Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2055

Chapter on Wishing for Death and Its Remembrance

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Wishing for Death and Its Remembrance

Zujajat al-Masabih 2055Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) visited a young man who was on the verge of death and asked, "How do you feel?" The young man said, "I hope in Allah, O Messenger of Allah, but I fear my sins." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "These two feelings do not coexist in the heart of a servant in such a situation except that Allah will grant him what he hopes for and protect him from what he fears"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٥٥ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ اللهِ عَلَى شَابٌ وَهُمْ فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: أَرْجُو اللهَ يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُونِي. فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطَنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُوْ وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2390
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نوجوان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس کو ملاحظہ فرمائے کہ سکرات کی حالت میں ہے، حضور ان سے دریافت فرمائے: (اس وقت تمہارے دل کی) کیا حالت ہے؟ (تمہارے دل میں اس وقت کیا خیالات آ رہے ہیں) اس نوجوان نے عرض کیا: حضور! گناہوں کی وجہ سے خدائے تعالیٰ سے ڈر رہا ہوں (کہ میرے ساتھ معلوم نہیں کیا برتاؤ کیا جاتا ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کا خیال آتا ہے تو) بڑی امید بھی ہوتی ہے (کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے سامنے میرے گناہ کیا چیز ہیں ضرور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے میرے گناہ معاف فرمائیں گے اور مجھے مرنے کے بعد راحت و آرام نصیب ہوگا، اس وقت اس کشمکش میں میرا دل پھنسا ہوا ہے) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (سنو! اے نوجوان یوں تو ہر وقت مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے اور اس سے امید رکھتے ہوئے رہنا چاہئے خاص کر) ایسے سکرات کے وقت میں (جس شخص کے دل میں اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے خوف ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان رحمت اس کے پیش نظر ہو جس کی وجہ سے وہ بڑی بڑی امیدیں لگایا ہوا ہے، اللہ کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر غالب رہتی ہے، ایسے بندہ کی حالت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آتی ہے) تو وہ بندہ جس چیز سے ڈر رہا ہے اس کو اس سے بچا لیتے ہیں اور جس چیز کی امید لگایا ہوا ہے اس کو عطا فرما کر امن اور راحت میں رکھتے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 983 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 4261 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.