Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals · Chapter 3

(جس شخص پر موت کے آثار و علامات ظاہر ہوگئے ہیں اور یقین ہوگیا ہو کہ یہ شخص

18 narrations · In source reading order

Hadith 2064

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2399
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس شخص کی موت قریب آگئی ہے (اور سکرات شروع ہوگئی ہو تو) اس کے سامنے آواز سے کلمۂ توحید ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ (اس طرح) پڑھے (کہ مرنے والا اس کو سنے اور کلمۂ توحید اسے یاد آجائے اور وہ زبان یا دل سے کلمۂ توحید پڑھے اور کلمۂ توحید پر ہی اس کا خاتمہ ہوجائے۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Almighty says: "If you could but see when the wrongdoers are in the overwhelming pangs of death while the angels extend their hands, [saying], 'Discharge your souls! Today you will be awarded the punishment of [extreme] humiliation for what you used to say against Allah other than the truth and [that] you were, toward His verses, being arrogant.'" (Qur'an 6:93)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 916a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 917 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1616 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 1616

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Prompt your dying ones to say: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ...

(1) His statement: "Prompt your dying ones to say: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ..." It is said in Ad-Durr al-Mukhtar: "It is recommended to prompt them, and some say it is obligatory, with the testimony of faith (Shahadah), because the first part is not accepted without the second. This should be done before the death rattle, without being commanded, so as not to cause distress. If they say it once, it suffices, and it should not be repeated unless they speak, so that their last words are: 'La ilaha illallah.' It is also recommended to recite Surah Ya-Sin and Surah Ar-Ra'd. Prompting should not be done after shrouding, but if done, it is not prohibited. In Al-Jawharah, it is mentioned that this is a practice of the Sunnis, and it suffices to say: 'O so-and-so, son of so-and-so, remember what you were upon, and say: I am pleased with Allah as my Lord, with Islam as my religion, and with Muhammad (ﷺ) as my Prophet.' It was said: 'O Messenger of Allah, what if his name is not known?' He said: 'Refer him to Adam and Eve.' Those who are not questioned (e.g., martyrs) should not be prompted." In Radd al-Muhtar, it is elaborated that the majority hold the view that the dead can hear, and it is mentioned in Sharh al-Munyah that the majority interpret the hadith metaphorically. However, it is not prohibited to prompt after burial because there is no harm in it; rather, it is beneficial, as the deceased finds comfort in the remembrance, as mentioned in various narrations. It is also mentioned that eight categories of people are not questioned: the martyr, the one guarding the frontier, the one who dies of plague, the one who dies during a plague while being patient and hopeful, the truthful believer, children, the one who dies on Friday or its night, and the one who regularly recites Surah Al-Mulk. Some also include those who recite Surah As-Sajdah and Surah Al-Ikhlas during their illness. The commentator also added that the Prophets (peace be upon them) are included, as they are more deserving than the truthful believers.

Note 1

قوله

(۱) قوله : لقنوا موتاكم إلخ : قال في الدر المختار»: ويلقن ندبًا، وقيل: وجوبا بذكر الشهادتين؛ لأن الأولى لا تقبل بدون الثانية عنده قبل الغرغرة من غير أمره بها؛ لئلا يضجر، وإذا قالها مرَّةً كفاه، ولا يكرر عليه ما لم يتكلم؛ ليكون آخر كلامه: «لا إله إلا الله». ويندب قراءة «يس» و «الرعد». ولا يُلقن بعد تلحيده، وإن فعل لا ينهى عنه. وفي «الجوهرة»: أنه مشروع عند أهل السنة، ويكفي قوله: يا فلان يا ابن فلان اذكر ما كنت عليه، وقل: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد ﷺ نبيًّا». قيل: يا رسول الله ! فإن لم يعرف اسمه قال: ينسب إلى آدم وحواء، ومن لا يُسأل ينبغي أن لا يلقن انتهى. وقال في رد المحتار: وقد أطال في «الفتح» في تأييد حمل موتاكم في الحديث على حقيقته مع التوفيق بين الأدلة، على أن الميت يسمع أو لا، لكن قال في شرح المنية»: إن الجمهور على أن المراد منه مجازه، ثم قال: وإنما لا ينهى عن التلقين بعد الدفن؛ لأنه لا ضرر فيه، بل فيه نفع؛ فإن الميت يستأنس بالذكر على ما ورد في الآثار إلخ. ثم ذكر أن من لا يُسأل ثمانية: الشهيد والمرابط والمطعون والميت زمن الطاعون بغيره إذا كان صابرا محتسبا والصديق والأطفال والميت يوم الجمعة أو ليلتها والقارئ كل ليلة تبارك الملك، وبعضهم ضم إليها السجدة، والقارئ في مرض موته قل هو الله أحد. وأشار الشارح إلى أنه يزاد الأنبياء عليهم السلام؛ لأنهم أولى من الصديقين.

Note 1

ف: درمختار میں مذکور ہے کہ اس طرح تلقین کرنا مستحب ہے اور بعضوں نے اس کو واجب بھی قرار دیا ہے، مرنے والے کو کلمۂ توحید پڑھنے کا حکم نہ کرے کہ وہ سکرات کی تکلیف کی وجہ سے کہیں انکار نہ کردے، اگر مرنے والا ایک دفعہ کلمۂ توحید پڑھ لے تو دوبارہ اس کو کلمۂ توحید پڑھنے پر اصرار نہ کرے ہاں اگر وہ کلمۂ توحید پڑھنے کے بعد دنیا کی کوئی بات کیا ہو تو اس کے سامنے پھر کلمۂ توحید پڑھتے تاکہ وہ اس کو سن کر خود بھی کلمۂ توحید پڑھ لے اور اس کا آخر کلام ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ ہوا یہاں ہی دفن کے بعد بھی قبر کے پاس بیٹھ کر کلمۂ توحید ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“، آواز سے پڑھنا اہل السنّت والجماعت کے پاس جائز ہے جیسا کہ جوہرہ میں مذکور ہے، اس لئے کہ مردہ اس کو سنتا ہے اور اس کو فرشتوں کے سوال و جواب دینے میں سہولت ہوتی ہے، قبر کے پاس بیٹھ کر تلقین ان الفاظ سے کی جائے: ”يَا فُلَانُ يَا ابْنَ فُلَانٍ اُذْكُرْ مَا كُنْتَ عَلَيْهِ وَقُلْ رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا وَّ بِالْإِسْلَامِ دِينًا وَّبِسَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا“۔ یعنی مردہ کا نام اور اس کے باپ کا نام لے کر یہ کہے کہ دنیا میں جیسے تو توحید اور رسالت کا اقرار کیا کرتا تھا، اب بھی فرشتوں کے سامنے توحید و رسالت کا اقرار کر (ڈرنا نہیں، کچھ غمزدہ نہیں ہونا اسی طرح کہنا کہ میں دل سے راضی ہوں کہ اللہ میرا رب ہے اور دین میرا اسلام ہے اور رسول میرے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ تلقین کرنے والے سے جب مردہ یہ سنتا ہے اور یہی فرشتوں کو جواب دینا چاہتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اس کے بھائی نے اس کو سکھا دیا ہے، اب اس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، ایسا درمختار میں مذکور ہے اور امام سیوطی نے اپنے رسالہ میں ایسی ہی تصریح کی ہے اور جوہرہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ قبر میں جن سے سوال نہیں ہوتا ہے ان کو تلقین نہیں کرنا چاہئے اور شرح سنیہ میں لکھا ہے کہ جن سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ آٹھ لوگ ہیں: (1) ایک اللہ کی راہ میں کافروں کے مقابلہ میں لڑکر شہید ہونے والا۔ (2) دوسرا وہ شخص ہے جو سرحد اسلام پر سرحد کی حفاظت کر رہا ہے اور وہ اپنی موت سے مر گیا تو اس سے بھی قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے (3) تیسرا شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ ہے جو طاعون میں مبتلا ہوکر مرے (4) چوتھا وہ شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے وہ ہے جو طاعون کے زمانہ میں کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہوکر مرے بشرطیکہ وہ اس پر صابر اور طالب ثواب رہا ہو (5) پانچویں وہ لوگ جن سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ صدیق ہیں جو انبیاء کرام کی امت میں سب سے زیادہ درجہ کے ہوتے ہیں، جن میں کمال باطنی بھی ہوتا ہے اور جن کو عرف میں اولیاء کہا جاتا ہے (6) چھٹے نابالغ بچے ہیں جن سے قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے (7) ساتویں وہ لوگ ہیں جو جمعہ کے دن یا شب جمعہ مرے ہوں، ان سے قبر میں سوال نہیں ہوتا (8) آٹھواں وہ شخص جس سے قبر میں سوال نہیں ہوتا وہ ہے جو ہر رات میں سونے سے پہلے سورۃ ا لملک (سورۃ تبارک الذی) پڑھ کر سوتا ہو اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو اپنے مرض الموت میں سورہ ”قل ہو اللہ احد“ پڑھا ہو، اس سے بھی قبر میں سوال نہیں ہوتا ہے۔ 12

Hadith 2065

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2400
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ موت کے وقت جس کا آخری کلام ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3116 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1621 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1621

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“، جس کا آخری کلام ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مراد ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ سے پورا کلمہ طیبہ یعنی لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے جزو کہہ کر کل مراد لیتے ہیں، مثلاً کوئی کہے کہ ”قل ہواللہ“ پڑھنے کا یہ ثواب ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پورا سورہ ”قل ہواللہ“ پڑھنے پر یہ ثواب ملتا ہے ایسا ہی ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ پڑھنے کا جو حکم ہو رہا ہے، جزو کہا گیا ہے مراد پورا کلمہ پڑھنا ہے یعنی جس کا آخری کلام ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور اس حدیث شریف میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مرنے والے کے سامنے ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ آواز سے پڑھ کر تلقین کی جائے تاکہ مرنے والا بھی زبان سے یا دل میں ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ پڑھے اور اس کلمۂ طیبہ پر اس کا خاتمہ ہو اور وہ جنت میں داخل ہو جائے۔12

Hadith 2066

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2401
عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس شخص کی موت قریب آ گئی ہو (یعنی سکرات شروع ہو گئی ہو تو) اس کو ذیل کے الفاظ کی تلقین کرو (تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذیل کے صفات سنے اور اس کے ذہن میں وہ صفات موجود ہوں اور اسی پر اس کا خاتمہ ہو جائے اور اس کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن پیدا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہوئے دنیا سے چل بسے، وہ الفاظ یہ ہیں): تم (اب ایسی مبارک ذات کے سامنے جا رہے ہو) جو ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں (تم جو اس کی عبادت کئے ہو وہ عبادت کو قبول کر کے سرفراز فرمائے گا) وہ بڑے حلم والے ہیں (زندگی میں تم جو کوئی قصور کئے ہو تو اس نے تم کو اپنے حلم کی وجہ سے سزا نہیں دی، اب مرنے کے بعد بھی ایسا ہی حلم کی وجہ سے وہ تمہارے گناہوں کو درگذر فرمائے گا) اور وہ کریم بھی ہے (بے مانگے عطا فرماتا ہے، زندگی میں تم کو بڑی بڑی نعمتیں دیا تھا، ایسا ہی مرنے کے بعد بھی اخروی نعمت عطا فرمائے گا۔) ”سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ“۔ (کیا کہوں وہ کیسی عظمت والا ہے) اس کی جو عظمت تمہارے ذہن میں آئے، اس سے وہ پاک ہے اور اس سے زیادہ عظمت والا ہے، عرش عظیم کا وہ مالک ہے (جس کی یہ شان ہو، اس کے سامنے تمہارے گناہ کیا چیز ہیں، تم ڈرو مت اس کی رحمت کی امید کئے ہوئے، اس کے سامنے جاؤ وہ تم پر تمہاری امید سے زیادہ رحمت نازل کرے گا، جب تم اس کو اپنے اوپر اس طرح فضل و کرم کرتا ہوا دیکھو گے تو بے اختیار تمہارے منہ سے نکلے گا۔) ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ“۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ (اے اللہ ایک مجھ پر ہی کیا آپ کا فضل و کرم ہو رہا ہے) آپ رب العالمین ہیں (سارے عالم پر آپ کا فضل و کرم ہے، ایسے فضل و کرم والے سے ایسی ہی فضل و کرم کی امید لئے ہوئے آیا ہوں۔) یہ سن کر صحابہ عرض کئے کہ حضور یہ دعاء اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی امیدوار بناتی ہے، زندوں کو بھی تو اللہ کے فضل و کرم کی ضرورت ہے اگر ہم یہ دعاء زندوں کو سکھائیں تو کیسا ہے حضور فرمائے بہت بہتر ہے! بہت بہتر ہے (زندوں کو بھی تو زندگی میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہئے ضرور یہ دعاء زندوں کو بھی سکھائیے۔) اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1446 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2067

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2402
مَعْقِل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس شخص کی موت قریب آ گئی ہو (اور اس کو سکرات شروع ہو گئی ہوں) تو (اس کے نزدیک بیٹھ کر) اس کے سامنے سورۂ یٰسین پڑھا کرو۔ (اس سے مرنے والے پر سکرات آسان ہوتی ہے، دوسری حدیث سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3121 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1448 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1622 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 1622

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2068

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2403
محمد بن المنکدر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا کہ وہ سکرات کی حالت میں تھے میں نے ان سے عرض کیا کہ حضرت آپ اب دنیا سے جا رہے ہیں (اور عالم برزخ میں سب سے پہلا کام آپ کا یہ ہوگا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرف ملاقات حاصل کریں گے، تو میرا سلام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچا دیجئے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1449 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1626 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1626

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Convey my greetings...

(1) His statement: "Convey my greetings..." Ash-Sharnbulali said: "This is to convey greetings to the Prophet (ﷺ) on behalf of the one who commanded it." This is mentioned in Radd al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله : اقرأ الخ: قال الشرنبلالي: هكذا على تبليغ السلام إلى حضرة النبي الله عن الذي أمره به. قاله في رد المحتار».

Note 1

ف: محبان رسول کے لئے یہ حدیث شریف بڑی تسلی دلاتی ہے، اگر ابھی وقت نہیں آیا ہو کہ تم حضور کی خدمت اقدس میں پہنچ سکو تو کیا ہوا تمہارا سلام تو مرنے والے کے ذریعہ سے بھی دربار نبوت میں پہنچ جاتا ہے، اس لئے کہ تم اپنے اس سلام کو جس مرنے والے کو پہنچانے کے لئے کہتے ہیں، اس پر تمہارے سلام کو حضور کی خدمت میں پہونچانا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ردالمحتار میں شرنبلالی کے حوالے سے کہا ہے۔12

Hadith 2069

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2404
عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اپنے والد حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت کعب کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور آئیں اور کہیں کعب! (اب تم دوسرے عالم میں جا رہے ہو، تم جانتے ہو کہ میرے فرزند بشر کا انتقال (مرقات میں ابن ابی الدنیا کے حوالے سے ایسا لکھا ہے۔12) ہو چکا ہے، مجھے ان کی جدائی کا بڑا صدمہ ہے اپنی تسلی کے لئے کہتی ہوں کہ) اگر بشر سے تمہاری ملاقات ہو جائے تو ان کو میرا سلام پہونچائیے، کعب فرمائے ام بشر تم کیا کہہ رہی ہو، معلوم نہیں وہاں کیا پیش آتا ہے، ہم اپنی حالت میں پریشان رہیں گے (لوگوں کو سلام پہونچانے کا کیسا موقع آئے گا) ام بشر کہنے لگیں کعب تم یہ کیا کہہ رہے ہو (مسلمان کو وہاں پریشانی نہیں ہے بلکہ امن چین ہے) تم بھی سنے ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا فرمائے ہیں؟ حضور کا ارشاد ہے: جس کا مفہوم ہے کہ (جیسے سمجھو! آج کل کی دنیا میں ہوائی جہاز میں لوگ بیٹھتے ہوئے سیر کرتے ہیں ایسے ہی) مسلمانوں کے روحیں سبز پرندوں کے خول میں بیٹھے ہوئے جنت کے درختوں میں میوہ خوری کرتے پھریں گے حضرت کعب فرمائے ہاں میں نے بھی حضور کو ایسا ہی فرماتے سنا ہے پھر ام بشر فرمائیں کہ آپ بھی جنت میں ایسے ہی سیر کرتے پھریں گے (وہاں پریشانی کا کیا ذکر ہے بلکہ وہاں آپس میں ملاقات ہوتی رہے گی، اس لئے کہتی ہوں کہ تم میرے فرزند بشر کو میرا سلام پہونچا دیجئے۔) اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت ’كِتَابُ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ‘ میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1449 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2070

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2405
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ (جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے) کے مرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روتے ہوئے ان کا بوسہ لئے اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس قدر رو رہے تھے کہ آپ کے) آنسو حضرت عثمان بن مظعون کے چہرہ پر بہہ رہے تھے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 989 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3163 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1456 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Kissed...

(1) His statement: "Kissed..." In Al-Mujtaba, it is mentioned: "There is no harm in kissing the deceased." This is stated in Bahr ar-Ra'iq, and similarly in Umdat al-Qari.

Note 1

قوله

(۱) قوله : قبل: وفي المجتبى ولا بأس بتقبيل الميت. قاله في بحر الرائق، وكذا في عمدة القاري».

Note 1

ف: البحر الرائق میں مجتبی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ میت کو بوسہ دینا جائز ہے، اور عمدۃ القاری میں بھی ایسا ہی مذکور ہے اور مرقات میں لکھا ہے کہ مردہ پر بغیر آواز کے آنسوؤں سے رونا جائز ہے۔12

Hadith 2071

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2406
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو محبت تھی وہ سب کو معلوم ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد (جو صدمہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہوا ہوگا وہ حضرت صدیق کا ہی دل جانتا ہے، مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قلبِ مبارک میں برداشت کی جو قوت تھی وہ اوروں کے قلب میں ایسی نہیں تھی، اس لئے حضرت ابوبکر صدیق خود بھی برداشت کر رہے تھے اور بڑے بڑے صحابہ کرام کو تسلی بھی دے رہے تھے، اپنی تسلی کے لئے فرطِ محبت سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک پر (کئی مرتبہ) بوسہ دئے (اور بار بار کہتے تھے وا خَلِيْلَاهُ! واصَفِيَّاهُ! وَانَبِيَّاهُ! میرے دلی دوست آپ کے بعد مجھے کیسی تسلی آئے گی، ہجر حضور کی یاد کے کوئی چیز سے تسلی نہیں ہوگی، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا غم حضرت ابوبکر صدیق کی وفات کا سبب بنا۔) اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 990 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1457 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2072

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2407
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں جب تم کسی بیمار کے پاس (عیادت کے لئے) جاؤ (گو مریض کیسی ہی مایوس کن حالت میں ہو مگر تم تو) اس کے لئے دعاء خیر کرو (اور اس کی شفاء کے لئے دعا کرو، فرشتے اس وقت حاضر رہتے ہیں اور تم جو کچھ کہو گے اس پر آمین کہتے ہیں، مریض کے لئے اچھی دعاء کرو تا کہ تمہاری دعاء فرشتوں کے آمین کہنے سے قبول ہو جائے۔) اور اس کو شفاء ہو جائے ایسا ہی اگر تم کسی ایسے شخص کے پاس جاؤ کہ جس کی موت قریب آ گئی ہے اور وہ سکرات میں مبتلا ہے تو اس کے لئے بھی دعائے خیر کرو (اور اس کی شفاء کی بھی دعاء کرو اور اس کے سامنے مایوسی کے الفاظ نہ کہو) فرشتے اس وقت حاضر رہتے ہیں، تم جو دعا کرو گے اسی پر وہ آمین کہیں گے (ایسا ہی جب کوئی شخص مر جائے اور تم اس کے رشتہ کو پرسہ دینے کے لئے جاؤ تو مرنے والا گو کیسا ہی برا ہو، اس وقت اس کی برائیاں ظاہر مت کرو، مرنے والے کے لئے مغفرت کی دعا کرو۔ فرشتے اس وقت حاضر رہتے ہیں تم جو کچھ کہو گے اس پر آمین کہتے ہیں، تمہاری مغفرت کی دعا سے شاید اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور اس کی مغفرت ہو جائے۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 919 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2073

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2408
امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسلمہ کے انتقال کے بعد ابوسلمہ کے گھر تشریف لائے اور ملاحظہ فرمائے کہ ابوسلمہ کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو آپ نے ان کی آنکھیں بند کیں اور فرمائے (جب روح نکالنے کے لئے فرشتے آتے ہیں تو مرنے والا یہ سماں دیکھتا رہتا ہے اور) روح نکل جانے سے بینائی بھی اس کے ساتھ چل جاتی ہے (اور اس میں آنکھ بند کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی، اس لئے آنکھ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں، اس لئے حضور ابوسلمہ کی آنکھیں بند کر دئے، اس سے معلوم ہوا کہ مردے کی آنکھیں بند کر دیا کریں) حضور کے یہ الفاظ سن کر گھر والے سمجھے کہ ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا ہے، اس لئے رونا اور چیخنا شروع کئے (جب غم زیادہ ہوتا ہے تو اپنے کو کوسنے لگتے ہیں اور ابوسلمہ کے گھر میں بھی یہی ہو رہا تھا اس لئے) حضور فرمائے (چیخنا، چلّانا بے صبری کی علامت ہے ایسا نہ کرنا چاہئے اور اپنے کو کوس لینا بھی نہیں چاہئے اس لئے کہ تم) اس وقت فرشتے موجود رہتے ہیں اور جو کچھ تم کہتے ہیں اسی پر آمین کہتے رہتے ہیں (جب تم اپنے کو کوسنے لگو گے تو فرشتوں کے آمین کہنے سے وہ بد دعا تمہارے حق میں بھی قبول ہو جائے گی اس لئے کوسنے سے بچو۔) پھر اس کے بعد حضور ابوسلمہ کے لئے اس طرح دعا الٰہی! ابوسلمہ کی مغفرت فرمائیے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سب سے زیادہ ان کا درجہ بڑھائیے، الٰہی! باقی ماندہ لوگوں کو سنبھالنے والا چلا گیا، آپ ابوسلمہ کے خلیفہ ہو کر سب کو سنبھالئے اور، ہماری بھی مغفرت فرما، اور ان کی بھی مغفرت فرمائیے، اے تمام عالم کے پروردگار! اور ان کی قبر کو کشادہ کر دے اور ان کی قبر میں نور بھر دے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 920a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2074

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2409
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اگر کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ”اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“ (ہم تو اللہ ہی کے ہیں، ہم ہمارا مال اور ہمارے اہل و عیال سب اللہ ہی کے ملک ہیں، وہ ہم کو جس حال میں رکھے اس کو اختیار ہے، اور وہ جو تصرف چاہے کرسکتے ہیں، یہ تصرف ایسا ہی ہے جیسے مالک کو اپنے ملک میں تصرف کرنے کا حق ہوتا ہے، اگر کوئی نقصان پہنچے تو ہم کو اس نقصان کی وجہ سے نہ کسی شکایت کا حق ہے اور نہ رنج کرنے کا اور پھر پہلے اور بعد کا فرق ہے وہ چیز پہلے گئی ہے اور ہم کو بھی ایسے ہی اس کے بعد اللہ ہی کی طرف جانا ہے، اس لئے کوئی رنج کا موقع نہیں) یہ مذکورہ آیت پڑھ کر اس طرح کرے: الٰہی! (مجھ پر ناقابل برداشت مصیبت آئی ہے میں اس مصیبت پر آپ کے لئے صبر کرتا ہوں) مجھے اس مصیبت پر صبر کرنے کا اجر و ثواب دیجئے اور جو چیز مجھ سے جدا ہوگئی ہے مجھے اس کا نعم البدل عطا فرمائیے۔ (اس سے بہتر نعمت عطا کیجئے) تو اللہ تعالیٰ مصیبت پر اس کو ثواب دیتے ہیں اور جو چیز جدا ہوگئی ہے اس کا نعم البدل بھی ضرور عطا فرماتے ہیں (ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ یہ حدیث مجھے یاد تھی اور) جب (میرے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا (کیا کہوں اس وقت مجھ پر کیسی مصیبت ٹوٹ پڑی ایسے وقت مجھے یہ حدیث مذکور یاد آگئی، میں چاہتی تھی کہ اس حدیث میں جو دعاء مذکور ہے وہ دعاء کروں لیکن میرے دل میں پھر خیال آیا کہ ابوسلمہ بہترین مسلمان تھے ان کا کوئی نظیر نہیں) سب سے پہلے یہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے اب ان کا نعم البدل مجھے کون ملے گا پھر خدائے تعالیٰ مجھے اس مذکورہ دعاء کرنے کے ارادہ پر عزم عطا فرمایا، اور میں مذکور الصدر دعاء کی (کہ الٰہی) میں آپ کے نبی کے حکم کی تعمیل کرتی ہوں میرے شوہر کے انتقال کرنے سے مجھ پر جو مصیبت آئی ہے مجھے اس کا ثواب دیجئے اور میرے شوہر کا نعم البدل عطا فرمائیے) تو میں انتظار کررہی تھی میرے شوہر کا نعم البدل مجھے کون ملے گا نہ شان نہ گمان کہ) اللہ تعالیٰ نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا نعم البدل (مجھے اس طرح) عطا فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیام بھیجا اور مجھ سے نکاح کرلیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 918a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2075

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2410
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جسم مطہر پر ایک یمنی دھاری دار چادر اڑھادی گئی تھی۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1241 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 942 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2076

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2411
حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے ان کی عیادت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا مجھے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ طلحہ کا انتقال ہو جائے گا جب ان کا انتقال ہو جائے تو تم (ان کے انتقال کی) مجھے خبر دینا (میں ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوں گا) اور ان کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا کیونکہ مسلمان کی نعش کو گھر والوں کے سامنے زیادہ دیر تک نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3159 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2077

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2412
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کسی کی موت کا وقت آ گیا ہو (اور سکرات شروع ہوگئی ہو) تو اس کے پاس فرشتے آ جاتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ مرنے والا مسلمان ہے اور اس کی زندگی اکثر نیکیاں کرتے ہوئے گزری ہے تو اس سے فرشتے کہتے ہیں: اے پاک روح! (توحید رسالت کے قائل ہونے سے اور نیکیاں کرنے کی وجہ سے تیرا جسم بھی پاک تھا) اپنے پاک جسم سے باہر نکل آ، (دنیا میں بھی تو نیک نام رہی اور فرشتوں میں بھی تیری تعریف ہو رہی ہے) تجھے خوش خبری دی جاتی ہے کہ (تو نے دنیا میں جو پاک زندگی بسر کی ہے، اس کی وجہ سے عالم برزخ میں راحت و آرام کا سامان مہیا ہے، جنت میں جو تجھے ملے گا، اس کو کچھ نہ پوچھو طرح طرح کی نعمتیں اور) گل و ریحان تیرے لئے تیار ہیں (سب نعمتوں سے بڑھ کر یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی اور خوش ہیں اور تجھ سے ناراض نہیں ہیں، (جب تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گی اور اللہ تعالیٰ کو اپنے سے راضی اور خوش دیکھے گی تو اس نعمت کے مقابلہ میں ساری نعمتوں کو بھول جائے گی) مرنے والے کی روح کو اس طرح کی خوش خبریاں سنائی جاتی رہتی ہیں اور روح (یہ خوش خبریاں سن سن کر بہت خوش اور فرحان) جسم کو چھوڑ باہر نکل آتی ہے، پھر فرشتے اس نیک روح کو لے کر آسمان دنیا کی طرف چڑھتے ہیں، پھر آسمان دنیا کا دروازہ کھلایا جاتا ہے تو آسمان کے دربان پوچھتے ہیں کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ روح لے جانے والے فرشتے کہتے ہیں کہ فلاں نیک شخص کی روح ہمارے ساتھ ہے (دربان اس کو پہچان لیتے ہیں اور) خوش آمدید کہتے ہیں (اور آسمان اول کا دروازہ کھول دیتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں) مرحبا مرحبا! اے پاک روح (جب تک) تو پاک جسم میں تھی (اللہ تعالیٰ کی مطیع اور فرمانبردار رہی اسی کے صلہ میں تیری یہ عزت ہو رہی ہے) اور یہاں فرشتوں میں تیری تعریف ہو رہی ہے، آ تجھے خوش خبری دی جاتی ہے کہ طرح طرح کی نعمتیں اور گل و ریحان تیرے لئے تیار ہیں (اور سب نعمتوں سے بڑھ کر یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی اور خوش ہیں اور تجھ سے ناراض نہیں ہیں، ہر آسمان میں اس روح کی اسی طرح آؤ بھگت ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے خاص تجلیات اترتے رہتے ہیں اور جب کوئی برا آدمی (جو نہ توحید کا قائل تھا اور نہ رسالت کا، جب اس کو سکرات شروع ہو جاتی ہے تو فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں) اور اس مرنے والے سے یہ کہتے ہیں کہ (کفر اور شرک کے عقائد کی وجہ سے) تیری روح نجس تھی اور (کفر و شرک کے اعمال کرنے کی وجہ سے) جسم بھی نجس تھا تو اے نجس روح نجس جسم سے باہر نکل آ دیکھا تجھے (فرشتوں میں) کیسا برا سمجھا جا رہا ہے اور تیرے لئے گرم کھولتا پانی اور پیپ و لہو قسم قسم کے عذاب تیار ہیں، اسی طرح سے عذاب کی خبریں جسم سے نکلنے تک یہ خبیث روح کو سنائی جاتی ہیں، خبیث روح اپنے جسم سے نکلنا تو نہیں چاہتی ہے، زبردستی فرشتے اس کو جسم سے نکال کر لے ہوئے آسمان کی طرف جاتے ہیں اور آسمان کے دروازے پر پہنچ کر آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں، دربان پوچھتے ہیں کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ کس کو تم اندر لانا چاہتے ہو تو روح لے جانے والے فرشتے اس بری روح کا نام اور پتہ بتاتے ہیں تو دربان کہتے ہیں کہ ایسی نجس اور خبیث روح کا آسمانوں میں کیا کام ہے؟ (کفر و شرک کی وجہ سے یہ بدنام ہے، سب فرشتوں میں اس پر لعنت کی جا رہی ہے) ایسی نجس اور خبیث روح کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا تو پھر اس کو آسمان پر سے پھینک دیا جاتا ہے اور وہ اپنی قبر کی طرف آ جاتی ہے، (اور قبر کا عذاب بھگتتی رہتی ہے۔) اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 4262 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2078

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2413
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب مسلمان کی روح اس کے جسم سے نکلتی ہے تو دو فرشتے اس روح کو لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں (اور کئی فرشتے بھی اس روح کے ساتھ رہتے ہیں) اس حدیث کی راوی جو حضرت حماد ہیں وہ اپنی روایت میں ذکر کئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمان کی روح میں خوشبو رہتی ہے، اور مشک کی طرح سے وہ مہکتی رہتی ہے، اس روح کو لے جانے والے فرشتے جب اس کو آسمانوں میں لے جاتے ہیں تو ہر آسمان کے فرشتے کہتے ہیں کہ زمین سے آئی ہوئی اس پاک روح میں ماشاء اللہ کیا خوشبو ہے، اے روح تجھ پر اور تیرے اس جسم پر کہ جس میں تو تھی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں! (دنیا میں تو نے خدا کی اطاعت کرتے ہوئے کیسی اچھی زندگی بسر کی ہے) پھر اس کے بعد فرشتے اس روح کو اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں (تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر رحمتیں نازل ہوتی ہیں) پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ اس پاک روح کو برزخ کی مدت پوری ہونے تک عِلِّیِّیْن میں رکھو (تا کہ وہاں راحت وآرام پاتی رہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کافر کی روح اس کے جسم سے نکلتی ہے، حضرت حماد جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ اپنی روایت میں ذکر کئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کافر کی روح میں (کفر وشرک کی وجہ سے) بدبو رہتی ہے (اور اس پر لعنت برستی رہتی ہے، اس روح کو لے جانے والے فرشتے جب اس کو آسمان دنیا کے دروازے تک لے جاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں کہ زمین سے آئی ہوئی اس خبیث روح میں (کفر وشرک کی وجہ سے) نعوذ باللہ کیا بدبو ہے (اللہ تعالیٰ اس روح پر ایسے غضبناک رہیں گے کہ خود کچھ ارشاد نہیں فرمائیں گے، فرشتوں کے ذریعہ سے کہا جائے گا اس خبیث روح کو برزخ کی مدت پوری ہونے تک سِجِّین میں رکھو (تا کہ وہاں قبر کے عذاب میں مبتلا رہے) (راوی کہتے ہیں) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کافر کی روح کی بدبو کا ذکر فرمائے (تو آپ پر کشف ہوگیا اور کافر کے روح کی بدبو آپ کو آنے لگی اس لئے) آپ اپنی مبارک ناک پر کپڑا رکھ لئے اور حضرت ابو ہریرہ بھی اسی طرح اپنی ناک پر کپڑا رکھ کر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناک پر کپڑا رکھنے کو۔) بتلائے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2872 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2079

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2414
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کسی مسلمان کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے (اور سکرات شروع ہوجاتی ہے تو اس وقت مسلمان کی جو عزت ہوتی ہے وہ سننے کے قابل ہے، جسم تو دنیوی کفن میں لپٹا ہوا قبر میں رہتا ہے اور روح کے لئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس طرح کہ) رحمت کے فرشتے سفید ریشمی لباس لئے ہوئے آ کر مرنے والے کے پاس بیٹھتے ہیں اور بڑے ادب سے کہتے ہیں: (اے پاک روح! دنیا میں چند روز اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتی رہی، آج اس کا تجھے صلہ مل رہا ہے) اللہ سے تو راضی اور تجھ سے اللہ راضی! تیرے لئے رحمت کے سامان مہیا ہیں، طرح طرح کی نعمتیں اور گل و ریحان تیار ہیں، دنیا کے مصیبت کدہ کو چھوڑ کر ان نعمتوں کی طرف چلی آ (دیکھ تیرے لئے کیا کیا آؤ بھگت کے جارہے ہیں اور سب سے بڑی نعمت تو تیرے لئے یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی اور خوش ہیں، ناراض نہیں ہیں (یہ خوش خبری سن کر) جب روح جسم سے نکلتی ہے تو مشک کی طرح عجیب خوشبو اس کی روح سے نکل کر پھیلتی ہے، فرشتے (بڑی تعظیم کے ساتھ) ہاتھوں ہاتھ مسلمان کی روح کو لئے ہوئے یکے بعد دیگرے آسمانوں کے دروازوں تک پہنچتے ہیں (آسمانوں پر اس کی جو عزت ہوتی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔) ہر آسمان کے فرشتے (اس کی روح کی خوشبو کو دیکھ کر بڑے تعجب سے) کہتے ہیں ماشاء اللہ کیا خوشبودار روح ہے! جو، زمین کی طرف سے آئی ہے، پھر (اللہ تعالیٰ کے حکم سے علیّین میں، جہاں مسلمانوں کی روحیں جمع ہیں اس نئی آئی ہوئی روح کو لے جاتے ہیں جیسے تم لوگوں سے ایک زمانہ کا بچھڑا ہوا شخص واپس آ کر ملتا ہے تو تم اس کی ملاقات سے کس قدر خوش اور شاداں ہوتے ہو، ویسے ہی (علیین میں جہاں مسلمان روحیں تھیں) یہ نئی روح آ کر ملنے سے وہ سب ایسے ہی بے حد خوش ہوتے ہیں اور اس آئی ہوئی روح کو پہلے کی روحیں گھیر لیتی ہیں، اور دنیا میں جن جن کو وہ چھوڑ کر گئے ہیں، ان سب کے احوال پوچھتے ہیں، ان ہی میں کی بعض روحیں کہتی ہیں (اچھی نئی روح دنیا چھوڑ کر) سکرات کی تکلیف اٹھا کر ابھی آئی ہے، اس کو آرام لینے دو، پہلے کی روحیں پھر اس نئی آئی ہوئی روح سے پوچھتی ہیں، اچھا یہ تو بتاؤ کہ فلاں شخص کو ہم چھوڑ آئے تھے وہ کیسا ہے، یہ روح کہتی ہے وہ تو میرے سے پہلے ہی مر گیا ہے کیا وہ نہیں آیا تو وہ روحیں کہتی ہیں افسوس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (بری روحوں کو رکھنے کا جو مقام ہے جیسے دوزخ کو ہاویہ کہتے ہیں ایسے ہی برزخ میں بری روحوں کے رکھنے کی جگہ کو بھی ہاویہ کہتے ہیں) برزخ کے اس ہاویہ میں اس کو پہونچا دیا گیا ہے، اس لئے وہ ہمارے پاس نہیں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کافر کی موت آ جاتی ہے (اور سکرات شروع ہوتی ہے تو اس کی اہانت اور ذلت کا سامان اس طرح مہیا کیا جاتا ہے کہ) عذاب کے فرشتے ٹاٹ لئے ہوئے پہونچتے ہیں تا کہ اس کی روح کو ٹاٹ میں لپیٹ کر لے جائیں، پھر فرشتے کافر کی روح سے اس طرح کہتے ہیں (تو نے دنیا میں کفر و شرک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر رکھا تھا تو تیرے لئے عالم برزخ میں عذاب مہیا کیا گیا ہے اور تجھے عذاب کی طرف آنا ناگوار ہوگا) کچھ بھی ہو تجھے عذاب کی طرف آنا ہی پڑے گا، آ دیکھ اللہ تعالیٰ تجھ پر کس قدر غضب ناک ہیں (یہ سن کر) کافر کی روح چار و ناچار جسم سے نکلتی ہے اور اس وقت کافر کی روح میں مردار کی بدبو سے زیادہ بدبو ہوتی ہے (پھر اس روح کو فرشتے آسمان دنیا کے دروازہ تک لے جاتے ہیں، اس کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھلتا ہے اس لئے) زمین پر واپس لاتے ہیں (اس کی بدبو سے) فرشتے (تنگ آ کر) کہتے ہیں (اس بدنصیب روح میں نعوذ باللہ) کس قدر بدبو ہے، پھر اس کو سجّین کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں کافروں کی ارواح جمع ہیں (اور سجّین میں اس کو رکھتے ہیں جہاں وہ برزخ کے عذاب میں مبتلا رہتی ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1833 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2080

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2415Noor 2416
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ کے ساتھ گئے اور قبر تک پہونچے، ابھی قبر کھد کر تیار نہیں ہوئی تھی (قبر تیار ہونے کا انتظار تھا) اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہو گئے اور ہم بھی آپ کے اطراف (انتہائی ادب اور سکون سے) بیٹھ گئے (کیا کہوں اس وقت صحابہ کی کیا حالت تھی، رعب و ہیبت سب پر چھائی ہوئی تھی، سب کے سب سر جھکائے ہوئے تھے، کوئی ادھر ادھر نہیں دیکھ رہا تھا، ایسے بے حس و حرکت تھے) معلوم ہو رہا تھا کہ سب کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں (پرندے کی عادت ہے کہ وہ متحرک چیز پر نہیں بیٹھتا ہے، صحابہ بھی ایسے ہی بے حس و حرکت بیٹھے ہوئے تھے، صحابہ کرام کی تو یہ حالت تھی، اور حضور کی حالت مبارک کیا کہوں؟ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ انتہا درجہ کی فکر میں ہیں، جیسے متفکر شخص زمین کریدتا ہے ایسے ہی) حضور کے دست مبارک میں بھی ایک لکڑی تھی، اور آپ اس لکڑی سے زمین کرید رہے تھے، پھر سر مبارک کو اٹھا نے (اور صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر) دو یا تین بار فرمایا اے صاحبو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو (یہ قبر کسی کے لئے جنت کی کیاری ہے تو کسی کے لئے دوزخ کا گڑھا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: جب مسلمان دنیا سے جا رہا ہو، اور آخرت اس کے سامنے ہو گئی ہو تو (اس کی شان اور عزت ظاہر کرنے کے لئے) آسمان سے ایسے فرشتے آتے ہیں جن کے چہرے نورانی ہوتے ہیں، اور جو آفتاب کی طرح چمکتے رہتے ہیں اور ان فرشتوں کے ساتھ جنت کا ریشمی کفن ہوتا ہے اور وہ جنت کی خوشبودار چیزیں بھی لاتے ہیں (تاکہ اس کو خوشبو میں بسائیں) پھر یہ فرشتے (کمال ادب سے) کسی قدر فاصلہ سے اس کے قریب بیٹھ جاتے ہیں (اور اس کی روح کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں) پھر ملک الموت اس مرنے والے کے سرہانے آ کر بیٹھتے ہیں، اور (بہت نرمی سے اس مرنے والے کی روح سے) کہتے ہیں، اے پاک روح (دنیا میں تو اللہ کی فرماں بردار رہی) اب نکل آ (دیکھ اس کا صلہ تجھے یہ ملتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہیں (اور طرح طرح کی نعمتیں تیرے لئے تیار ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے تیری مغفرت فرما دی ہے (جب سکرات شروع ہوئی تھی تو اس وقت سکرات کی تکلیف اور شدت رہی تاکہ روح پاک وصاف ہو جائے پھر ملک الموت سے یہ خوش خبری سن کر) روح خوش خوش جسم سے ایسے جدا نکلتی ہے جیسے مشکیزہ سے پانی کا قطرہ آسانی سے نکلتا ہے، جسم سے نکلی ہوئی یہ روح ملک الموت کے ہاتھ میں بہت دیر تک نہیں رہتی ہے، آسمان سے آئے ہوئے فرشتے (جو اس روح کے اشتیاق میں تھے) پلک جھپکنے تک اس روح کو لے کر (نہایت ادب سے) جنت کا کفن پہناتے ہیں اور جنت کی خوشبو لگاتے ہیں، پھر اس روح سے ایسی خوشبو مہکتی ہے کہ زمین پر تو ایسی خوشبو کبھی نہیں پائی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ارشاد فرمائے کہ پھر فرشتے اس روح کو لئے ہوئے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں راستے میں فرشتوں کی جس جماعت پر سے اس روح کو لے کر یہ فرشتے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے پوچھتے ہیں کہ یہ کس شخص کی پاک روح ہے تو ساتھ والے فرشتے (بڑی تعظیم سے) جواب دیتے ہیں اور جس نام اور جس صفت سے دنیا میں یہ تعظیم سے پکارا جاتا تھا اس نام اور اس صفت کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہیں پھر (اسی تعظیم کے ساتھ) روح کو لے جانے والے فرشتے اس روح کو لئے ہوئے آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں اور اس روح کے لئے آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں تو آسمان دنیا کے دروازے کے دربان اس دنیا سے آئی ہوئی روح اور اس کے ساتھ والے فرشتوں کے لئے دروازہ کھول دیتے ہیں (اسی عزت کے ساتھ) اس کو ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچاتے ہیں، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ساتھ جلو میں چلتے ہیں (تاکہ اس کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا رہے) اسی طرح سارے آسمانوں سے گزرتے ہوئے اس روح کو ساتویں آسمان تک پہنچاتے ہیں (ساتویں آسمان میں اللہ تعالیٰ کی خاص تجلیات ہوتی رہتی ہیں، ان تجلیات سے) ارشاد ہوتا ہے اس (فرماں بردار مسلمان) کی روح کو علّیین میں لے جاؤ، علّیین میں اس کا نامہ اعمال رکھو اور اس روح کا اصلی مقام علّیین کو بناؤ اور اس روح کا تعلق قبر سے اور اس کے جسم سے (ایسا) رکھو (جیسے آفتاب آسمانوں میں ہے اور اس کا تعلق زمین سے اس طرح ہے کہ زمین پر روشنی اور گرمی پہنچاتا ہے، یا یوں سمجھئے کہ سونے والے کی روح جسم میں ہے اور ہر جگہ سیر کر آتی ہے، ایسے ہی مسلمان کی روح رہتی تو علّیین میں ہے مگر اس کا تعلق قبر سے اور جسم سے ایسا ہوتا ہے کہ قبر آنے والے کو یہ روح پہچان لیتی ہے، قبر سے اور جسم سے ایسا تعلق اس لئے رکھو) کہ میں انسان کو خاک سے پیدا کیا ہوں اور انسان کے جسم کو اگرچہ خاک میں ملا دیا ہوں پھر خاک ہی سے قیامت کے دن اس کو اٹھاؤں گا (کیوں کہ جب میں انسان کو خاک سے پیدا کر کے اس کی روح کا تعلق خاک سے رکھ کر اس کو چلتا پھرتا انسان بنایا تھا اور جیسا کہ قیامت میں اس کی روح کا خاکی جسم سے تعلق رکھ کر اس کو میدان قیامت میں لا کھڑا کروں گا، ایسا ہی قبر میں بھی) اس کے خاکی جسم کے ساتھ روح کا تعلق رکھو (تاکہ قبر پر آنے والوں کو پہچان سکے اور منکر و نکیر جب آئیں تو ان کو جواب دے سکے) جب اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل ہو جائے گی اور خاکی جسم سے روح کا تعلق ہو جائے گا تو منکر و نکیر دو فرشتے اس کو آ کر بٹھائیں گے اور اس سے دریافت کریں گے ”مَنْ رَبُّكَ؟“ اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا میرا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوائے میرا کوئی رب نہیں ہے، پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے کہ تمہارا دین کیا ہے؟ (تم کس دین پر رہے ہو تو) یہ کہے گا کہ اللہ کا دین یعنی اسلام میرا دین تھا اور میں اسلام پر رہا تھا پھر اس کی قبر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف تک ایک راستہ ہو جائے گا پھر اس سے منکر ونکیر دریافت کریں گے اچھا کہو یہ صاحب کون ہیں، کیا یہ وہی ہیں جو تمہارے پاس پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے؟ (تو اس شخص پر نور ایمان سے واضح ہو جائے گا اور) وہ کہے گا (روحی فداہ! میری جان آپ پر سے قربان) یہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، یہی میرے رسول اور نبی ہیں، پھر منکر ونکیر اس سے دریافت کریں گے کیسے تم کو معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اور نبی ہیں؟ تو مسلمان مردہ جواب دے گا، آفتاب آمد، دلیل آفتاب، آفتاب کے ہونے پر خود آفتاب دلیل ہے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نبی اور رسول ہونا آفتاب کی طرح بالکل واضح اور ظاہر ہے اور رسول اور نبیوں کے نبی ہونے پر جو پاکیزہ اوصاف دلیل تھے وہ سب پاکیزہ اوصاف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پائے گئے، اس عقلی دلیل سے مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول اور نبی ہیں اور پیغمبروں کو معجزات دئے گئے، کسی کو دو اور کسی کو چار، حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام جیسے جلیل القدر نبی کو نو معجزات دئے گئے تھے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساڑھے چار ہزار معجزے دئے گئے تھے، اس سے بھی ثابت ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول اور نبی ہیں یہ دوسری عقلی دلیل ہے، ایسا ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول اور نبی ہونے پر نقلی دلیل بھی ہے) ہم مسلمانوں کو قرآن دیا گیا (اور بہت تاکید سے فرمایا گیا کہ اگر کسی سے ہو سکے تو اس کی چھوٹی سورۃ کے جیسا بنا کر لاؤ، باوجود عرب فصیح اور بلیغ ہونے کے قرآن کے چھوٹے سورہ کے جیسا سورۃ بنانے سے عاجز ہو گئے، کوئی نہ بنا سکا) اس سے میں سمجھا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے) کسی بشر کا کلام نہیں اور قرآن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول اور نبی کہا گیا ہے، اس نقلی دلیل سے) میں سمجھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقیناً نبی اور رسول ہیں پھر (جب مسلمان مردہ یہ کہہ چکے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اس طرح قدر افزائی کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس طرح ندا کی جائے گی کہ میرا بندہ سچ کہا اس کا صلہ اس کو دیا جائے (کہ عالم برزخ میں جہاں اس کا مقام ہے) وہاں جنت کا اس کے لئے فرش بچھایا جائے اور اس کو جنت کا لباس پہنایا جائے کہ وہ جنت میں جانے سے پہلے جنت کی نعمتوں کا لطف اٹھاتا رہے اور جنت کی طرف سے اس کے لئے ایک دروازہ کھولا جائے (تاکہ وہ جنت میں اپنے مقام کو دیکھ کر بیحد مسرور رہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمائے ہیں، کہ جنت کی طرف سے دروازہ کھلنے سے جنت کی ہوا اور جنت کی خوشبو اس کو آتی رہے گی، جس سے یہ بے حد محظوظ ہوتا رہے گا، تنگی مقام بھی ایک قسم کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے) مسلمان مردے کے لئے (جب ہر طرح کا قبر میں آرام اور راحت جمع کر دی گئی ہے تو جہاں تک) اس کی نگاہ پہنچتی ہے، قبر میں (وہاں تک) اس کا مقام وسیع کر دیا جاتا ہے (تاکہ وسعت مقام کی وجہ سے وہ راحت حاصل کرتا رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان مردہ پھر کیا دیکھتا ہے کہ اس کے پاس ایک شخص آ رہا ہے، کیا کہوں اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، ایسا حسین کہ کہیں دیکھنے میں نہیں آیا اور اس کا لباس بھی نہایت پاکیزہ اور صاف و ستھرا رہے گا اور اس سے نہایت خوشبو مہک رہی ہوگی، ایسا شخص آ کر مسلمان مردہ سے کہے گا، تم کو خوش خبری دیتا ہوں کہ تمہارے لئے ہر قسم کی راحت اور نعمت تیار ہے جس سے تم نہایت مسرور ہوں گے، کچھ تم کو خبر بھی ہے، یہ وہی دن ہے جس کی تم کو دنیا میں خبر دی گئی تھی، مسلمان مردہ اس آنے والے خوبصورت شخص سے پوچھے گا، صاحب! تم کون ہو؟ کیا چہرہ ہے تمہارا! جس سے بے حد مسرت حاصل ہو رہی ہے تم کو دیکھنے ہی سے طرح طرح کے خیر و برکات حاصل ہو رہے ہیں، وہ خوبصورت شخص جواب دے گا (تم مجھے نہیں پہچانتے؟) میں تمہارا نیک عمل ہوں (اس صورت میں متمثل ہو کر آیا ہوں تاکہ تم کو خوش خبری دوں) مسلمان مردہ جب سنے کہ یہ خود اس کے ہی نیک عمل ہیں (تو اس کو ایک امید بندھے گی اور اس کو یاد آ جائے گا کہ نیک اعمال سے جنت ملتی ہے، میرے نیک اعمال جب ایسے ہیں تو اب مجھے امید ہو رہی ہے جنت ملنے کی، اس لئے) دعا کرے گا، الہی! جلدی قیامت قائم کیجئے تاکہ مجھے میرے نیک اعمال کا بدلہ جنت ملے اور مجھے میرے اہل یعنی حور و غلمان ملیں اور مال یعنی جنت کے راحت و آرام کا سامان ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کافر کے لئے دنیا چھوڑنے کا اور آخرت کی طرف چلنے کا وقت آتا ہے (اور سکرات شروع ہو جاتی ہے) تو اس کے پاس آسمان سے (عذاب کے) فرشتے آتے ہیں، ان کے سیاہ چہروں سے ہیبت اور خوف طاری ہوتا ہے اور یہ اپنے ساتھ ٹاٹ لیتے ہوئے آتے ہیں (اس مرنے والے کافر پر اللہ تعالیٰ بہت غضبناک رہتے ہیں، اس لئے فرشتوں کو اس سے نفرت رہتی ہے اور) اسی لئے آ کر وہ دور بیٹھے رہتے ہیں (اور اس کی روح نکلنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں) پھر ملک الموت آ جاتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتے ہیں (کہ تو کفر و شرک کر کے دنیا میں کیا بری زندگی کیا، اس کے اثر سے تیری روح خبیث ہوگئی ہے اب) اپنے جسم سے نکل (اے خبیث روح) دیکھ کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر کس قدر غضبناک ہیں، اس بری خبر کے سننے سے روح کو جسم سے نکلنا بہت ناگوار ہوتا ہے، وہ جسم سے نکلنا نہیں چاہتی ہے اور جسم میں چھپتی پھرتی ہے تو) ملک الموت اس روح کو جسم سے بہت سختی کے ساتھ اس طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جیسے کانٹے دار چیز کو تر کپڑے سے نکالا جائے تو کپڑا تار تار ہو جاتا ہے (ایسے ہی روح کو سختی کے ساتھ نکالنے کی وجہ سے جسم کو ناقابل برداشت تکلیف ہوتی ہے) جو فرشتے روح نکلنے کے منتظر تھے وہ ملک الموت کے ہاتھ میں اس روح کو ایک پلک مارنے کے برابر (تھوڑی دیر) بھی نہیں رہنے دیتے ہیں، فوراً ملک الموت کے ہاتھ سے لے کر (ذلت و اہانت ظاہر کرنے کے لئے) ٹاٹ میں لپیٹتے ہیں، اس وقت اس روح سے ایسی بدبو پھیلتی ہے جیسے سڑے ہوئے مردار سے بدبو نکل کر دماغ کو پریشان کر دیتی ہے روئے زمین پر ایسی بدبو کسی میں نہیں ہوگی، جیسی بدبو اس روح میں ہوتی ہے اس بدبودار روح کو لئے ہوئے فرشتے آسمان پر چڑھتے ہیں، زمین و آسمان کے بیچ میں جہاں جہاں فرشتوں کی جماعت ملتی ہے، اس خبیث روح کی بدبو سے متاثر ہو کر یہ کہتے ہیں کہ یہ کس خبیث کی روح ہے؟ تو ساتھ والے فرشتے اس کافر کا نام بہت بری صفت کے ساتھ اس طرح لیتے ہیں جیسے دنیا میں کسی برے آدمی کا ذکر لوگ بری صفت سے کرتے ہیں، اور فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے (کہ جس نے اپنی ساری عمر کفر و شرک میں گزاری ہے) اس ذلت اور اہانت کے ساتھ) یہ روح ہر مقام سے گزرتی ہوئی آسمان دنیا تک پہنچائی جاتی ہے آسمان دنیا کا دروازہ کھلایا جاتا ہے مگر آسمان کے دروازے کے دربان دروازہ نہیں کھولتے ہیں (یہ اس روح کی انتہائی ذلت اور اہانت کا سبب ہوتا ہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرما کر اس کی تائید میں الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ“۔ (سورہ اعراف، پ:8، ع:5، آیت نمبر:40) کفار کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، کفار کا جنت میں جانا ایسے ہی محال (ناممکن) ہے جیسے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا (نہ تو اونٹ سوئی کے ناکے میں گزر سکتا ہے اور نہ کفار جنت میں داخل ہو سکتے ہیں۔) پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اس خبیث کا نامہ اعمال سجین میں رکھو اور سجین ہی کو اس خبیث روح کا مقام بناؤ جو زمین کے سب سے نچلے طبقہ میں ہے (تاکہ وہ وہاں طرح طرح کے عذاب بھٹکتی رہے) اس حکم کی تعمیل میں آسمان کے دروازے کے پاس سے اس کافر کی روح کو (نہایت ذلت کے ساتھ زمین کی طرف) پھینک دیا جائے گا (اور عین میں اس کا اصلی مقام بنا کر اس کافر کی روح کا تعلق قبر سے یا اس کے جسم کے کسی حصہ سے جہاں کہیں ہو، کر دیا جائے گا، تا کہ منکر و نکیر اس سے سوال کر سکیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرما کر اس کی تائید میں یہ آیت تلاوت فرمائے: فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ“. (سورہ حج، پ:17، ع:4، آیت نمبر:31) اور دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے اور دوسری روایت میں اس طرح زیادہ ہے کہ جب مسلمان کی روح (اس کے جسم سے) نکلتی ہے تو آسمان اور زمین کے درمیان میں جو ملائکہ ہیں وہ سب اس مسلمان مردہ کے لئے رحمت نازل ہونے کی دعاء کرتے ہیں اور (جیسے جیسے مسلمان کی روح آسمانوں کی طرف چڑھتی جاتی ہے آسمانوں کے دروازے (اس کی شان و شوکت دکھانے کے لئے جلدی جلدی) کھلتے جاتے ہیں (اور مسلمان کی روح تمام آسمانوں سے گزر جاتی ہے) (اس مسلمان کی روح کو فرشتے ایسی متبرک سمجھتے ہیں کہ) ہر آسمان کے دروازوں کے فرشتے دعاء کرتے ہیں کہ اس متبرک روح کو ہمارے دروازہ سے گزار دیئے (تاکہ ہم اس روح سے برکت حاصل کریں) اور کافر مردہ کی روح کو (عالم ملکوت سے کچھ تعلق ہی نہیں تھا، دنیا ہی میں رات دن پھنسی ہوئی تھی تو اس کو دنیا چھوڑنا بڑا دشوار ہوگا، اس لئے روح تو جسم میں رہنا چاہے گی اور فرشتے اس کو کھینچا جائیں گے اس کشاکشی میں) فرشتے (اس سختی کے ساتھ اس روح کو کھینچیں گے کہ جسم کی رگیں تار تار ہو جائیں گی (یہ بھی اس کافر کی روح کے لئے ایک عذاب بنے گا) جب اس سختی سے روح نکالی جاتی ہے تو زمین اور آسمان کے درمیان میں جو فرشتے ہیں وہ سب اس کافر کی روح پر لعنت بھیجتے ہیں اور آسمان دنیا کے ہر دروازہ کے فرشتے لعنت بھیجتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ الٰہی! اس خبیث روح کو ہمارے پاس سے نہ گزاریئے (تا کہ اس کی خباثت ہم پر اثر نہ کرے، فرشتوں کی دعا قبول ہوتی ہے اور) اس کے لئے آسمان دنیا کے تمام دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4753 (unverified) 99% confidence · Validation similarity: 0.535
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1630 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 1630

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

'Abd

(1) His statement: "'Abd" refers to 'Abd ibn Humaid, the first to write a Tafsir. This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: عبد: أراد بقوله: «عبد» عبد بن حميد، أول من كتب في التفسير. كذا في «المرقاة».

Note 1

شرک بہت بری بلا ہے، آسمان کا دروازہ مشرک کے لئے نہ کھلنا کیا کم ذلت ہے، پھر زمین کی طرف پھینک دیا جانا، اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوگی، راستہ میں فرشتوں سے طرح طرح کی اذیت اٹھاتے ہوئے سجین میں جا گرنا اور وہاں طرح طرح کی ایذاء اٹھاتے رہنا یہ انتہائی ذلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی، اس کافر کی روح کا تعلق اس کے جسد سے یا جسم کے کسی حصہ سے کر دیا جائے گا، پھر منکر و نکیر اس کے پاس موجود ہوں گے اور بٹھا کر سوال کریں گے، بتا تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کافر (حیران ہو گا کہ کیا جواب دوں، جب تک میں دنیا میں رہا، مسلمان جس ذات مبارک کو رب مانتے تھے، میں ان کو جھٹلاتا رہا اب میں کس کو رب کہوں، یہاں بھی اسی طرح کہتا ہوں) میں نہیں جانتا کہ رب کون ہے! پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے اچھا یہ بتا کہ تیرا دین کیا تھا (تو یہ کافر مردہ سمجھے گا میرا دین تو کفر و شرک سے بھرا ہوا تھا اگر میں اپنے دین کا نام لوں تو اپنے آپ کو اپنی زبان سے مجرم ٹھہرانا پڑے گا اس لئے) کافر مردہ کہے گا مجھے نہیں معلوم کہ میرا دین کیا تھا، پھر منکر و نکیر دریافت کریں گے کہ تو دنیا میں سنا ہو گا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول ہو کر آئے تھے ان کی نسبت تیرا کیا خیال تھا (تو کافر مردہ خیال کرے گا کہ عالم برزخ میں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بول بالا ہے اگر میں ان کی رسالت کا انکار کروں تو اپنے منہ سے آپ ملزم ٹھہرتا ہوں اس لئے) کہے گا میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھے؟ یہ جواب ختم ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پکارے گا کہ اس خبیث کافر کو دنیا میں سب کچھ معلوم تھا، جھٹلاتا ہی رہا، اب بھی باوجود معلوم ہونے کے جھوٹ کہہ رہا ہے، اس جھوٹ کے لئے آگ کا بچھونا بچھا دو (تا کہ اس کو ایک آن بھی آرام نہ ملے) اور دوزخ کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو، (تا کہ وہ دوزخ میں اپنا مقام دیکھتا رہتا کہ یہ بھی اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا رہے اور دوزخ کی طرف سے) دروازہ کھلنے سے ناقابل برداشت حرارت اور دوزخ کی آگ کی لو (اور دوزخ کی بدبو) اس کو پہنچتی رہے (تاکہ قبر کے عذاب پر یہ عذاب زیادہ ہو جائے) پھر اس کافر کی قبر ایسی تنگ کی جائے گی کہ جس کے دبوچنے سے کافر کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر اور اُدھر کی اِدھر ہو جائیں گی (کافر کے لئے بجائے خود یہ بھی ایک عذاب ہوگا) پھر کافر کیا دیکھے گا کہ اس کے پاس ایک شخص آ رہا ہے نہایت بدشکل (کہ جس کا دیکھنا ہی بجائے خود عذاب ہے) کپڑے بھی اس کے (اس کی صورت کے جیسے) بد نما رہیں گے، اور بدبو اس سے اس قدر آ رہی ہوگی (کہ جس سے دماغ پھٹا جا رہا ہو) ایسا بدشکل شخص آ کر کافر مردہ سے کہے گا طرح طرح کے عذاب کی تجھے خبر دی جاتی ہے (دنیا میں) جس دن سے تجھے ڈرایا جاتا تھا (اور جس کا تو انکار کرتا تھا) دیکھ آج یہ وہی دن ہے، کافر مردہ کہے گا (کہ میں خود عذاب میں ہوں تو اور عذاب کی خبر دینے آیا ہے) تو کون ہے؟ تیری کیا منحوس صورت ہے کہ تیری صورت دیکھنا ہی عذاب معلوم ہوتا ہے، تو وہ بدشکل آنے والا کہے گا تو مجھے نہیں پہچانا، میں تیرا برا عمل ہوں (کم بخت تو نے دنیا میں کیا کیا کفر و شرک میں رہا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا رہا، اگر کوئی کہے کہ تجھے یہ دن دیکھنا ہوگا تو تو اس کو مذاق میں اڑاتا رہا، کبھی اس کو غصہ سے جھڑکتا رہا، کافر مردہ سمجھے گا کہ میرے اعمال مجھے دکھائے گئے ہیں، برے اعمال سے دوزخ ملتی ہے) خدا کرے کہ قیامت نہ آئے (تاکہ بُرے اعمال کے بدلہ میں دوزخ میں جانا نہ پڑے) ایک روایت تو یہاں ختم ہوئی۔

Note 2

اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور اس کی روایت ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور حاکم نے اپنی مستدرک میں ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور بیہقی نے کتاب عذاب القبر میں اور طیالسی نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید نے اپنی مسند میں اور ہناد بن السری نے کتاب الزہد میں اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح طرق سے اس کی روایت کی ہے اور میرک نے کہا ہے کہ امام احمد کی حدیث حسن ہے۔ روح انسانی عالم ملکوت کی رہنے والی مثل فرشتوں کے ہے جیسے فرشتے ایک ہی وقت میں کئی جگہ دکھائی دے سکتے ہیں اور جیسے ملک الموت ہر مرنے والے کے پاس دکھائی دیتے ہیں، ایسا ہی روح انسانی بھی کئی جگہ دکھائی دے سکتی ہے، مگر جب جسم انسانی میں روح مقید ہوتی ہے تو اس سے یہ صفت نکل جاتی ہے، کئی جگہ نظر نہیں آسکتی ہے مگر اولیاء اللہ کے جسم میں جو روح ہوتی ہے اس روح میں اس کی اصلی صفت پائی جاتی ہے کہ باوجود جسم میں ہونے کے ایک وقت میں کئی جگہ نظر آ سکتی ہے، جیسے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ایک ہی وقت میں سات دعوتوں میں نظر آئے، جسم سے نکلنے کے بعد روح میں اس کی اصلی صفت لوٹ آتی ہے، کچھ اولیاء اللہ کی تخصیص نہیں بلکہ ہر مسلمان کی روح ایک وقت میں کئی جگہ رہ سکتی ہے، اسی لئے روح کا اصلی مقام علیین ہے قبر سے بھی اس کا تعلق رہتا ہے، قبر پر آنے والوں کو پہچانتی اور ان کے سلام کا جواب دیتی ہے، اس جسم خاکی کے ساتھ روح جنت میں نہیں جاسکتی، ہاں قیامت کے بعد جسم خاکی میں ہو کر روح جنت میں داخل ہوگی۔ بغیر جسم خاکی کے اب بھی روح جنت میں جاسکتی ہے، جیسے اس حدیث میں:

Hadith 2081

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2417
عبدالرحمٰن بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت کعب سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہوا ہے کہ مسلمان کی روح پرندے کے خول میں (لباس ہی) بیٹھ کر (جیسا ہم ہوائی جہاز میں بیٹھ کر سیر کرتے ہیں) جنت میں سیر کرے گی اور وہاں میوہ خوری کرے گی (علیین میں بھی رہے گی اور قبر سے بھی اس کا تعلق رہے گا (پھر جب قیامت قائم ہوگی تو یہی روح انسانی جسم خاکی میں ہو کر جسم خاکی کے ساتھ جنت میں جائے گی۔ اس کی روایت امام مالک اور نسائی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت کتاب البعث والنشور میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2073 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.