اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2412
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کسی کی موت کا وقت آ گیا ہو (اور سکرات شروع ہوگئی ہو) تو
اس کے پاس فرشتے آ جاتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ مرنے والا مسلمان ہے اور اس کی زندگی اکثر نیکیاں
کرتے ہوئے گزری ہے تو اس سے فرشتے کہتے ہیں: اے پاک روح! (توحید رسالت کے قائل
ہونے سے اور نیکیاں کرنے کی وجہ سے تیرا جسم بھی پاک تھا) اپنے پاک جسم سے باہر نکل آ، (دنیا
میں بھی تو نیک نام رہی اور فرشتوں میں بھی تیری تعریف ہو رہی ہے) تجھے خوش خبری دی جاتی ہے کہ
(تو نے دنیا میں جو پاک زندگی بسر کی ہے، اس کی وجہ سے عالم برزخ میں راحت و آرام کا سامان مہیا
ہے، جنت میں جو تجھے ملے گا، اس کو کچھ نہ پوچھو طرح طرح کی نعمتیں اور) گل و ریحان تیرے لئے
تیار ہیں (سب نعمتوں سے بڑھ کر یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی اور خوش ہیں اور تجھ سے ناراض
نہیں ہیں، (جب تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گی اور اللہ تعالیٰ کو اپنے سے راضی اور خوش دیکھے گی تو
اس نعمت کے مقابلہ میں ساری نعمتوں کو بھول جائے گی) مرنے والے کی روح کو اس طرح کی خوش
خبریاں سنائی جاتی رہتی ہیں اور روح (یہ خوش خبریاں سن سن کر بہت خوش اور فرحان) جسم کو چھوڑ باہر
نکل آتی ہے، پھر فرشتے اس نیک روح کو لے کر آسمان دنیا کی طرف چڑھتے ہیں، پھر آسمان دنیا کا
دروازہ کھلایا جاتا ہے تو آسمان کے دربان پوچھتے ہیں کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ روح لے جانے
والے فرشتے کہتے ہیں کہ فلاں نیک شخص کی روح ہمارے ساتھ ہے (دربان اس کو پہچان لیتے ہیں
اور) خوش آمدید کہتے ہیں (اور آسمان اول کا دروازہ کھول دیتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں) مرحبا مرحبا!
اے پاک روح (جب تک) تو پاک جسم میں تھی (اللہ تعالیٰ کی مطیع اور فرمانبردار رہی اسی کے صلہ میں
تیری یہ عزت ہو رہی ہے) اور یہاں فرشتوں میں تیری تعریف ہو رہی ہے، آ تجھے خوش خبری دی جاتی
ہے کہ طرح طرح کی نعمتیں اور گل و ریحان تیرے لئے تیار ہیں (اور سب نعمتوں سے بڑھ کر یہ ہے
کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی اور خوش ہیں اور تجھ سے ناراض نہیں ہیں، ہر آسمان میں اس روح کی
اسی طرح آؤ بھگت ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جہاں اللہ
تعالیٰ کے خاص تجلیات اترتے رہتے ہیں اور جب کوئی برا آدمی (جو نہ توحید کا قائل تھا اور نہ رسالت
کا، جب اس کو سکرات شروع ہو جاتی ہے تو فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں) اور اس مرنے والے
سے یہ کہتے ہیں کہ (کفر اور شرک کے عقائد کی وجہ سے) تیری روح نجس تھی اور (کفر و شرک کے
اعمال کرنے کی وجہ سے) جسم بھی نجس تھا تو اے نجس روح نجس جسم سے باہر نکل آ دیکھا تجھے (فرشتوں
میں) کیسا برا سمجھا جا رہا ہے اور تیرے لئے گرم کھولتا پانی اور پیپ و لہو قسم قسم کے عذاب تیار ہیں، اسی
طرح سے عذاب کی خبریں جسم سے نکلنے تک یہ خبیث روح کو سنائی جاتی ہیں، خبیث روح اپنے جسم
سے نکلنا تو نہیں چاہتی ہے، زبردستی فرشتے اس کو جسم سے نکال کر لے ہوئے آسمان کی طرف جاتے
ہیں اور آسمان کے دروازے پر پہنچ کر آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں، دربان پوچھتے ہیں کہ
تمہارے ساتھ کون ہے؟ کس کو تم اندر لانا چاہتے ہو تو روح لے جانے والے فرشتے اس بری روح کا
نام اور پتہ بتاتے ہیں تو دربان کہتے ہیں کہ ایسی نجس اور خبیث روح کا آسمانوں میں کیا کام ہے؟
(کفر و شرک کی وجہ سے یہ بدنام ہے، سب فرشتوں میں اس پر لعنت کی جا رہی ہے) ایسی نجس اور
خبیث روح کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا تو پھر اس کو آسمان پر سے پھینک دیا جاتا ہے اور
وہ اپنی قبر کی طرف آ جاتی ہے، (اور قبر کا عذاب بھگتتی رہتی ہے۔)
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 4262 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.