ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: کوئی شخص (مصیبتوں کی یا بیماریوں کی وجہ سے زندگی سے تنگ آ کر)
موت کی آرزو نہ کرے (تجھے کچھ خبر ہے کہ مرنے سے اعمال ختم ہو جاتے ہیں پھر تو کچھ نہیں کر سکتا،
زندگی کو غنیمت جان) اگر (تو نیک ہے تو) (تیری) نیکیوں میں اضافہ ہو جائے گا، اگر (تو) برا ہے تو
شاید (تیرا) دل پلٹی کھائے اور (تو) توبہ کر کے نیکیاں کرنے لگے (مر جانے سے پھر یہ موقع کہاں ملتا
ہے، اس لئے مرنے کی ہرگز آرزو نہ کرے) اگر ایسا ہی تجھ کو آرزو کرنا ہے تو ان الفاظ (یہ دعاء
رد المحتار سے لی گئی ہے اور بخاری نے بھی اس کی روایت کی۔12) سے موت کی آرزو کر۔
الٰہی! (میں نہیں جانتا کہ میرے لئے خیر کیا ہے، آپ ہی کو غیب کی سب خبر ہے اگر باوجود جو
مصائب اور بیماریوں کے)
میرا زندہ رہنا خیر ہے تو مجھے زندہ رکھ! اور اگر مرنا ہی خیر ہے تو مجھے خیر کے ساتھ موت دے۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 7235 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5673 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
None of you should wish for death...
(1) His statement: "None of you should wish for death..." It is said in Radd al-Muhtar: "It is disliked to wish for death due to harm that has befallen one, as it is prohibited. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me.' This is mentioned in As-Siraj."
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا يتمنى أحدكم الموت إلخ : قال في رد المحتار»: قال في النهر»: ويكره تمني الموت بضرر نزل به؛ لنهي عن ذلك. فإن كان ولا بد فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي. كذا في «السراج».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (مسلمانو!) تم میں سے کوئی (پریشانیوں کی وجہ سے گھبرا کر دل
سے) موت آنے کی آرزو نہ کرے اور (نہ زبان سے) موت آنے کی دعا کرے (جب موت آنا
ہے آ کے رہے گی) موت آنے سے پہلے (موت کی آرزو کرنے کے یا موت آنے کی دعا کرنے کے کیوں بے
صبری کا اظہار کرتے ہو، اگر صبر کرتے تو تم کو اس کا ثواب ملتا تم کو کچھ خبر ہے) کہ مرنے سے نیک
عمل کرنے کا موقع جاتا رہتا ہے بلکہ عمر (کے بڑھنے) سے مسلمان کے لئے نیکیوں کو بڑھانے کا
موقع ملتا ہے مرنے کے بعد تم بہت آرزو کرو گے مگر نیک عمل کرنے کا موقع نہیں ملے گا، زندگی کو
غنیمت جانو جہاں تک ہو سکے نیک اعمال کرنے کی کوشش میں رہو، مسلمان کی زندگی بھی ایک نعمت
الٰہی ہے، اس وقت اس کے لئے نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، تم موت کی آرزو اور دعا کر کے کیوں اس
موقع کو کھونا چاہتے ہو؟ اس لئے موت کی آرزو یا دعا ہرگز نہ کرنا۔)
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (مسلمانو! دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے موت کی آرزو نہ
کرو (دنیا کی مصیبتیں اور تکلیفیں مرنے کے بعد پیش آنے والی تکلیفوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں
ہیں) موت کے بعد جو پیش آنے والے امور ہیں وہ بہت سخت ہیں (کیا تم ان کو آسان سمجھ گئے ہو؟
مرنے کے بعد کے مصائب کی ابتدا، سکرات سے ہوتی ہے، پھر قبر میں منکر و نکیر کے سوال کے جواب
دینا ہے، قبر کے ہولناک امور قیامت کے ہیبت ناک واقعات پےلے بعد دیگرے سب پیش آنے
والے ہیں اس لئے موت کی آرزو کرنے یا موت آنے کی دعا کرنے سے کوئی فائدہ نہیں، زندگی کو
غنیمت سمجھو، آنے والے امور کی آسانی کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں تیاری کرو، جو کچھ کرنا ہے دنیا
ہی میں کر لو، مرنے کے بعد کچھ نہ کر سکو گے) بہت خوش نصیب ہے وہ مسلمان جس کی عمر دراز ہو اور
اس کو خدا کی طرف رجوع ہونے کی توفیق ہوئی ہو (اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے موت کے بعد
آنے والے امور کی آسانی کے لئے تیاری کر لیا ہو۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: (ایک روز کا ذکر ہے)
کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر تھے، حضور ہم کو وعظ نصیحت فرما
رہے تھے، حضور نے ہم کو رقت پیدا ہونے والی باتیں فرمائیں یوں حضور کا وعظ و نصیحت ہمیشہ دل
ہلانے والا ہوتا تھا، مگر اس وقت کا وعظ کیا کہوں کیسا تھا، ہمارے دلوں کی عجیب حالت تھی، ایسا معلوم
ہوتا تھا کہ آخرت کے سارے احوال اور قیامت کے ہولناک واقعات ہمارے سامنے ہیں، ہر شخص
پر ایک رقت کا عالم طاری تھا، حضرت سعد بھی ہمارے ساتھ تھے، اس حالت سے متاثر ہو کر)
حضرت سعد خوب رو رہے تھے (بے سدھ ہو کر) کہنے لگے: کاش میں (بچپن ہی میں) مر جاتا (تو
گنہگار نہ ہوتا اور عذاب آخرت سے نجات پا جاتا یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے:
اے سعد! کیا تم میرے سامنے موت کی آرزو کرتے ہو (آخرت کی تمام نعمتوں سے میری صحبت
بہترین نعمت ہے، میری صحبت میں رہنا کیا کم ہے کہ پھر تم کیوں میرے سامنے موت کی آرزو کر
رہے ہو) تین بار حضور ایسا ہی فرماتے رہے (قطع نظر میری صحبت کے تم کو تو جنت کی خوش خبری دی
گئی ہے نا، اگر جنت کی خوش خبری نہ بھی دی جاتی تو تم مسلمان تھے) اگر تمہارے مقدر میں جنت لکھی
گئی ہوتی تو تمہاری عمر کا دراز ہونا اور نیکیاں کر کے جنت کے مراتب حاصل کرنا (بچپن میں مر جانے
سے) بہت بہتر تھا۔ (پھر اب تم بچپن میں مرنے کی آرزو کر رہے ہو، یہ تمہاری شان کے لائق نہیں
ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ خباب رضی اللہ
تعالیٰ عنہ (جو مشہور صحابی ہیں وہ بیمار تھے، میں اُن کی عیادت کے لئے ان) کے پاس گیا (کیا دیکھتا
ہوں کہ حضرت خباب سخت بیمار ہیں، ان کو علاج کے طور پر ایک دو جگہ نہیں بلکہ) سات جگہ داغ دیا
گیا ہے (بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ داغ دے کر علاج نہ کیا جائے، وہ عام طور پر ممانعت
نہیں ہے لوگوں کی عادت تھی کہ معمولی ضرورت پر بھی داغ دیا کرتے تھے، اس سے منع کیا گیا، اہم
ضرورت ہو تو داغ دینا ممنوع نہیں ہے حضرت خباب جیسے صحابی ممنوع چیز ہرگز استعمال نہ کرتے،
ایسی ہی اہم ضرورت تھی اسی وجہ سے حضرت خباب داغ دینے سے اپنا علاج کئے تھے، اہم ضرورت کا
اس سے اندازہ کرو کہ وہ کیسی سخت بیماری ہوگی جس کی برداشت نہ کر کے) حضرت خباب فرما رہے
ہیں: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موت کی آرزو کرنے سے منع نہ فرماتے تو میں (اس سخت
مرض کی برداشت نہ کر کے) موت کی آرزو کرتا (مگر میں حضور کے ارشاد کی تعمیل کر کے کیسا ہی مرض
ہو، اس میں موت کی آرزو نہیں کرتا ہوں، یہ بیماری کیا چیز ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے کسی ایسے صحابی کو نہیں جانتا جس نے میرے برابر بلائیں اور مصیبتیں برداشت کی ہوں، ان
مصیبتوں کے وقت بھی بے صبری کا اظہار نہیں کیا ہوں اب اس بیماری میں بے صبری کر کے حضور
کے ارشاد کے خلاف کر کے موت کی آرزو نہیں کرتا، دیکھو اس وقت) میری یہ حالت تھی کہ ایک درہم
بھی میرے پاس نہیں تھا (مگر کبھی میں نے بے صبری کا اظہار نہیں کیا) اور اب میرے گھر کے ایک
کونے میں 40 ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں (حارثہ) کہتے ہیں کہ پھر حضرت خباب کا کفن لایا گیا
(جو بہت قیمتی تھا) جب (حضرت خباب) اس (کفن) کو دیکھے تو رونے لگے (روتے ہوئے)
فرمائے (ایک کفن تو یہ ہے اور ایک کفن تو وہ تھا جو) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو (دیا گیا، گنجائش نہ
ہونے سے تین کپڑوں کی بجائے) ایک دھاری دار چادر ہی میں آپ کو کفنایا گیا (کیا کہوں وہ بھی
اتنا چھوٹا کفن تھا کہ) سر کو ڈھانکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو ڈھانکتے تو سر کھل جاتا
تھا (مجبور ہو کر) اسی کفن سے سر کو ڈھانکے پاؤں جو کھلے ہوئے تھے ان کو اذخر نامی خوشبودار گھاس
سے ڈھانکے (اور اسی حالت میں حضرت حمزہ دفن کئے گئے۔ صاحبو! آپ نے دیکھا اس وقت کی
زندگی کیسی تکلیف کی زندگی تھی، باوجود اس تکلیف کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو حکم تھا کہ
تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو نہ کریں، اس لئے باوجود تکلیف کے کوئی صحابی نہ موت کی آرزو کئے
نہ موت آنے کی دعا کئے۔ مسلمانو! تم بھی کسی ہی قسم پر پریشانی آئے حضور کے حکم کی تعمیل کر کے کبھی
موت کی آرزو نہ کرنا اور نہ موت آنے کی دعا کرنا، صبر کئے ہوئے صبر کا ثواب حاصل کرتے رہو۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائیں ہیں کہ کوئی شخص (بدنی یا مالی) مصیبت کی وجہ سے (زندگی سے تنگ آ کر)
ہرگز موت کی آرزو نہ کرے، اگر تم کو ایسا ہی موت کی آرزو کرنا ہے تو (اپنے الفاظ میں ہرگز نہ کرنا، تم
اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف کچھ کہہ دو گے، بہتر یہ ہے کہ حدیث کے) ان الفاظ سے موت کی آرزو
کرنا (وہ الفاظ یہ ہیں):
الٰہی (میں نہیں جانتا کہ میرے لئے خیر کیا ہے، آپ ہی کو غیب کی سب خبر ہے، اگر باوجود
مصائب اور بیماریوں کے) میرا زندہ رہنا خیر ہے تو مجھے زندہ رکھئے اور اگر میرا مرنا ہی خیر ہو تو مجھے
خیر کے ساتھ موت دیجئے۔
8/2387-2388۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے تو اللہ
تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اس
سے ملنا پسند نہیں کرتے (یہ سن کر) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیں یا رسول اللہ (اللہ
تعالیٰ سے ملنے سے مراد اگر موت ہو تو موت کو تو کوئی بھی پسند نہیں کرتا، پھر حضور کا یہ فرمانا کہ بعض
موت کو پسند کرتے ہیں اور بعض موت کو نہیں پسند کرتے اس کا کیا مطلب ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: عائشہ! (تم خدا کے ملنے کو اور موت کو ایک ہی سمجھ رہی ہو) ایسا نہیں ہے
(انسانی فطرت کے لحاظ سے تو موت کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ سے ملنا اور موت ایک چیز نہیں
ہے بلکہ) جب مسلمان کو موت آتی ہے تو (چوں کہ وہ توحید اور رسالت کا قائل ہو کر اللہ تعالیٰ کو راضی
کر لیا ہے) اس کے سامنے فرشتے آ کر خوش خبری سناتے ہیں (کہ چلو اللہ سے ملو اللہ تعالیٰ تم سے
راضی ہے، تمہارے لئے راحت و آرام اور باغ و بہار تیار کیا ہے) اس وقت مسلمان کے سامنے اللہ
تعالیٰ سے ملنے سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اللہ
تعالیٰ بھی (چوں کہ اس سے راضی ہیں) اس لئے اس سے ملنے کو پسند فرماتے ہیں، (اس کے
برخلاف) جب کافر کو موت آتی ہے تو (چوں کہ توحید اور رسالت کا انکار کر کے وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض
کر رکھا ہے اس لئے) فرشتے اس کے سامنے آ کر کہتے ہیں (کہ تم خدا سے مل کر کیا کرو گے خدا تم
سے ناراض ہے) تمہارے لئے طرح طرح کے عذاب اور مصائب تیار کر رکھا ہے، تو اس وقت کافر
کے سامنے اللہ تعالیٰ سے ملنے سے بڑھ کر کوئی چیز ناگوار نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کو
پسند نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ بھی (چونکہ اس پر غضب ناک ہیں) اس لئے وہ اس سے ملنے کو پسند نہیں
فرماتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک ضروری بات سنانا چاہتے تھے خاص توجہ کے ساتھ اس کو سننے کے لئے بہ طور
تمہید ارشاد فرمائے) (مسلمانو!) تم کو کچھ معلوم ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے پہلی بات
کیا کریں گے، ایسے ہی اس دن مسلمانوں کی پہلی بات اللہ تعالیٰ سے کیا ہوگی اگر تم چاہتے ہو تو میں
تمہیں اس کو سناتا ہوں، یہ سن کر صحابہ عرض کئے، حضور ضرور سنائیے (ہم اس کو سننے کے لئے خاص
توجہ کے ساتھ تیار ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے سنو! اللہ تعالیٰ کی (پہلی) بات
(مسلمانوں سے متوجہ ہوکر) یہ ہوگی کہ کیا تم کو یقین تھا کہ (تم کو آخرت میں ایک دن) آنا ہے اور
اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے تو مسلمان عرض کریں گے ہاں اے، ہمارے مالک (ہم یقین سے ایسا ہی سمجھے
ہوئے تھے) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے (جب تم کو مجھ سے ملنے کا یقین تھا پھر تم گناہ کیسے کئے،
مسلمان عرض کریں گے الٰہی! (ہم نادم اور شرمندہ ہیں، ہم کو گناہ نہیں کرنا چاہئے تھا مگر) آپ کا کرم،
آپ کا حلم، آپ کا حلم، ہم کو جرأت دلایا (ہم یہ سمجھے ہوئے تھے کہ آپ کی مغفرت، ہمارے گناہوں
سے زیادہ وسیع ہے، آپ کی مغفرت کے سامنے ہمارے گناہ کیا چیز ہیں، ہم بڑی امید آپ سے کئے
اس لئے گناہ کرنا تھا کئے) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے: (بندہ جیسے میری نسبت خیال کرتا ہے میں
ویسا ہی اس کے ساتھ برتاؤ کرتا ہوں، جب تمہارا میرے ساتھ ایسا خیال تھا تو) میں تمہارے سب
گناہوں کو بخش دیا۔ اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے اور ابونعیم نے بھی حلیہ میں
اس کی روایت کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ایک نوجوان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس کو ملاحظہ فرمائے کہ سکرات کی
حالت میں ہے، حضور ان سے دریافت فرمائے: (اس وقت تمہارے دل کی) کیا حالت ہے؟
(تمہارے دل میں اس وقت کیا خیالات آ رہے ہیں) اس نوجوان نے عرض کیا: حضور! گناہوں کی
وجہ سے خدائے تعالیٰ سے ڈر رہا ہوں (کہ میرے ساتھ معلوم نہیں کیا برتاؤ کیا جاتا ہے اور ادھر اللہ
تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کا خیال آتا ہے تو) بڑی امید بھی ہوتی ہے (کہ اللہ تعالیٰ کی
مغفرت کے سامنے میرے گناہ کیا چیز ہیں ضرور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے میرے گناہ معاف فرمائیں
گے اور مجھے مرنے کے بعد راحت و آرام نصیب ہوگا، اس وقت اس کشمکش میں میرا دل پھنسا ہوا
ہے) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (سنو! اے نوجوان یوں تو ہر وقت
مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے اور اس سے امید رکھتے ہوئے رہنا چاہئے خاص کر)
ایسے سکرات کے وقت میں (جس شخص کے دل میں اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے خوف ہو
اور اللہ تعالیٰ کی شان رحمت اس کے پیش نظر ہو جس کی وجہ سے وہ بڑی بڑی امیدیں لگایا ہوا ہے، اللہ
کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر غالب رہتی ہے، ایسے بندہ کی حالت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آتی
ہے) تو وہ بندہ جس چیز سے ڈر رہا ہے اس کو اس سے بچا لیتے ہیں اور جس چیز کی امید لگایا ہوا ہے اس
کو عطا فرما کر امن اور راحت میں رکھتے ہیں۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (مجھے خوب یاد ہے) خود
میں سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وفات شریف سے تین دن پہلے اس طرح ارشاد
فرمائے ہیں تم میں سے ہر ایک کی موت ایسی حالت میں ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھتا ہو۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2877a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمان کے دو بازو ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی
طرف جانے کا راستہ بہت آسانی سے طے ہوتا ہے، ایک بازو تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف رہے جس کی
وجہ سے وہ گناہوں سے بچتا رہتا ہے اور دوسرا بازو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھے جس کی وجہ سے
مسلمان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھتا ہے، حالت صحت اور زندگی میں خوف خدا کو غالب رکھے
تاکہ گناہوں سے بچتا رہے اور مرنے کے وقت خوف کی ضرورت نہیں رہی، اس لئے کہ وہ وقت گناہ
کرنے کا نہیں ہے بلکہ موت کے وقت خدا کو رحیم، کریم، ستار، غفار جان کر مغفرت کی امید
دل میں لیا ہوا رہے، تاکہ خوش خوش خدا کے پاس جانے کے لئے تیار رہے، مرنے سے جی نہ
چرائے، یعنی مرنے کے وقت اگر خوف کی حالت رہی تو خدا کے سامنے ایسا جائے گا جیسے مالک کے
سامنے بھاگا ہوا غلام ڈرتا ہوا جاتا ہے اس لئے زندگی میں حتی الامکان نیکیاں کرتے رہے اور مرتے
وقت دل میں یہی امید مغفرت کی لیا ہوا رہے گا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسا جائے گا جیسے کوئی غلام مالک
کے حکم کی تعمیل کرکے مالک کے سامنے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہوئے خوش خوش جاتا ہے۔
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے آپ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ اس
جنازہ کو دیکھ کر فرمائے یا تو اس کو راحت ہوگئی یا اس سے راحت ہوگئی، صحابہ نے عرض کیا حضور آپ
جو ارشاد فرمائے ہیں ہم اس کا مطلب نہیں سمجھے، اس سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم فرمائے سنو (میں نے جو کہا ’’اس کو راحت ہوگئی اس سے مراد یہ ہے) کہ مسلمان بندہ دنیا میں
طرح طرح کی مصیبتیں اٹھاتا رہتا ہے، مرنے کی وجہ سے وہ ان تمام مصیبتوں سے چھوٹ جاتا ہے
اور چونکہ وہ نیکیاں کرتا رہا، اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہیں (مرنے سے) وہ رحمت الٰہی میں پہنچ
جاتا ہے اور راحت و آرام پاتا ہے، حضور فرمائے (کہ میں نے ’’اس سے راحت ہوگئی‘‘ جو کہا اس کا
مطلب یہ ہے) کہ جو ظالم بندہ (کہ جس کے ظلم سے سب تنگ تھے طرح طرح سے لوگوں کو ایذا
پہنچ رہی تھی، اس کے مرنے کی وجہ سے سب کو راحت مل جاتی ہے) انسان تو انسان بلکہ شجر،
درخت اور جانور اس کے مرنے سے سب کو راحت ہوجاتی ہے (اس لئے کہ اس کے ظلم کی وجہ سے
سارے عالم میں فساد پھیل گیا تھا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک تھے اس کے ظلم اور گناہوں کی وجہ
سے بارش رک گئی تھی، طرح طرح سے عالم میں خرابیاں ہورہی تھیں، اس کے مرنے کی وجہ سے یہ
ساری خرابیاں دور ہوگئیں، بارش کی وجہ سے زمین سرسبز ہوگئی اور زمین پر رہنے والوں کو آرام نصیب
ہوگیا اس لئے میں نے اس جنازہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کو آرام مل گیا یا اس سے سب کو آرام مل گیا۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (خاص توجہ سننے کے لئے) میرے دونوں مونڈھے پکڑ کر ارشاد فرمائے ابن عمر سنو!
(دنیا کو اپنا گھر نہ سمجھنا) تم دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر (منزل میں) رہتا ہے (کسی چیز سے دل نہ
لگاؤ اس لئے کہ ایک دن اس کو چھوڑنا ہے، یہاں کی لذتوں سے نفع لینے کی عادت نہ ڈالو، لوگوں سے
گہرا تعلق (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) پیدا نہ کرو، ایک دن ان کو چھوڑنا ہے، ہاں خدا و
رسول کے حکم کے موافق ان کے حقوق ادا کرتے رہو، ابن عمر! تم یہ نہ سمجھنا کہ میں یہاں ہمیشہ رہنے
کے واسطے آیا ہوں، تم ایسے رہو جیسے مسافر کہ وہ کسی سے گہرے تعلق پیدا نہیں کرتا، مسافر کے جیسے
مشاغل ہوتے ہیں ایسے مشاغل رکھو، ہمیشہ رہنے والے کے جیسے مشاغل نہ پیدا کرو، تم مسافر ہو،
آخرت تمہارا اصلی وطن ہے، اصلی وطن میں رہنے کے لئے یہاں سے سامان تیار کر کے چلو، سنو ابن
عمر! مسافر منزل میں ایک دو روز تو بھی قیام کرتا ہے لیکن تم کو یہاں ایک دو روز بھی قیام کرنے کی
امید نہیں) بلکہ تم اپنے کو سمجھو کہ میں مسافر ہوں راستہ چل رہا ہوں (مجھے یہاں دنیا میں ایک دن بھی
رہنے کی امید نہیں ہے، کیا معلوم کب وقت آتا ہے اور کب چلنا پڑتا ہے اگر شام ہو تو صبح کا انتظار
مت کرو (کیا معلوم تم صبح تک زندہ رہتے بھی ہو یا نہیں) اور ایسا ہی جب (جیسا کہ مرقات میں
مذکور ہے۔12) صبح ہو تو شام کا انتظار مت کرو (کیا معلوم کہ تم شام تک زندہ رہتے ہو یا نہیں، ابن
عمر! تم موت کی تیاری میں رہو) جو وقت ملے اس کو غنیمت سمجھو، صحت کے زمانہ میں جہاں تک
ہوسکے اعمال نیک کرتے رہو) جب بیمار ہو جاؤ گے تو تم اعمال نیک کرنا چاہو گے نہیں کر سکو گے) ایسا
ہی زندگی کو غنیمت جانو، جہاں تک ہو سکے اعمال نیک کرتے رہو (موت کے بعد کا زمانہ جزاء ملنے کا
زمانہ ہے، عمل کرنے کا زمانہ نہیں ہے، ہزار تم عمل کرنا چاہو گے مگر عمل نہیں کر سکو گے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (مسلمانو! کب تک غفلت میں رہو گے غفلت دور کرنے کے لئے)
لذتوں کے مٹانے والی کو کثرت سے یاد کیا کرو (کچھ سمجھے کہ لذتوں کو مٹانے والی کون چیز ہے؟ سنو)
وہ موت ہے (موت بھولنے سے غفلت میں پڑے ہوئے ہو، جب موت تمہارے سامنے رہے گی
تو تم سفر آخرت کی تیاری میں لگ جاؤ گے اور اعمال نیک کر کے خدا کے سامنے سرخرو جانے کے لئے
ہمیشہ کوشش کرو گے)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمائے صاحبو! اللہ تعالیٰ سے ایسا شرماؤ
جیسے اس سے شرمانا چاہئے (صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منشاء کو سمجھ گئے کہ حضور یہ
فرمانا چاہتے ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کو حاصل کر کے اس کے احسانات میں رہ کر پھر اس کی نافرمانی کرنا
بڑی بے حیائی اور بے شرمی کی بات ہے اس لئے) صحابہ عرض کئے حضور! اللہ کی نعمتیں اور اس کے
احسانات ہم کو یاد ہیں الحمد للہ ہم اس کی فرمانبرداری کئے جا رہے ہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم فرمائے اللہ تعالیٰ کی بے گنتی نعمتوں کے اور کثرت سے احسانات کے مقابلہ میں تمہاری
فرمانبرداری کچھ بھی نہیں، اس لئے کہتا ہوں) اس طرح کی فرمانبرداری سے جیسا شرمانا چاہئے ویسا
شرمانے کا حق ادا نہیں ہوتا، (جیسے میں کہتا ہوں اس طرح کرو تو کسی قدر شرمانے کا حق ادا ہو جائے
گا، صاحبو! سوچو) تم کو اللہ تعالیٰ نے جو سر دیا ہے اس سے تم کو جو نعمتیں مل رہی ہیں ان نعمتوں کو یاد کرو
اس کا شکر یہ ہے کہ غیر خدا کے آگے سر نہ جھکانا جس نے سر دیا ہے اس کے سامنے سر جھکانا چاہئے،
تکبر اور غرور سے سر نہ اکڑانا اور سر میں برے خیالات اور عقائد باطلہ نہ جمع کرنا سر میں تمہارے زبان
دیا ہے، آنکھیں دی ہیں اور کان دئے ہیں ان میں سے ایک ایک کیا کہوں کیسی نعمت ہے، اگر کسی
میں بیماری سے نقصان آ جائے اس وقت اس نعمت کی قدر ہوتی ہے اس لئے تم ان نعمتوں کو زبان
آنکھ اور کان کو خدا کی نافرمانی میں صرف نہ کرنا جس نے یہ نعمتیں دی ہیں اسی کی اطاعت میں رکھنا
مثلاً کان سے غیبت، جھوٹ اور فحش باتیں نہ سننا اور آنکھ سے نامحرم کی طرف نہ دیکھنا اور زبان سے
جھوٹ غیبت اور بری باتیں نہ کہنا، صاحبو! پھر سوچو) تم کو اللہ تعالیٰ نے جو پیٹ دیا ہے وہ کیسی بڑی
نعمت ہے اس سے تم کو کیا کیا فائدے مل رہے ہیں، اس کا شکر یہ ہے کہ پیٹ کو حرام غذا سے بچاؤ (اور
پیٹ کے متعلقات میں دل ہے اس میں علم دین اور معرفت حق جمع کرو، اور دل کو ماسوا ئے اللہ کی
محبت سے دور رکھو، سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرو اور پیٹ کے متعلقات میں شرمگاہ ہے،
ہاتھ پاؤں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو، ان سب کو اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضامندی
کے کاموں میں لگائے رکھو، خلاصہ یہ ہے کہ جسم کو اور سارے اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان
برداری میں رکھنے سے سمجھا جائے گا کہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسا شرما رہے ہو جیسا کہ شرمانا چاہئے، جسم کو
اور سارے اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں رکھنے کے دو علاج بتاتا ہوں سنو! ایک تو
یہ ہے کہ) ہمیشہ موت کو یاد کرتے رہو اور (موت کے بعد قبر میں جسم کے سڑنے گلنے کو بھی سوچتے رہو
(تو تمہارے دل میں رقت پیدا ہوگی، جس کے سبب سے تم جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی
اطاعت اور فرمان برداری میں رکھو گے، اور دوسرا علاج یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کی زیب و زینت جن
کے پیش نظر رہتی ہے وہ جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری میں نہیں رکھ
سکتے ہیں اس لئے تم خوب سوچو کہ تم کو دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں ہے ایک دن دنیا چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے
سامنے جانا ہے اس لئے) دنیا اور دنیا کی زینت کو چھوڑ دو (دنیا میں زاہدانہ زندگی بسر کرو تو تم جسم کو اور
تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکھ سکو گے تو) سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے جیسا شرمانا
چاہئے ویسا شرما رہے ہیں۔ اس حدیث کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2458 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ“۔ (سورۃ مائدہ، پ:6، ع:8، آیت
نمبر:54) (اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے محبت رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں)
ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے: ”وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ“۔ (سورۃ
بقرہ، پ:2، ع:20، آیت نمبر:165) (مسلمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں) اس
سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں سے محبت کا تعلق ہے اور یہ قاعدہ
ہے کہ دوست دوست کے ساتھ مہربانیاں اور سرفرازیاں کرنا چاہتا ہے بعض موانعات کی وجہ سے
سرفرازی نہیں کر سکتا ہے، جب موانعات اٹھ جاتے ہیں تو دوست کو سرفراز کرنے کا موقع ملتا ہے، ایسا
ہی اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر مسلمانوں سے مہربانی کرنے کا اور ان کو سرفراز کرنے کا دنیا میں رہنے کی
وجہ سے موقع نہیں مل رہا ہے گو دنیا میں بھی ان پر مہربان ہے اور ان کو سرفراز کر رہا ہے مگر آخرت میں
جو مہربانیاں اور سرفرازیاں ہوں گی مسلمان کو دنیا میں رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہیں دے رہا ہے)
مسلمانوں کو دنیا چھوڑ کر خاص مہربانیاں اور سرفرازیاں حاصل کرنے کے لئے آخرت میں جانا
ضروری ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ موت جو مثل ایک تحفہ اور ہدیہ کے ہے اس کو بھیج کر مسلمان کو سرفراز
کرنے کے لئے آخرت میں بلاتے ہیں اس لئے:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے ہیں کہ مسلمان کے لئے موت مثل تحفہ اور ہدیہ کے خوش گوار ہے (کہ اس کے ذریعہ سے اللہ
تعالیٰ کا قرب نصیب ہوگا، طرح طرح کی نعمتیں اور راحت و آرام ملے گا۔)
اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمان (جب اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے تو) مرتے وقت اس کی
پیشانی پر پسینہ آتا ہے (اس لئے کہ خاتمہ بالخیر ہونے کی یہ بھی ایک علامت ہے۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابوداؤد کی روایت میں عبداللہ بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ یکا یک اور اچانک مرجانا اللہ تعالیٰ کے
غضب کی علامت ہے (کس کے لئے؟ کافر کے لئے، اس وجہ سے کہ بیہقی اور رزین دونوں نے
روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ یکا یک مرجانا کافر کے حق میں
غضب الٰہی کی علامت ہے اور مسلمان کے لئے یکا یک مرنا رحمت الٰہی کی علامت ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: "None of you should wish for death..." It is said in Radd al-Muhtar: "It is disliked to wish for death due to harm that has befallen one, as it is prohibited. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me.' This is mentioned in As-Siraj."
Note 1
(۱) قوله : لا يتمنى أحدكم الموت إلخ : قال في رد المحتار»: قال في النهر»: ويكره تمني الموت بضرر نزل به؛ لنهي عن ذلك. فإن كان ولا بد فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي. كذا في «السراج».