Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals · Chapter 2

Chapter on Wishing for Death and Its Remembrance

17 narrations · In source reading order

Hadith 2047

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you should wish for death. 1 If he is a doer of good, perhaps he may increase in good deeds, and if he is a wrongdoer, perhaps he may repent"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٤٧ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا يَتَمَنَّى1 أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2381
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: کوئی شخص (مصیبتوں کی یا بیماریوں کی وجہ سے زندگی سے تنگ آ کر) موت کی آرزو نہ کرے (تجھے کچھ خبر ہے کہ مرنے سے اعمال ختم ہو جاتے ہیں پھر تو کچھ نہیں کر سکتا، زندگی کو غنیمت جان) اگر (تو نیک ہے تو) (تیری) نیکیوں میں اضافہ ہو جائے گا، اگر (تو) برا ہے تو شاید (تیرا) دل پلٹی کھائے اور (تو) توبہ کر کے نیکیاں کرنے لگے (مر جانے سے پھر یہ موقع کہاں ملتا ہے، اس لئے مرنے کی ہرگز آرزو نہ کرے) اگر ایسا ہی تجھ کو آرزو کرنا ہے تو ان الفاظ (یہ دعاء رد المحتار سے لی گئی ہے اور بخاری نے بھی اس کی روایت کی۔12) سے موت کی آرزو کر۔ الٰہی! (میں نہیں جانتا کہ میرے لئے خیر کیا ہے، آپ ہی کو غیب کی سب خبر ہے اگر باوجود جو مصائب اور بیماریوں کے) میرا زندہ رہنا خیر ہے تو مجھے زندہ رکھ! اور اگر مرنا ہی خیر ہے تو مجھے خیر کے ساتھ موت دے۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7235 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5673 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

None of you should wish for death...

(1) His statement: "None of you should wish for death..." It is said in Radd al-Muhtar: "It is disliked to wish for death due to harm that has befallen one, as it is prohibited. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me.' This is mentioned in As-Siraj."

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا يتمنى أحدكم الموت إلخ : قال في رد المحتار»: قال في النهر»: ويكره تمني الموت بضرر نزل به؛ لنهي عن ذلك. فإن كان ولا بد فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي. كذا في «السراج».

Hadith 2048

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you should wish for death or pray for it before it comes to him. When one dies, his deeds come to an end, and the life of a believer only increases him in good"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٤٨ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ أَنَّهُ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2382
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (مسلمانو!) تم میں سے کوئی (پریشانیوں کی وجہ سے گھبرا کر دل سے) موت آنے کی آرزو نہ کرے اور (نہ زبان سے) موت آنے کی دعا کرے (جب موت آنا ہے آ کے رہے گی) موت آنے سے پہلے (موت کی آرزو کرنے کے یا موت آنے کی دعا کرنے کے کیوں بے صبری کا اظہار کرتے ہو، اگر صبر کرتے تو تم کو اس کا ثواب ملتا تم کو کچھ خبر ہے) کہ مرنے سے نیک عمل کرنے کا موقع جاتا رہتا ہے بلکہ عمر (کے بڑھنے) سے مسلمان کے لئے نیکیوں کو بڑھانے کا موقع ملتا ہے مرنے کے بعد تم بہت آرزو کرو گے مگر نیک عمل کرنے کا موقع نہیں ملے گا، زندگی کو غنیمت جانو جہاں تک ہو سکے نیک اعمال کرنے کی کوشش میں رہو، مسلمان کی زندگی بھی ایک نعمت الٰہی ہے، اس وقت اس کے لئے نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، تم موت کی آرزو اور دعا کر کے کیوں اس موقع کو کھونا چاہتے ہو؟ اس لئے موت کی آرزو یا دعا ہرگز نہ کرنا۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2682 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2049

Volume 1

English

Jabbar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not wish for death, for the horror of the grave is severe. Indeed, part of happiness is for a servant to live long and for Allah to grant him repentance"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٤٩ - وَعَنْ جَبَّارٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «لَا تَمَنَّوا الْمَوْتَ؛ فَإِنَّ هَوْلَ الْمَطْلَعِ شَدِيدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ الْإِنَابَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2383
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (مسلمانو! دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے موت کی آرزو نہ کرو (دنیا کی مصیبتیں اور تکلیفیں مرنے کے بعد پیش آنے والی تکلیفوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہیں) موت کے بعد جو پیش آنے والے امور ہیں وہ بہت سخت ہیں (کیا تم ان کو آسان سمجھ گئے ہو؟ مرنے کے بعد کے مصائب کی ابتدا، سکرات سے ہوتی ہے، پھر قبر میں منکر و نکیر کے سوال کے جواب دینا ہے، قبر کے ہولناک امور قیامت کے ہیبت ناک واقعات پےلے بعد دیگرے سب پیش آنے والے ہیں اس لئے موت کی آرزو کرنے یا موت آنے کی دعا کرنے سے کوئی فائدہ نہیں، زندگی کو غنیمت سمجھو، آنے والے امور کی آسانی کے لئے دنیا کی زندگی ہی میں تیاری کرو، جو کچھ کرنا ہے دنیا ہی میں کر لو، مرنے کے بعد کچھ نہ کر سکو گے) بہت خوش نصیب ہے وہ مسلمان جس کی عمر دراز ہو اور اس کو خدا کی طرف رجوع ہونے کی توفیق ہوئی ہو (اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے موت کے بعد آنے والے امور کی آسانی کے لئے تیاری کر لیا ہو۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1608 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 1608

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2050

Volume 1

English

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: We were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ), and he spoke to us in a way that softened our hearts. Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) wept profusely and said, "I wish I were dead." The Prophet (ﷺ) said, "O Sa'd, do you wish for death while I am here?" He repeated this three times, then said, "O Sa'd, if you were created for Paradise, then your long life and good deeds are better for you"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٠ - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرْنَا وَرَقَّقَنَا فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَاصٍ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مُتَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: يَا سَعْدُ، أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا سَعْدُ، إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ وَحَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ فَهُوْ خَيْرٌ لَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2384
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: (ایک روز کا ذکر ہے) کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر تھے، حضور ہم کو وعظ نصیحت فرما رہے تھے، حضور نے ہم کو رقت پیدا ہونے والی باتیں فرمائیں یوں حضور کا وعظ و نصیحت ہمیشہ دل ہلانے والا ہوتا تھا، مگر اس وقت کا وعظ کیا کہوں کیسا تھا، ہمارے دلوں کی عجیب حالت تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آخرت کے سارے احوال اور قیامت کے ہولناک واقعات ہمارے سامنے ہیں، ہر شخص پر ایک رقت کا عالم طاری تھا، حضرت سعد بھی ہمارے ساتھ تھے، اس حالت سے متاثر ہو کر) حضرت سعد خوب رو رہے تھے (بے سدھ ہو کر) کہنے لگے: کاش میں (بچپن ہی میں) مر جاتا (تو گنہگار نہ ہوتا اور عذاب آخرت سے نجات پا جاتا یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: اے سعد! کیا تم میرے سامنے موت کی آرزو کرتے ہو (آخرت کی تمام نعمتوں سے میری صحبت بہترین نعمت ہے، میری صحبت میں رہنا کیا کم ہے کہ پھر تم کیوں میرے سامنے موت کی آرزو کر رہے ہو) تین بار حضور ایسا ہی فرماتے رہے (قطع نظر میری صحبت کے تم کو تو جنت کی خوش خبری دی گئی ہے نا، اگر جنت کی خوش خبری نہ بھی دی جاتی تو تم مسلمان تھے) اگر تمہارے مقدر میں جنت لکھی گئی ہوتی تو تمہاری عمر کا دراز ہونا اور نیکیاں کر کے جنت کے مراتب حاصل کرنا (بچپن میں مر جانے سے) بہت بہتر تھا۔ (پھر اب تم بچپن میں مرنے کی آرزو کر رہے ہو، یہ تمہاری شان کے لائق نہیں ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1608 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 1608

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2051

Volume 1

English

Harithah ibn Mudarrib (may Allah be pleased with him) narrated: I visited Khabbab (may Allah be pleased with him) while he was cauterizing himself seven times. He said, "If I had not heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, 'None of you should wish for death,' I would have wished for it. I remember being with the Messenger of Allah (ﷺ) when I did not possess even a dirham, and now I have forty thousand dirhams in the corner of my house." Then his shroud was brought to him, and when he saw it, he wept and said, "But Hamzah (may Allah be pleased with him) was not given a shroud except for a striped cloak. If it was placed over his head, it would not reach his feet, and if it was placed over his feet, it would not reach his head. So it was placed over his head, and idhkhir (a type of grass) was placed over his feet"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥١ - وَعَنْ حَارَثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ، وَقَدْ اكْتَوَى سَبْعًا، فَقَالَ: لَوْلَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «لَا يَتَمَّنَ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا، وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِي الْآنَ لَأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهِ، فَلَمَّا رَآهُ بَكَى وَقَالَ: لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوْجَدْ لَهُ كَفَنُ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ، إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ، حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ، وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ثُمَّ أُتِي بِكَفَنِهِ إِلَى آخِرِهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2385
حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو مشہور صحابی ہیں وہ بیمار تھے، میں اُن کی عیادت کے لئے ان) کے پاس گیا (کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خباب سخت بیمار ہیں، ان کو علاج کے طور پر ایک دو جگہ نہیں بلکہ) سات جگہ داغ دیا گیا ہے (بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ داغ دے کر علاج نہ کیا جائے، وہ عام طور پر ممانعت نہیں ہے لوگوں کی عادت تھی کہ معمولی ضرورت پر بھی داغ دیا کرتے تھے، اس سے منع کیا گیا، اہم ضرورت ہو تو داغ دینا ممنوع نہیں ہے حضرت خباب جیسے صحابی ممنوع چیز ہرگز استعمال نہ کرتے، ایسی ہی اہم ضرورت تھی اسی وجہ سے حضرت خباب داغ دینے سے اپنا علاج کئے تھے، اہم ضرورت کا اس سے اندازہ کرو کہ وہ کیسی سخت بیماری ہوگی جس کی برداشت نہ کر کے) حضرت خباب فرما رہے ہیں: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موت کی آرزو کرنے سے منع نہ فرماتے تو میں (اس سخت مرض کی برداشت نہ کر کے) موت کی آرزو کرتا (مگر میں حضور کے ارشاد کی تعمیل کر کے کیسا ہی مرض ہو، اس میں موت کی آرزو نہیں کرتا ہوں، یہ بیماری کیا چیز ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی ایسے صحابی کو نہیں جانتا جس نے میرے برابر بلائیں اور مصیبتیں برداشت کی ہوں، ان مصیبتوں کے وقت بھی بے صبری کا اظہار نہیں کیا ہوں اب اس بیماری میں بے صبری کر کے حضور کے ارشاد کے خلاف کر کے موت کی آرزو نہیں کرتا، دیکھو اس وقت) میری یہ حالت تھی کہ ایک درہم بھی میرے پاس نہیں تھا (مگر کبھی میں نے بے صبری کا اظہار نہیں کیا) اور اب میرے گھر کے ایک کونے میں 40 ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں (حارثہ) کہتے ہیں کہ پھر حضرت خباب کا کفن لایا گیا (جو بہت قیمتی تھا) جب (حضرت خباب) اس (کفن) کو دیکھے تو رونے لگے (روتے ہوئے) فرمائے (ایک کفن تو یہ ہے اور ایک کفن تو وہ تھا جو) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو (دیا گیا، گنجائش نہ ہونے سے تین کپڑوں کی بجائے) ایک دھاری دار چادر ہی میں آپ کو کفنایا گیا (کیا کہوں وہ بھی اتنا چھوٹا کفن تھا کہ) سر کو ڈھانکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو ڈھانکتے تو سر کھل جاتا تھا (مجبور ہو کر) اسی کفن سے سر کو ڈھانکے پاؤں جو کھلے ہوئے تھے ان کو اذخر نامی خوشبودار گھاس سے ڈھانکے (اور اسی حالت میں حضرت حمزہ دفن کئے گئے۔ صاحبو! آپ نے دیکھا اس وقت کی زندگی کیسی تکلیف کی زندگی تھی، باوجود اس تکلیف کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو حکم تھا کہ تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو نہ کریں، اس لئے باوجود تکلیف کے کوئی صحابی نہ موت کی آرزو کئے نہ موت آنے کی دعا کئے۔ مسلمانو! تم بھی کسی ہی قسم پر پریشانی آئے حضور کے حکم کی تعمیل کر کے کبھی موت کی آرزو نہ کرنا اور نہ موت آنے کی دعا کرنا، صبر کئے ہوئے صبر کا ثواب حاصل کرتے رہو۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 971 (unverified) 72% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے، اور ترمذی نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔

Hadith 2052

Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None of you should wish for death due to harm that has befallen him. If one must, then let him say: 'O Allah, keep me alive as long as life is better for me, and take my soul when death is better for me'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٢ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا يَتَمَنَّيْنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرَّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2386
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائیں ہیں کہ کوئی شخص (بدنی یا مالی) مصیبت کی وجہ سے (زندگی سے تنگ آ کر) ہرگز موت کی آرزو نہ کرے، اگر تم کو ایسا ہی موت کی آرزو کرنا ہے تو (اپنے الفاظ میں ہرگز نہ کرنا، تم اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف کچھ کہہ دو گے، بہتر یہ ہے کہ حدیث کے) ان الفاظ سے موت کی آرزو کرنا (وہ الفاظ یہ ہیں): الٰہی (میں نہیں جانتا کہ میرے لئے خیر کیا ہے، آپ ہی کو غیب کی سب خبر ہے، اگر باوجود مصائب اور بیماریوں کے) میرا زندہ رہنا خیر ہے تو مجھے زندہ رکھئے اور اگر میرا مرنا ہی خیر ہو تو مجھے خیر کے ساتھ موت دیجئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5671 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2680a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2053

Volume 1

English

Ubadah ibn as-Samit (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him. And whoever dislikes to meet Allah, Allah dislikes to meet him." Aisha (may Allah be pleased with her) or one of his wives said, "We dislike death." He said, "It is not that. Rather, when death approaches a believer, he is given the glad tidings of Allah's pleasure and honor, so there is nothing more beloved to him than what lies ahead. Thus, he loves to meet Allah, and Allah loves to meet him. When death approaches a disbeliever, he is given the news of Allah's punishment and retribution, so there is nothing more hated to him than what lies ahead. He dislikes to meet Allah, and Allah dislikes to meet him" [Agreed upon]. In another narration, Aisha (may Allah be pleased with her) mentioned death before meeting Allah.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٣ - وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ : «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ: إِنَّا لَتَكْرَهُ الْمَوْتَ. قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ، فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللهِ وَعُقُوْبَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٍ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ، كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ وَكَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ . وَفِي رِوَايَةٍ عَائِشَة وَالْمَوْتِ قَبْلَ لقاء الله.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
8/2387-2388۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتے (یہ سن کر) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیں یا رسول اللہ (اللہ تعالیٰ سے ملنے سے مراد اگر موت ہو تو موت کو تو کوئی بھی پسند نہیں کرتا، پھر حضور کا یہ فرمانا کہ بعض موت کو پسند کرتے ہیں اور بعض موت کو نہیں پسند کرتے اس کا کیا مطلب ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: عائشہ! (تم خدا کے ملنے کو اور موت کو ایک ہی سمجھ رہی ہو) ایسا نہیں ہے (انسانی فطرت کے لحاظ سے تو موت کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ سے ملنا اور موت ایک چیز نہیں ہے بلکہ) جب مسلمان کو موت آتی ہے تو (چوں کہ وہ توحید اور رسالت کا قائل ہو کر اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا ہے) اس کے سامنے فرشتے آ کر خوش خبری سناتے ہیں (کہ چلو اللہ سے ملو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہے، تمہارے لئے راحت و آرام اور باغ و بہار تیار کیا ہے) اس وقت مسلمان کے سامنے اللہ تعالیٰ سے ملنے سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی (چوں کہ اس سے راضی ہیں) اس لئے اس سے ملنے کو پسند فرماتے ہیں، (اس کے برخلاف) جب کافر کو موت آتی ہے تو (چوں کہ توحید اور رسالت کا انکار کر کے وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کر رکھا ہے اس لئے) فرشتے اس کے سامنے آ کر کہتے ہیں (کہ تم خدا سے مل کر کیا کرو گے خدا تم سے ناراض ہے) تمہارے لئے طرح طرح کے عذاب اور مصائب تیار کر رکھا ہے، تو اس وقت کافر کے سامنے اللہ تعالیٰ سے ملنے سے بڑھ کر کوئی چیز ناگوار نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ بھی (چونکہ اس پر غضب ناک ہیں) اس لئے وہ اس سے ملنے کو پسند نہیں فرماتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6507 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2683 (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2054

Volume 1

English

Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Shall I inform you of the first thing Allah will say to the believers on the Day of Resurrection and the first thing they will say to Him?" We said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, "Allah will say to the believers: 'Did you love to meet Me?' They will say, 'Yes, O our Lord.' He will say, 'Why?' They will say, 'We hoped for Your forgiveness and mercy.' He will say, 'I have granted you My forgiveness'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٤ - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُوْلُ اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُوْلُوْنَ لَهُ». قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِينَ : هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَانِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، يَا رَبَّنَا. فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُوْلُوْنَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ، فَيَقُوْلُ : قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي». رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ»، وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2389
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک ضروری بات سنانا چاہتے تھے خاص توجہ کے ساتھ اس کو سننے کے لئے بہ طور تمہید ارشاد فرمائے) (مسلمانو!) تم کو کچھ معلوم ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے پہلی بات کیا کریں گے، ایسے ہی اس دن مسلمانوں کی پہلی بات اللہ تعالیٰ سے کیا ہوگی اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں اس کو سناتا ہوں، یہ سن کر صحابہ عرض کئے، حضور ضرور سنائیے (ہم اس کو سننے کے لئے خاص توجہ کے ساتھ تیار ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے سنو! اللہ تعالیٰ کی (پہلی) بات (مسلمانوں سے متوجہ ہوکر) یہ ہوگی کہ کیا تم کو یقین تھا کہ (تم کو آخرت میں ایک دن) آنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے تو مسلمان عرض کریں گے ہاں اے، ہمارے مالک (ہم یقین سے ایسا ہی سمجھے ہوئے تھے) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے (جب تم کو مجھ سے ملنے کا یقین تھا پھر تم گناہ کیسے کئے، مسلمان عرض کریں گے الٰہی! (ہم نادم اور شرمندہ ہیں، ہم کو گناہ نہیں کرنا چاہئے تھا مگر) آپ کا کرم، آپ کا حلم، آپ کا حلم، ہم کو جرأت دلایا (ہم یہ سمجھے ہوئے تھے کہ آپ کی مغفرت، ہمارے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے، آپ کی مغفرت کے سامنے ہمارے گناہ کیا چیز ہیں، ہم بڑی امید آپ سے کئے اس لئے گناہ کرنا تھا کئے) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے: (بندہ جیسے میری نسبت خیال کرتا ہے میں ویسا ہی اس کے ساتھ برتاؤ کرتا ہوں، جب تمہارا میرے ساتھ ایسا خیال تھا تو) میں تمہارے سب گناہوں کو بخش دیا۔ اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے اور ابونعیم نے بھی حلیہ میں اس کی روایت کی ہے۔

Hadith 2055

Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) visited a young man who was on the verge of death and asked, "How do you feel?" The young man said, "I hope in Allah, O Messenger of Allah, but I fear my sins." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "These two feelings do not coexist in the heart of a servant in such a situation except that Allah will grant him what he hopes for and protect him from what he fears"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٥ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ اللهِ عَلَى شَابٌ وَهُمْ فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: أَرْجُو اللهَ يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُونِي. فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطَنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُوْ وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2390
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نوجوان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس کو ملاحظہ فرمائے کہ سکرات کی حالت میں ہے، حضور ان سے دریافت فرمائے: (اس وقت تمہارے دل کی) کیا حالت ہے؟ (تمہارے دل میں اس وقت کیا خیالات آ رہے ہیں) اس نوجوان نے عرض کیا: حضور! گناہوں کی وجہ سے خدائے تعالیٰ سے ڈر رہا ہوں (کہ میرے ساتھ معلوم نہیں کیا برتاؤ کیا جاتا ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کا خیال آتا ہے تو) بڑی امید بھی ہوتی ہے (کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے سامنے میرے گناہ کیا چیز ہیں ضرور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے میرے گناہ معاف فرمائیں گے اور مجھے مرنے کے بعد راحت و آرام نصیب ہوگا، اس وقت اس کشمکش میں میرا دل پھنسا ہوا ہے) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (سنو! اے نوجوان یوں تو ہر وقت مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے اور اس سے امید رکھتے ہوئے رہنا چاہئے خاص کر) ایسے سکرات کے وقت میں (جس شخص کے دل میں اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے خوف ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان رحمت اس کے پیش نظر ہو جس کی وجہ سے وہ بڑی بڑی امیدیں لگایا ہوا ہے، اللہ کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر غالب رہتی ہے، ایسے بندہ کی حالت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آتی ہے) تو وہ بندہ جس چیز سے ڈر رہا ہے اس کو اس سے بچا لیتے ہیں اور جس چیز کی امید لگایا ہوا ہے اس کو عطا فرما کر امن اور راحت میں رکھتے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 983 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 4261 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2056

Volume 1

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say three days before his death, "None of you should die except while having good thoughts about Allah"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٦ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَقُوْلُ: لَا يَمُوْتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2391
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (مجھے خوب یاد ہے) خود میں سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وفات شریف سے تین دن پہلے اس طرح ارشاد فرمائے ہیں تم میں سے ہر ایک کی موت ایسی حالت میں ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھتا ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2877a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمان کے دو بازو ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ بہت آسانی سے طے ہوتا ہے، ایک بازو تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف رہے جس کی وجہ سے وہ گناہوں سے بچتا رہتا ہے اور دوسرا بازو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھے جس کی وجہ سے مسلمان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھتا ہے، حالت صحت اور زندگی میں خوف خدا کو غالب رکھے تاکہ گناہوں سے بچتا رہے اور مرنے کے وقت خوف کی ضرورت نہیں رہی، اس لئے کہ وہ وقت گناہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ موت کے وقت خدا کو رحیم، کریم، ستار، غفار جان کر مغفرت کی امید دل میں لیا ہوا رہے، تاکہ خوش خوش خدا کے پاس جانے کے لئے تیار رہے، مرنے سے جی نہ چرائے، یعنی مرنے کے وقت اگر خوف کی حالت رہی تو خدا کے سامنے ایسا جائے گا جیسے مالک کے سامنے بھاگا ہوا غلام ڈرتا ہوا جاتا ہے اس لئے زندگی میں حتی الامکان نیکیاں کرتے رہے اور مرتے وقت دل میں یہی امید مغفرت کی لیا ہوا رہے گا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسا جائے گا جیسے کوئی غلام مالک کے حکم کی تعمیل کرکے مالک کے سامنے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہوئے خوش خوش جاتا ہے۔

Hadith 2057

Volume 1

English

Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a funeral and said, "Is he relieved or is he a relief for others?" They said, "O Messenger of Allah, what is 'relieved' and 'a relief for others'?" He said, "The believing servant is relieved from the toil and harm of the world to the mercy of Allah, while the wicked servant is a relief for the people, the land, the trees, and the animals"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٧ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ مَرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: مُسْتَرِيحُ أَوْ مُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالُوا : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: «الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيْحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ، وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2392
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے آپ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ اس جنازہ کو دیکھ کر فرمائے یا تو اس کو راحت ہوگئی یا اس سے راحت ہوگئی، صحابہ نے عرض کیا حضور آپ جو ارشاد فرمائے ہیں ہم اس کا مطلب نہیں سمجھے، اس سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے سنو (میں نے جو کہا ’’اس کو راحت ہوگئی اس سے مراد یہ ہے) کہ مسلمان بندہ دنیا میں طرح طرح کی مصیبتیں اٹھاتا رہتا ہے، مرنے کی وجہ سے وہ ان تمام مصیبتوں سے چھوٹ جاتا ہے اور چونکہ وہ نیکیاں کرتا رہا، اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہیں (مرنے سے) وہ رحمت الٰہی میں پہنچ جاتا ہے اور راحت و آرام پاتا ہے، حضور فرمائے (کہ میں نے ’’اس سے راحت ہوگئی‘‘ جو کہا اس کا مطلب یہ ہے) کہ جو ظالم بندہ (کہ جس کے ظلم سے سب تنگ تھے طرح طرح سے لوگوں کو ایذا پہنچ رہی تھی، اس کے مرنے کی وجہ سے سب کو راحت مل جاتی ہے) انسان تو انسان بلکہ شجر، درخت اور جانور اس کے مرنے سے سب کو راحت ہوجاتی ہے (اس لئے کہ اس کے ظلم کی وجہ سے سارے عالم میں فساد پھیل گیا تھا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک تھے اس کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے بارش رک گئی تھی، طرح طرح سے عالم میں خرابیاں ہورہی تھیں، اس کے مرنے کی وجہ سے یہ ساری خرابیاں دور ہوگئیں، بارش کی وجہ سے زمین سرسبز ہوگئی اور زمین پر رہنے والوں کو آرام نصیب ہوگیا اس لئے میں نے اس جنازہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کو آرام مل گیا یا اس سے سب کو آرام مل گیا۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6512 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 950a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2058

Volume 1

English

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) took hold of his shoulders and said, "Be in this world as if you are a stranger or a traveler." Ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say, "When evening comes, do not wait for the morning, and when morning comes, do not wait for the evening. Take from your health for your sickness and from your life for your death"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٨ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَمَنْكَيْ، فَقَالَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ». وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُوْلُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرُ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرُ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2393
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خاص توجہ سننے کے لئے) میرے دونوں مونڈھے پکڑ کر ارشاد فرمائے ابن عمر سنو! (دنیا کو اپنا گھر نہ سمجھنا) تم دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر (منزل میں) رہتا ہے (کسی چیز سے دل نہ لگاؤ اس لئے کہ ایک دن اس کو چھوڑنا ہے، یہاں کی لذتوں سے نفع لینے کی عادت نہ ڈالو، لوگوں سے گہرا تعلق (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) پیدا نہ کرو، ایک دن ان کو چھوڑنا ہے، ہاں خدا و رسول کے حکم کے موافق ان کے حقوق ادا کرتے رہو، ابن عمر! تم یہ نہ سمجھنا کہ میں یہاں ہمیشہ رہنے کے واسطے آیا ہوں، تم ایسے رہو جیسے مسافر کہ وہ کسی سے گہرے تعلق پیدا نہیں کرتا، مسافر کے جیسے مشاغل ہوتے ہیں ایسے مشاغل رکھو، ہمیشہ رہنے والے کے جیسے مشاغل نہ پیدا کرو، تم مسافر ہو، آخرت تمہارا اصلی وطن ہے، اصلی وطن میں رہنے کے لئے یہاں سے سامان تیار کر کے چلو، سنو ابن عمر! مسافر منزل میں ایک دو روز تو بھی قیام کرتا ہے لیکن تم کو یہاں ایک دو روز بھی قیام کرنے کی امید نہیں) بلکہ تم اپنے کو سمجھو کہ میں مسافر ہوں راستہ چل رہا ہوں (مجھے یہاں دنیا میں ایک دن بھی رہنے کی امید نہیں ہے، کیا معلوم کب وقت آتا ہے اور کب چلنا پڑتا ہے اگر شام ہو تو صبح کا انتظار مت کرو (کیا معلوم تم صبح تک زندہ رہتے بھی ہو یا نہیں) اور ایسا ہی جب (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) صبح ہو تو شام کا انتظار مت کرو (کیا معلوم کہ تم شام تک زندہ رہتے ہو یا نہیں، ابن عمر! تم موت کی تیاری میں رہو) جو وقت ملے اس کو غنیمت سمجھو، صحت کے زمانہ میں جہاں تک ہوسکے اعمال نیک کرتے رہو) جب بیمار ہو جاؤ گے تو تم اعمال نیک کرنا چاہو گے نہیں کر سکو گے) ایسا ہی زندگی کو غنیمت جانو، جہاں تک ہو سکے اعمال نیک کرتے رہو (موت کے بعد کا زمانہ جزاء ملنے کا زمانہ ہے، عمل کرنے کا زمانہ نہیں ہے، ہزار تم عمل کرنا چاہو گے مگر عمل نہیں کر سکو گے۔) اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6416 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1604 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 1604

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2059

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Frequently remember the destroyer of pleasures—death"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَاتِ الْمَوْتِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2394
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (مسلمانو! کب تک غفلت میں رہو گے غفلت دور کرنے کے لئے) لذتوں کے مٹانے والی کو کثرت سے یاد کیا کرو (کچھ سمجھے کہ لذتوں کو مٹانے والی کون چیز ہے؟ سنو) وہ موت ہے (موت بھولنے سے غفلت میں پڑے ہوئے ہو، جب موت تمہارے سامنے رہے گی تو تم سفر آخرت کی تیاری میں لگ جاؤ گے اور اعمال نیک کر کے خدا کے سامنے سرخرو جانے کے لئے ہمیشہ کوشش کرو گے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2307 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 4258 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1824 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1607 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 1607

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2060

Volume 1

English

Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said to his companions one day, "Be truly shy of Allah." They said, "We are shy of Allah, O Prophet of Allah, and all praise is due to Allah." He said, "That is not it. Rather, whoever is truly shy of Allah should guard his head and what it contains, guard his stomach and what it carries, and remember death and decay. Whoever desires the Hereafter should abandon the adornments of this world. Whoever does this has truly been shy of Allah"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٦٠ - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: «اسْتَحْيُوا مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ». قَالُوا : إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ. قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ، وَلَكِنْ مَنْ اسْتَحْيِي مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظُ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى إِلَى حِفْظِ الْبَطْنِ وَمَا حَوَى، وَلْيَذْكُرُ الْمَوْتَ وَالْبِلَى، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ اسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2395
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمائے صاحبو! اللہ تعالیٰ سے ایسا شرماؤ جیسے اس سے شرمانا چاہئے (صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منشاء کو سمجھ گئے کہ حضور یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کو حاصل کر کے اس کے احسانات میں رہ کر پھر اس کی نافرمانی کرنا بڑی بے حیائی اور بے شرمی کی بات ہے اس لئے) صحابہ عرض کئے حضور! اللہ کی نعمتیں اور اس کے احسانات ہم کو یاد ہیں الحمد للہ ہم اس کی فرمانبرداری کئے جا رہے ہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے اللہ تعالیٰ کی بے گنتی نعمتوں کے اور کثرت سے احسانات کے مقابلہ میں تمہاری فرمانبرداری کچھ بھی نہیں، اس لئے کہتا ہوں) اس طرح کی فرمانبرداری سے جیسا شرمانا چاہئے ویسا شرمانے کا حق ادا نہیں ہوتا، (جیسے میں کہتا ہوں اس طرح کرو تو کسی قدر شرمانے کا حق ادا ہو جائے گا، صاحبو! سوچو) تم کو اللہ تعالیٰ نے جو سر دیا ہے اس سے تم کو جو نعمتیں مل رہی ہیں ان نعمتوں کو یاد کرو اس کا شکر یہ ہے کہ غیر خدا کے آگے سر نہ جھکانا جس نے سر دیا ہے اس کے سامنے سر جھکانا چاہئے، تکبر اور غرور سے سر نہ اکڑانا اور سر میں برے خیالات اور عقائد باطلہ نہ جمع کرنا سر میں تمہارے زبان دیا ہے، آنکھیں دی ہیں اور کان دئے ہیں ان میں سے ایک ایک کیا کہوں کیسی نعمت ہے، اگر کسی میں بیماری سے نقصان آ جائے اس وقت اس نعمت کی قدر ہوتی ہے اس لئے تم ان نعمتوں کو زبان آنکھ اور کان کو خدا کی نافرمانی میں صرف نہ کرنا جس نے یہ نعمتیں دی ہیں اسی کی اطاعت میں رکھنا مثلاً کان سے غیبت، جھوٹ اور فحش باتیں نہ سننا اور آنکھ سے نامحرم کی طرف نہ دیکھنا اور زبان سے جھوٹ غیبت اور بری باتیں نہ کہنا، صاحبو! پھر سوچو) تم کو اللہ تعالیٰ نے جو پیٹ دیا ہے وہ کیسی بڑی نعمت ہے اس سے تم کو کیا کیا فائدے مل رہے ہیں، اس کا شکر یہ ہے کہ پیٹ کو حرام غذا سے بچاؤ (اور پیٹ کے متعلقات میں دل ہے اس میں علم دین اور معرفت حق جمع کرو، اور دل کو ماسوا ئے اللہ کی محبت سے دور رکھو، سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرو اور پیٹ کے متعلقات میں شرمگاہ ہے، ہاتھ پاؤں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو، ان سب کو اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضامندی کے کاموں میں لگائے رکھو، خلاصہ یہ ہے کہ جسم کو اور سارے اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری میں رکھنے سے سمجھا جائے گا کہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسا شرما رہے ہو جیسا کہ شرمانا چاہئے، جسم کو اور سارے اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں رکھنے کے دو علاج بتاتا ہوں سنو! ایک تو یہ ہے کہ) ہمیشہ موت کو یاد کرتے رہو اور (موت کے بعد قبر میں جسم کے سڑنے گلنے کو بھی سوچتے رہو (تو تمہارے دل میں رقت پیدا ہوگی، جس کے سبب سے تم جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری میں رکھو گے، اور دوسرا علاج یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کی زیب و زینت جن کے پیش نظر رہتی ہے وہ جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری میں نہیں رکھ سکتے ہیں اس لئے تم خوب سوچو کہ تم کو دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں ہے ایک دن دنیا چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے جانا ہے اس لئے) دنیا اور دنیا کی زینت کو چھوڑ دو (دنیا میں زاہدانہ زندگی بسر کرو تو تم جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکھ سکو گے تو) سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے جیسا شرمانا چاہئے ویسا شرما رہے ہیں۔ اس حدیث کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2458 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ“۔ (سورۃ مائدہ، پ:6، ع:8، آیت نمبر:54) (اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے محبت رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں) ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے: ”وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ“۔ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:20، آیت نمبر:165) (مسلمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں سے محبت کا تعلق ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ دوست دوست کے ساتھ مہربانیاں اور سرفرازیاں کرنا چاہتا ہے بعض موانعات کی وجہ سے سرفرازی نہیں کر سکتا ہے، جب موانعات اٹھ جاتے ہیں تو دوست کو سرفراز کرنے کا موقع ملتا ہے، ایسا ہی اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر مسلمانوں سے مہربانی کرنے کا اور ان کو سرفراز کرنے کا دنیا میں رہنے کی وجہ سے موقع نہیں مل رہا ہے گو دنیا میں بھی ان پر مہربان ہے اور ان کو سرفراز کر رہا ہے مگر آخرت میں جو مہربانیاں اور سرفرازیاں ہوں گی مسلمان کو دنیا میں رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہیں دے رہا ہے) مسلمانوں کو دنیا چھوڑ کر خاص مہربانیاں اور سرفرازیاں حاصل کرنے کے لئے آخرت میں جانا ضروری ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ موت جو مثل ایک تحفہ اور ہدیہ کے ہے اس کو بھیج کر مسلمان کو سرفراز کرنے کے لئے آخرت میں بلاتے ہیں اس لئے:

Hadith 2061

Volume 1

English

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "The gift of a believer is death"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٦١ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2396
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمان کے لئے موت مثل تحفہ اور ہدیہ کے خوش گوار ہے (کہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوگا، طرح طرح کی نعمتیں اور راحت و آرام ملے گا۔) اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1609 (unverified) 78% confidence

Mishkat (candidate) 1609

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2062

Volume 1

English

Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "The believer dies with sweat on his forehead"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٦٢ - وَعَنْ بُرَيْدَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : «الْمُؤْمِنُ يَمُوْتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2397
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمان (جب اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے تو) مرتے وقت اس کی پیشانی پر پسینہ آتا ہے (اس لئے کہ خاتمہ بالخیر ہونے کی یہ بھی ایک علامت ہے۔) اس حدیث کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 982 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1828 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1452 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2063

Volume 1

English

Ubaidullah ibn Khalid (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Sudden death is a cause of regret" [Narrated by Abu Dawud]. Al-Bayhaqi added in Shu'ab al-Iman and Razin in his book: "A cause of regret for the disbelievers and a mercy for the believers."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٦٣ - وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ» وَرَزِينُ فِي كِتَابِهِ: «أَخْذَةُ أَسِفٍ لِلْكُفَّارِ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنْ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2398
ابوداؤد کی روایت میں عبداللہ بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ یکا یک اور اچانک مرجانا اللہ تعالیٰ کے غضب کی علامت ہے (کس کے لئے؟ کافر کے لئے، اس وجہ سے کہ بیہقی اور رزین دونوں نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ یکا یک مرجانا کافر کے حق میں غضب الٰہی کی علامت ہے اور مسلمان کے لئے یکا یک مرنا رحمت الٰہی کی علامت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3110 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.