اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2381
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: کوئی شخص (مصیبتوں کی یا بیماریوں کی وجہ سے زندگی سے تنگ آ کر)
موت کی آرزو نہ کرے (تجھے کچھ خبر ہے کہ مرنے سے اعمال ختم ہو جاتے ہیں پھر تو کچھ نہیں کر سکتا،
زندگی کو غنیمت جان) اگر (تو نیک ہے تو) (تیری) نیکیوں میں اضافہ ہو جائے گا، اگر (تو) برا ہے تو
شاید (تیرا) دل پلٹی کھائے اور (تو) توبہ کر کے نیکیاں کرنے لگے (مر جانے سے پھر یہ موقع کہاں ملتا
ہے، اس لئے مرنے کی ہرگز آرزو نہ کرے) اگر ایسا ہی تجھ کو آرزو کرنا ہے تو ان الفاظ (یہ دعاء
رد المحتار سے لی گئی ہے اور بخاری نے بھی اس کی روایت کی۔12) سے موت کی آرزو کر۔
الٰہی! (میں نہیں جانتا کہ میرے لئے خیر کیا ہے، آپ ہی کو غیب کی سب خبر ہے اگر باوجود جو
مصائب اور بیماریوں کے)
میرا زندہ رہنا خیر ہے تو مجھے زندہ رکھ! اور اگر مرنا ہی خیر ہے تو مجھے خیر کے ساتھ موت دے۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 7235 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5673 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: "None of you should wish for death..." It is said in Radd al-Muhtar: "It is disliked to wish for death due to harm that has befallen one, as it is prohibited. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me.' This is mentioned in As-Siraj."
Note 1
(۱) قوله : لا يتمنى أحدكم الموت إلخ : قال في رد المحتار»: قال في النهر»: ويكره تمني الموت بضرر نزل به؛ لنهي عن ذلك. فإن كان ولا بد فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي. كذا في «السراج».