English
Tariq ibn Shihab (may Allah be pleased with him) narrated: "We were conversing with Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) when one day he said to us: 'Do not feel obliged to hide anything from me, for the plague has struck my family. Whoever among you wishes to avoid it may do so, but beware of two things: Do not let anyone say, "Someone left and was saved, while someone stayed and was afflicted. If I had left, I would have been saved like so-and-so," or "If I had stayed, I would have been afflicted like so-and-so." I will tell you what people should do regarding the plague. I was with Abu Ubaidah (may Allah be pleased with him) when the plague struck Syria. Umar (may Allah be pleased with him) wrote to him: "If this letter reaches you in the evening, do not wait until morning; ride to me immediately, for I have a need for you that I cannot do without." When Abu Ubaidah read the letter, he said: "The Commander of the Faithful wants to save someone who is not destined to live." He wrote back to Umar: "I am among a group of Muslims, and I will not flee from death or destiny. I will not prioritize myself over them. I understand the need of the Commander of the Faithful, so release me from your command." When Umar received the letter, he wept. Someone said to him: "Has Abu Ubaidah died?" He said: "No." Umar had written to him: "The Jordan Valley is a deep and unhealthy land, while al-Jabiyah is a pleasant land. Move the Muslims to al-Jabiyah." 1 Abu Ubaidah said to me: "Go and prepare a place for the Muslims." I said: "I cannot." He then went to ride and said to me: "Prepare the people's mounts." He was struck by the plague and died, and the plague subsided" [Narrated by al-Tahawi]
In a version by Ibn Asakir: "Umar had written to him: 'The Jordan Valley is a deep and unhealthy land, while al-Jabiyah is a pleasant land. Move the Muhajireen there.' When Abu Ubaidah read the letter, he said: 'We hear and obey the command of the Commander of the Faithful.' He ordered me to ride and prepare places for the people. My wife was struck by the plague, so I went to Abu Ubaidah. He went to prepare places for the people but was struck by the plague and died, and the plague subsided."
Sufyan ibn Uyaynah narrated a similar but shorter version in his collection.
The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith."
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: "Move the Muslims…" in Sharh Ma'ani al-Athar: "Umar (may Allah be pleased with him) commanded the people to leave the plague, and the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) agreed with him. Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) something that supports this view." The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith." The author of al-Ashbah wa al-Naza'ir said: "In al-Bazzaziyyah: If the earth shakes and someone is in their home, it is recommended for them to flee to the open land, based on Allah's saying: 'And do not throw yourselves into destruction' (Qur'an 2:195). It is said: Fleeing from what one cannot bear is from the practices of the prophets." This indicates the permissibility of fleeing from the plague if it strikes a town.
Note 1
(۱) قوله: فانهض وفي شرح معاني الآثار»: فهذا عمر الله قد أمر الناس أن يخرجوا من الطاعون، ووافقه على ذلك أصحاب رسول الله ﷺ ، وروى عبد الرحمن بن عوف عن النبي الله ما يوافق ما ذهب إليه من ذلك انتهى. وقال صاحب الدر المختار» في مسائل شتى منه وإذا خرج من بلدة بها الطاعون، فإن علم أن كل شيء بقدر الله تعالى فلا بأس بأن يخرج ويدخل. وإن كان عنده أنه لو خرج نجا ولو دخل ابتلى به كره له ذلك، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. وعليه حمل النهي في الحديث الشريف. مجمع الفتاوى انتهى. وقال في «الأشباه والنظائر»: وفي «البزازية»: إذا تزلزلت الأرض وهو وفي بيته يستحب له الفرار إلى الصحراء؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) (البقرة: (۱۹۵) وفيه: قيل : الفرار مما لا يُطاق من سُنَن المرسلين انتهى. ويفيد جواز الفرار من الطاعون إذا نزل ببلدة، انتهى قول الأشباه والنظائر».
Note 1
لکھا کہ امیر المؤمنین جس ضرورت کے لئے مجھے بلا رہے ہیں میں اس کو معلوم کرلیا ہوں ضرور حاضر ہوتا لیکن میں اس وقت مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار ہوں مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ اپنی جان بچا کر چلے آؤں اور مسلمانوں کو موت کے منھ میں دیدوں (نہ وہاں آنے سے پہلے موت سے بچ سکتا نہ یہاں رہنے سے مرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ ہے وہ پورا ہوکر رہتا ہے اس لئے مجھے مسلمانوں کے ساتھ ہی رہنے دیجئے) اور مجھے آنے کے لئے آپ جو قسم دیئے ہیں (وہ واقع میں قسم تو ہے نہیں، صرف تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے) اس لئے مجھے اس کی پابندی سے معاف فرمائیے، جب یہ خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ (خط دیکھ) کر رونے لگے (آپ کو روتے ہوئے دیکھ کر) لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین آپ رو رہے ہیں کیا حضرت ابوعبیدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرمائے: نہیں، انتقال تو نہیں ہوا مگر ان کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انتقال ہونے والا ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو نقل مکان کروا رہے تھے اس سے معلوم ہوا کہ اعتقاد صحیح کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کرنا جائز ہے باوجود اعتقاد صحیح کے اگر طاعون میں نقل مکان کرنا جائز نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہرگز نہ بلاتے، اس کی تائید اس خط سے بھی ہوتی ہے جو اس خط سے پہلے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا گیا تھا کہ فوج میں صحابہ کرام ہیں ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتا ہے نقل مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں اس لئے) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جاتا ہے کہ اردن ایک پست نشیبی مقام ہے وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے، اس لئے سب فوجوں کو وہاں سے ہٹا کر مقام جابیہ میں لے جاؤ کہ وہ بلند مقام ہے وہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان دیکھ کر مجھ سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یہ فرمائے: حضرت امیر المؤمنین کے حکم کی تعمیل کر کے یہاں تمام فوجوں کو منتقل کر کے جابیہ لے جانے کا انتظام کر لو تو حضرت ابوموسیٰ کہنے لگے میں آپ کے حکم کی ضرور تعمیل کرتا مگر میرے گھر میں خود طاعون ہوگیا ہے میں خود پریشان ہوں، اتنا بڑا انتظام (اس وقت) مجھ سے نہیں ہوسکتا، یہ سن کر حضرت ابوعبیدہ خود انتظام کرنے کا ارادہ کئے اور سوار ہونے لگے اور لوگ بھی جابیہ کی طرف کوچ کرنے لگے، ایسے میں حضرت ابوعبیدہ کو طاعون ہوگیا، اور طاعون ہی سے ان کا انتقال ہوگیا، اور ادھر طاعون بھی ختم ہوگیا۔ (اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی پہلے شخص ہیں کہ صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کو جائز قرار دیتے ہیں)۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Note 2
حکم کے خلاف نہیں تھا۔ اور شرح معانی الآثار میں لکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کے حکم سے موافقت رکھتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے بھی ثابت ہے اسی لئے صاحب درمختار نے مسائل شتیٰ میں مجمع الفتاویٰ کے حوالہ سے لکھا ہے، جب کسی شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے طاعون زدہ مقام سے نکلنے کو بچ جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کو مر جانے میں کوئی دخل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہیں نہ کوئی مر سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا ہے ایسا صحیح اعتقاد رکھنے والا طاعون زدہ مقام سے نکل کر نقل مقام کرے، یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہو تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں، ایسے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے، برخلاف اس کے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ طاعون زدہ مقام میں جانے سے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا، یا وہ سمجھتا ہے کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے میں طاعون سے محفوظ رہے گا تو اس کا یہ اعتقاد غلط ہے اور جس کا ایسا اعتقاد ہے اس کو چاہئے کہ اپنا اعتقاد درست رکھنے کی خاطر نہ تو طاعون زدہ مقام سے نکلے اور نہ طاعون زدہ مقام میں جائے، اور جس حدیث شریف میں طاعون زدہ مقام سے نقل مقام کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ ممانعت بھی مذکورہ اعتقاد رکھنے والوں سے ہی متعلق ہے اور جن کا یہ اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے کی وجہ سے بچ جائے گا تو ایسا غلط اعتقاد رکھنے والے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نکلنا جائز نہیں ہے۔ (درمختار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) مذکورہ صحیح اعتقاد رکھنے والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہونے کی تائید الاشباہ والنظائر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے اس کو الاشباہ والنظائر نے بزازیہ سے نقل کی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر میں ہو اور اس وقت زلزلے کے آثار ظاہر ہو رہے ہوں تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے فوری کھلے میدان کی طرف بھاگ جائے، اللہ تعالیٰ کا بھی ایسا ہی ارشاد ہے: ”وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ“ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:24، آیت نمبر:195) یعنی تم اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو، جہاں تک ہو سکے اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچایا کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ زلزلے کے وقت کھلے میدان کی طرف نکل جانا، اور طاعون زدہ مقام سے صحیح اعتقاد رکھ کر نقلِ مقام کرنا جائز ہے، ورنہ لازم آئے گا کہ زلزلہ سے بھاگ کر اور طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان نہ کر کے اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالا جو صریح آیت کے خلاف ہے، اس لئے صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان کرنا جائز ہے، اور ہلاکت کے موقعوں سے اپنے کو بچانا پیغمبروں کی سنت ہے۔ (الاشباہ والنظائر کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)