلاف کرتے، اسی لئے ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، کبھی نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع نہیں فرماتے تھے، بعض حدیثوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نماز کو بے وقت کر کے دوسری نماز کے ساتھ جمع کئے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ آپ ایک نماز کو اس کے اخیر وقت میں ادا فرمائے ہیں اور دوسری نماز کو اس کے شروع وقت میں پڑھے ہیں، یوں ہر نماز اپنے وقت پر ادا فرمائے، جن حدیثوں سے دو نمازوں کا جمع ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا یہ مطلب ہے، نہ کہ حقیقی طور پر جمع کرنا، بے وقت کر کے ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ جمع کرنے کے دو قسم ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ ایک نماز کا وقت گزرنے دے کر دوسری نماز کے ساتھ جمع کر کے پڑھنا۔ کبھی حضور ایسی نماز ادا نہیں کئے ہیں) صرف مزدلفہ میں مغرب کا وقت گزرنے کے بعد عشاء کے ساتھ ملا کر دونوں نمازیں پڑھی گئیں (حنفی بھی اس پر عمل کر کے اس طرح کا جمع مزدلفہ میں کیا کرتے ہیں، دوسری قسم یہ ہے کہ وقت ہونے کے پہلے ایک نماز کو دوسرے نماز کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اس طرح سے بھی حضور کبھی نماز ادا نہیں فرمائے ہیں، صرف عرفات میں عصر کا وقت ہونے کے پہلے عصر (اس حدیث شریف میں مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنے کا ذکر ہے اور عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، مگر راوی نے اس کی ذکر نہیں کیا ہے۔ چونکہ دوسری احادیث میں ظہر و عصر کو جمع کرنے کا ذکر موجود ہے، اس لئے یہاں اس کو بیان کیا گیا) کو ظہر کے ساتھ پڑھے ہیں۔ حنفی بھی ایسا ہی کر کے عرفات میں دونوں نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے پڑھتے ہیں، بجز ان دو موقعوں کے کبھی کوئی نماز آپ بے وقت ادا نہیں فرمائے ہیں، بے وقت نماز ادا کرنا تو بڑی چیز ہے، کبھی نماز کو اس کے مستحب وقت کے سوا ادا نہیں فرمائے) صرف مزدلفہ میں صبح کے فرض کا مستحب وقت چھوڑ کر صبح صادق ہوتے ہی اول وقت ”غَلَسَ“،، یعنی اندھیرے میں صبح کے فرض ادا فرمائے (اور منٰی کی طرف تشریف لے گئے۔ حنفی بھی ایسا ہی مزدلفہ میں صبح کی نماز کا مستحب وقت چھوڑ کر اول وقت ”غَلَسَ“،، میں صبح کے فرض ادا کیا کرتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور ابوداؤد اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے)