English
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Shall I inform you of the first thing Allah will say to the believers on the Day of Resurrection and the first thing they will say to Him?" We said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, "Allah will say to the believers: 'Did you love to meet Me?' They will say, 'Yes, O our Lord.' He will say, 'Why?' They will say, 'We hoped for Your forgiveness and mercy.' He will say, 'I have granted you My forgiveness'"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٥٤ - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُوْلُ اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُوْلُوْنَ لَهُ». قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِينَ : هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَانِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، يَا رَبَّنَا. فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُوْلُوْنَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ، فَيَقُوْلُ : قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي». رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ»، وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2389
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک ضروری بات سنانا چاہتے تھے خاص توجہ کے ساتھ اس کو سننے کے لئے بہ طور
تمہید ارشاد فرمائے) (مسلمانو!) تم کو کچھ معلوم ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے پہلی بات
کیا کریں گے، ایسے ہی اس دن مسلمانوں کی پہلی بات اللہ تعالیٰ سے کیا ہوگی اگر تم چاہتے ہو تو میں
تمہیں اس کو سناتا ہوں، یہ سن کر صحابہ عرض کئے، حضور ضرور سنائیے (ہم اس کو سننے کے لئے خاص
توجہ کے ساتھ تیار ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے سنو! اللہ تعالیٰ کی (پہلی) بات
(مسلمانوں سے متوجہ ہوکر) یہ ہوگی کہ کیا تم کو یقین تھا کہ (تم کو آخرت میں ایک دن) آنا ہے اور
اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے تو مسلمان عرض کریں گے ہاں اے، ہمارے مالک (ہم یقین سے ایسا ہی سمجھے
ہوئے تھے) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے (جب تم کو مجھ سے ملنے کا یقین تھا پھر تم گناہ کیسے کئے،
مسلمان عرض کریں گے الٰہی! (ہم نادم اور شرمندہ ہیں، ہم کو گناہ نہیں کرنا چاہئے تھا مگر) آپ کا کرم،
آپ کا حلم، آپ کا حلم، ہم کو جرأت دلایا (ہم یہ سمجھے ہوئے تھے کہ آپ کی مغفرت، ہمارے گناہوں
سے زیادہ وسیع ہے، آپ کی مغفرت کے سامنے ہمارے گناہ کیا چیز ہیں، ہم بڑی امید آپ سے کئے
اس لئے گناہ کرنا تھا کئے) تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے: (بندہ جیسے میری نسبت خیال کرتا ہے میں
ویسا ہی اس کے ساتھ برتاؤ کرتا ہوں، جب تمہارا میرے ساتھ ایسا خیال تھا تو) میں تمہارے سب
گناہوں کو بخش دیا۔ اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے اور ابونعیم نے بھی حلیہ میں
اس کی روایت کی ہے۔