Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2040

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

Zujajat al-Masabih 2040Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2372Noor 2373Noor 2374
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس حدیث سننے جایا کرتے تھے ایک دن انھوں نے ہم سے فرمایا کہ میرے گھر میں طاعون پھوٹ پڑا ہے اس لئے آپ لوگ میرے پاس نہ آیا کریں آپ لوگوں میں سے جو تبدیل آب و ہوا کے لئے مقام بدلنا چاہیں وہ جاسکتے ہیں، مگر ایسا اعتقاد رکھ کر مقام نہ بدلیں کہ میں طاعون زدہ مقام سے نکل گیا تھا اس لئے طاعون سے بچ گیا اور فلاں صاحب طاعون زدہ مقام میں رہتے تھے اس لئے طاعون میں مبتلا ہو کر مر گئے، اگر میں بھی طاعون زدہ مقام میں رہتا تو طاعون میں مبتلا ہو جاتا، ایسا ہی طاعون زدہ مقام میں جو رہ گیا تھا وہ طاعون میں مبتلا ہو کر یہ نہ کہے کہ میں بھی فلاں صاحب کی طرح طاعون زدہ مقام سے نکل جاتا تو میں بھی بچ جاتا، اس طرح کا اعتقاد نہ جانے والے کو ہونا چاہئے نہ رہنے والے کو بلکہ دونوں یہ سمجھیں کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے بچ گیا بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کے ارادہ سے بچا اور اگر مبتلا ہو گیا بھی تو اللہ ہی کے ارادہ سے ہوا، اس میں طاعون زدہ مقام کو چھوڑنے کا اثر ہے نہ اس مقام میں رہنے کا اثر ہے، اس طرح سمجھے والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے اور جانے سے بچنا اور رہنے سے مرنا سمجھنا یہ اعتقاد درست نہیں ہے اور ایسے اعتقاد رکھنے والے کو نقل مکان کرنا جائز نہیں ہے) حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اس کے بعد فرمائے کہ میں تم کو حدیث سناتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ طاعون کے موقع پر لوگوں کو کیا کرنا چاہئے، (ایک دفعہ) ملک شام میں طاعون پھوٹ پڑا تھا اور اس وقت میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملک شام کے جہاد میں شریک تھا (اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس وقت فوج کے سپہ سالار تھے، ملک شام میں طاعون پھوٹ پڑنے کی اطلاع امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو یہ خط لکھا کہ آپ کو میرا یہ خط ملتے ہی آپ فوراً مدینہ منورہ آنے کے لئے روانہ ہو جائیں میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ اگر میرا یہ خط آپ کو صبح ملے تو آپ اسی وقت شام ہونے سے پہلے مدینہ منورہ آنے کے لئے روانہ ہو جائیں اور اگر آپ کو میرا یہ خط شام کے وقت ملے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کرنا، اسی وقت مدینہ منورہ آنے کے لئے روانہ ہو جانا، اس لئے کہ مجھے ایک اہم ضرورت پیش آئی ہے اور اس میں آپ سے مشورہ لینا ہے اور یہ کام آپ کے مشورہ کے بغیر طے نہیں پا سکتا، جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس خط کو پڑھ چکے تو فرمایا کہ امیر المؤمنین ایک ایسے شخص کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں جس کی موت آ گئی ہے یہ کہہ کر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خط کا جواب اس طرح اور ایسا ہی ابن عساکر کی ایک روایت میں بھی اس طرح مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو اُس وقت شام کی فوج کے سپہ سالار تھے اس طرح لکھے کہ (فوج میں اکثر صحابہ کرام ہیں، ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ طاعون میں نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے، نقل مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں، اس لئے اردن میں طاعون پھیل گیا ہے اور اردن ایک وبائی اور نشیبی زمین ہے، وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے اس کے برخلاف جابیہ بلند مقام ہے جہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے اس لئے سب فوجوں کو اردن سے ہٹا کر جابیہ میں لے جاؤ، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کو پڑھ کر فرمایا کہ: ہم امیرالمؤمنین کے فرمان کی تعمیل کر کے جابیہ کی طرف فوجوں کو لے جاتے ہیں، ابو موسیٰ تم فوجوں کو لے کر جابیہ کی طرف چلو اور ان کو وہاں اتارنے کا انتظام کرو، ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ ایسے میں میری بیوی طاعون میں مبتلا ہوگئیں، میں نے حضرت ابوعبیدہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس واقعہ کی اطلاع دی (اور اپنی مجبوری کا اظہار کیا) تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ خود فوجوں کو جابیہ لے جانے کا انتظام کرنے کا ارادہ کئے (ان کا ارادہ پورا نہ ہوا) خود حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ طاعون میں مبتلا ہو کر انتقال فرمائے اور ادھر طاعون بھی ختم ہوگیا۔ اور سفیان بن عیینہ نے بھی اپنی جامع میں ابن عساکر کی روایت کی طرح روایت کی ہے لیکن وہ ابن عساکر کی روایت کے بہ نسبت مختصر ہے اور شرح معانی الآثار میں یہ بھی مذکور ہے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جنہوں نے صحابہ کرام کو یہ حکم دیا کہ وہ طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر دوسرے مقام میں منتقل ہوجائیں اور وہاں اس وقت کثیر تعداد میں صحابہ کرام موجود تھے اور کسی صحابی نے بھی آپ کے حکم کے خلاف نہیں کیا بلکہ سب نے اس کی موافقت فرمائی اور ایسا مبارک زمانہ تھا کہ صحابہ اللہ و رسول اللہ کے حکم کے خلاف ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے فوراً اعتراض کر دیتے تھے تمام صحابہ نے بغیر اعتراض کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو مان لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طاعون میں نقل مقام کرنے کا حکم اللہ اور اس کے رسول کے
Commentary and footnotes (4)

Note 1

Move the Muslims…

(1) The statement: "Move the Muslims…" in Sharh Ma'ani al-Athar: "Umar (may Allah be pleased with him) commanded the people to leave the plague, and the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) agreed with him. Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) something that supports this view." The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith." The author of al-Ashbah wa al-Naza'ir said: "In al-Bazzaziyyah: If the earth shakes and someone is in their home, it is recommended for them to flee to the open land, based on Allah's saying: 'And do not throw yourselves into destruction' (Qur'an 2:195). It is said: Fleeing from what one cannot bear is from the practices of the prophets." This indicates the permissibility of fleeing from the plague if it strikes a town.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فانهض وفي شرح معاني الآثار»: فهذا عمر الله قد أمر الناس أن يخرجوا من الطاعون، ووافقه على ذلك أصحاب رسول الله ﷺ ، وروى عبد الرحمن بن عوف عن النبي الله ما يوافق ما ذهب إليه من ذلك انتهى. وقال صاحب الدر المختار» في مسائل شتى منه وإذا خرج من بلدة بها الطاعون، فإن علم أن كل شيء بقدر الله تعالى فلا بأس بأن يخرج ويدخل. وإن كان عنده أنه لو خرج نجا ولو دخل ابتلى به كره له ذلك، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. وعليه حمل النهي في الحديث الشريف. مجمع الفتاوى انتهى. وقال في «الأشباه والنظائر»: وفي «البزازية»: إذا تزلزلت الأرض وهو وفي بيته يستحب له الفرار إلى الصحراء؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) (البقرة: (۱۹۵) وفيه: قيل : الفرار مما لا يُطاق من سُنَن المرسلين انتهى. ويفيد جواز الفرار من الطاعون إذا نزل ببلدة، انتهى قول الأشباه والنظائر».

Note 1

لکھا کہ امیر المؤمنین جس ضرورت کے لئے مجھے بلا رہے ہیں میں اس کو معلوم کرلیا ہوں ضرور حاضر ہوتا لیکن میں اس وقت مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار ہوں مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ اپنی جان بچا کر چلے آؤں اور مسلمانوں کو موت کے منھ میں دیدوں (نہ وہاں آنے سے پہلے موت سے بچ سکتا نہ یہاں رہنے سے مرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ ہے وہ پورا ہوکر رہتا ہے اس لئے مجھے مسلمانوں کے ساتھ ہی رہنے دیجئے) اور مجھے آنے کے لئے آپ جو قسم دیئے ہیں (وہ واقع میں قسم تو ہے نہیں، صرف تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے) اس لئے مجھے اس کی پابندی سے معاف فرمائیے، جب یہ خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ (خط دیکھ) کر رونے لگے (آپ کو روتے ہوئے دیکھ کر) لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین آپ رو رہے ہیں کیا حضرت ابوعبیدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرمائے: نہیں، انتقال تو نہیں ہوا مگر ان کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انتقال ہونے والا ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو نقل مکان کروا رہے تھے اس سے معلوم ہوا کہ اعتقاد صحیح کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کرنا جائز ہے باوجود اعتقاد صحیح کے اگر طاعون میں نقل مکان کرنا جائز نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہرگز نہ بلاتے، اس کی تائید اس خط سے بھی ہوتی ہے جو اس خط سے پہلے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا گیا تھا کہ فوج میں صحابہ کرام ہیں ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتا ہے نقل مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں اس لئے) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جاتا ہے کہ اردن ایک پست نشیبی مقام ہے وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے، اس لئے سب فوجوں کو وہاں سے ہٹا کر مقام جابیہ میں لے جاؤ کہ وہ بلند مقام ہے وہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان دیکھ کر مجھ سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یہ فرمائے: حضرت امیر المؤمنین کے حکم کی تعمیل کر کے یہاں تمام فوجوں کو منتقل کر کے جابیہ لے جانے کا انتظام کر لو تو حضرت ابوموسیٰ کہنے لگے میں آپ کے حکم کی ضرور تعمیل کرتا مگر میرے گھر میں خود طاعون ہوگیا ہے میں خود پریشان ہوں، اتنا بڑا انتظام (اس وقت) مجھ سے نہیں ہوسکتا، یہ سن کر حضرت ابوعبیدہ خود انتظام کرنے کا ارادہ کئے اور سوار ہونے لگے اور لوگ بھی جابیہ کی طرف کوچ کرنے لگے، ایسے میں حضرت ابوعبیدہ کو طاعون ہوگیا، اور طاعون ہی سے ان کا انتقال ہوگیا، اور ادھر طاعون بھی ختم ہوگیا۔ (اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی پہلے شخص ہیں کہ صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کو جائز قرار دیتے ہیں)۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

Note 2

حکم کے خلاف نہیں تھا۔ اور شرح معانی الآثار میں لکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کے حکم سے موافقت رکھتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے بھی ثابت ہے اسی لئے صاحب درمختار نے مسائل شتیٰ میں مجمع الفتاویٰ کے حوالہ سے لکھا ہے، جب کسی شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے طاعون زدہ مقام سے نکلنے کو بچ جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کو مر جانے میں کوئی دخل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہیں نہ کوئی مر سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا ہے ایسا صحیح اعتقاد رکھنے والا طاعون زدہ مقام سے نکل کر نقل مقام کرے، یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہو تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں، ایسے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے، برخلاف اس کے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ طاعون زدہ مقام میں جانے سے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا، یا وہ سمجھتا ہے کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے میں طاعون سے محفوظ رہے گا تو اس کا یہ اعتقاد غلط ہے اور جس کا ایسا اعتقاد ہے اس کو چاہئے کہ اپنا اعتقاد درست رکھنے کی خاطر نہ تو طاعون زدہ مقام سے نکلے اور نہ طاعون زدہ مقام میں جائے، اور جس حدیث شریف میں طاعون زدہ مقام سے نقل مقام کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ ممانعت بھی مذکورہ اعتقاد رکھنے والوں سے ہی متعلق ہے اور جن کا یہ اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے کی وجہ سے بچ جائے گا تو ایسا غلط اعتقاد رکھنے والے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نکلنا جائز نہیں ہے۔ (درمختار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) مذکورہ صحیح اعتقاد رکھنے والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہونے کی تائید الاشباہ والنظائر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے اس کو الاشباہ والنظائر نے بزازیہ سے نقل کی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر میں ہو اور اس وقت زلزلے کے آثار ظاہر ہو رہے ہوں تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے فوری کھلے میدان کی طرف بھاگ جائے، اللہ تعالیٰ کا بھی ایسا ہی ارشاد ہے: ”وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ“ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:24، آیت نمبر:195) یعنی تم اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو، جہاں تک ہو سکے اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچایا کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ زلزلے کے وقت کھلے میدان کی طرف نکل جانا، اور طاعون زدہ مقام سے صحیح اعتقاد رکھ کر نقلِ مقام کرنا جائز ہے، ورنہ لازم آئے گا کہ زلزلہ سے بھاگ کر اور طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان نہ کر کے اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالا جو صریح آیت کے خلاف ہے، اس لئے صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان کرنا جائز ہے، اور ہلاکت کے موقعوں سے اپنے کو بچانا پیغمبروں کی سنت ہے۔ (الاشباہ والنظائر کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)