اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2339
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن)
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کو سخت بخار چڑھا ہوا ہے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ لگا کر دیکھا اور عرض کیا یارسول
اللہ آپ کو جب بخار آتا ہے تو بہت سخت بخار آتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: ہاں
مجھے بخار اتنا ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم
! کیا اس کی وجہ یہ ہے آپ کو دو شخصوں کے برابر بخار دے کر دو گنا اجر و ثواب دیا جاتا ہے؟ تو حضرت
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: ہاں ایسا ہی ہے، پھر حضور نے ارشاد فرمایا (سنو! ابن مسعود! اللہ تعالیٰ
کی مہربانی کیا کہوں تجھے تو دوہرا اجر و ثواب دیتے ہیں مگر) مسلمان کو (اجر و ثواب دینے کے سوا)
جب کسی بیماری کی وجہ سے یا کوئی اور وجہ سے ایذا اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ
اس کے گناہ ایسا جھڑاتے ہیں جیسے خزاں میں (تیزی سے) جھاڑ کے پتے جھڑتے رہتے
ہیں۔ (پتے جھڑنے کے بعد جھاڑ جیسے ہو جاتا ہے) ایسا ہی مسلمان گناہوں کے جھڑنے سے پاک و
صاف ہو جاتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2571a (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5648 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.