English
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a funeral and said, "Is he relieved or is he a relief for others?" They said, "O Messenger of Allah, what is 'relieved' and 'a relief for others'?" He said, "The believing servant is relieved from the toil and harm of the world to the mercy of Allah, while the wicked servant is a relief for the people, the land, the trees, and the animals"
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٥٧ - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ مَرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: مُسْتَرِيحُ أَوْ مُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالُوا : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: «الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيْحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ، وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2392
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے آپ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ اس
جنازہ کو دیکھ کر فرمائے یا تو اس کو راحت ہوگئی یا اس سے راحت ہوگئی، صحابہ نے عرض کیا حضور آپ
جو ارشاد فرمائے ہیں ہم اس کا مطلب نہیں سمجھے، اس سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم فرمائے سنو (میں نے جو کہا ’’اس کو راحت ہوگئی اس سے مراد یہ ہے) کہ مسلمان بندہ دنیا میں
طرح طرح کی مصیبتیں اٹھاتا رہتا ہے، مرنے کی وجہ سے وہ ان تمام مصیبتوں سے چھوٹ جاتا ہے
اور چونکہ وہ نیکیاں کرتا رہا، اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہیں (مرنے سے) وہ رحمت الٰہی میں پہنچ
جاتا ہے اور راحت و آرام پاتا ہے، حضور فرمائے (کہ میں نے ’’اس سے راحت ہوگئی‘‘ جو کہا اس کا
مطلب یہ ہے) کہ جو ظالم بندہ (کہ جس کے ظلم سے سب تنگ تھے طرح طرح سے لوگوں کو ایذا
پہنچ رہی تھی، اس کے مرنے کی وجہ سے سب کو راحت مل جاتی ہے) انسان تو انسان بلکہ شجر،
درخت اور جانور اس کے مرنے سے سب کو راحت ہوجاتی ہے (اس لئے کہ اس کے ظلم کی وجہ سے
سارے عالم میں فساد پھیل گیا تھا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک تھے اس کے ظلم اور گناہوں کی وجہ
سے بارش رک گئی تھی، طرح طرح سے عالم میں خرابیاں ہورہی تھیں، اس کے مرنے کی وجہ سے یہ
ساری خرابیاں دور ہوگئیں، بارش کی وجہ سے زمین سرسبز ہوگئی اور زمین پر رہنے والوں کو آرام نصیب
ہوگیا اس لئے میں نے اس جنازہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کو آرام مل گیا یا اس سے سب کو آرام مل گیا۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6512 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 950a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.