اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2032
مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (ایک دفعہ) حضرت عبداللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہ مکہ معظّمہ سے مدینہ منورہ کا سفر کر رہے تھے، اور میں بھی حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا
تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ نوافل سواری پر پڑھ رہے ہیں اور رکوع اور سجدہ اشارہ سے (اس طرح) ادا
کر رہے ہیں (کہ رکوع کے لئے سر تھوڑا جھکاتے تھے اور سجدہ کے لئے رکوع سے زیادہ سر جھکاتے
تھے) مگر جب آپ فرض اور وتر پڑھتے تو ان نمازوں کو سواری سے اتر کر زمین پر اداء کرتے تھے، میں
حضرت ابن عمر سے دریافت کیا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ سواری پر نماز پڑھتے ہیں تو آپ کا رخ قبلہ کی
طرف نہیں ہوتا ہے بلکہ مدینہ منورہ کی طرف ہوتا ہے (حالانکہ قبلہ رو ہونا تو نماز میں ضروری ہے)
حضرت ابن عمر نے جواب دیا: جیسے تم مجھ کو دیکھ رہے ہو کہ قبلہ رخ چھوڑ کر جس طرف سواری چل
رہی ہے اس طرف رخ کر کے نوافل پڑھتا ہوں، ایسا ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
ہوں کہ آپ نفل نماز سواری پر اشارہ سے پڑھا کرتے تھے، خواہ سواری کا رخ کسی بھی سمت ہوتا۔
(اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے کی ہے اور امام محمد نے بھی مؤطا میں
اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1337 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 1337
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) A resident or traveler may perform voluntary prayers while riding outside city limits, gesturing in whichever direction the mount faces, even if it does not initially face the Qibla. This is because if prayer is valid without facing the Ka’bah, it is also permissible to begin without facing it. ‘Bahr’ clarifies this and contrasts it with Al-Shafi’i’s view, which requires facing the Qibla initially, as mentioned in ‘Al-Sharnabalaliah.’ It is also noted in ‘Al-Hilyah’ from ‘Ghayat Al-Suruji’ that this is the narration of Ibn al-Mubarak, and it is mentioned in ‘Jawami’ Al-Fiqh.’ After citing the Hadiths, it is concluded that the preferred view is to recommend this practice when there is no hardship, based on the Hadith of Anas. ‘Al-Durr Al-Mukhtar’ and ‘Al-Ikhtiyar’ are derived from these sources.
Note 1
(۱) قوله: حيث كان وجهه: يتنفّل المقيم والمسافر راكبا خارج المصر) محل القصر (مؤميا) إلى أي جهة توجهت دابته، ولو ابتدء عندنا)، يعني أنه لا يشترط استقبال القبلة في الابتداء؛ لأنه لما جازت الصلاة إلى غير جهة الكعبة جاز الافتتاح إلى غير جهتها. «بحر» واحترز عن قول الشافعي الله فإنه يقول : يشترط في الابتداء أن يوجهها إلى القبلة، كما في «الشرنبلالية». قلت: وذكر في الحلية» عن «غاية السروجي: أنما هذا رواية ابن المبارك، وذكرها في جوامع الفقه». ثم ذكر بعد سياقه الأحاديث: أن الأشبه استحباب ذلك عند عدم الحرج عملا بحديث أنس. «الدر المختار» وارد المحتار ملتقط منهما.
Note 1
ف: در مختار میں لکھا ہے کہ نفل نماز اشارہ کے ساتھ سواری پر مسافر اور مقیم دونوں پڑھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ شہر سے باہر ہوں، اور سواری پر نفل نماز پڑھنے کے لئے نہ تو شروع نماز میں قبلہ رو ہونا ضروری ہے اور نہ درمیان نماز میں۔