Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2060

(اس باب میں موت کی آرزو کرنے کا اور موت کو یاد کرتے رہنے کی فضیلت کا

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں موت کی آرزو کرنے کا اور موت کو یاد کرتے رہنے کی فضیلت کا

Zujajat al-Masabih 2060Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2395
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمائے صاحبو! اللہ تعالیٰ سے ایسا شرماؤ جیسے اس سے شرمانا چاہئے (صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منشاء کو سمجھ گئے کہ حضور یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کو حاصل کر کے اس کے احسانات میں رہ کر پھر اس کی نافرمانی کرنا بڑی بے حیائی اور بے شرمی کی بات ہے اس لئے) صحابہ عرض کئے حضور! اللہ کی نعمتیں اور اس کے احسانات ہم کو یاد ہیں الحمد للہ ہم اس کی فرمانبرداری کئے جا رہے ہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے اللہ تعالیٰ کی بے گنتی نعمتوں کے اور کثرت سے احسانات کے مقابلہ میں تمہاری فرمانبرداری کچھ بھی نہیں، اس لئے کہتا ہوں) اس طرح کی فرمانبرداری سے جیسا شرمانا چاہئے ویسا شرمانے کا حق ادا نہیں ہوتا، (جیسے میں کہتا ہوں اس طرح کرو تو کسی قدر شرمانے کا حق ادا ہو جائے گا، صاحبو! سوچو) تم کو اللہ تعالیٰ نے جو سر دیا ہے اس سے تم کو جو نعمتیں مل رہی ہیں ان نعمتوں کو یاد کرو اس کا شکر یہ ہے کہ غیر خدا کے آگے سر نہ جھکانا جس نے سر دیا ہے اس کے سامنے سر جھکانا چاہئے، تکبر اور غرور سے سر نہ اکڑانا اور سر میں برے خیالات اور عقائد باطلہ نہ جمع کرنا سر میں تمہارے زبان دیا ہے، آنکھیں دی ہیں اور کان دئے ہیں ان میں سے ایک ایک کیا کہوں کیسی نعمت ہے، اگر کسی میں بیماری سے نقصان آ جائے اس وقت اس نعمت کی قدر ہوتی ہے اس لئے تم ان نعمتوں کو زبان آنکھ اور کان کو خدا کی نافرمانی میں صرف نہ کرنا جس نے یہ نعمتیں دی ہیں اسی کی اطاعت میں رکھنا مثلاً کان سے غیبت، جھوٹ اور فحش باتیں نہ سننا اور آنکھ سے نامحرم کی طرف نہ دیکھنا اور زبان سے جھوٹ غیبت اور بری باتیں نہ کہنا، صاحبو! پھر سوچو) تم کو اللہ تعالیٰ نے جو پیٹ دیا ہے وہ کیسی بڑی نعمت ہے اس سے تم کو کیا کیا فائدے مل رہے ہیں، اس کا شکر یہ ہے کہ پیٹ کو حرام غذا سے بچاؤ (اور پیٹ کے متعلقات میں دل ہے اس میں علم دین اور معرفت حق جمع کرو، اور دل کو ماسوا ئے اللہ کی محبت سے دور رکھو، سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرو اور پیٹ کے متعلقات میں شرمگاہ ہے، ہاتھ پاؤں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو، ان سب کو اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضامندی کے کاموں میں لگائے رکھو، خلاصہ یہ ہے کہ جسم کو اور سارے اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری میں رکھنے سے سمجھا جائے گا کہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسا شرما رہے ہو جیسا کہ شرمانا چاہئے، جسم کو اور سارے اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں رکھنے کے دو علاج بتاتا ہوں سنو! ایک تو یہ ہے کہ) ہمیشہ موت کو یاد کرتے رہو اور (موت کے بعد قبر میں جسم کے سڑنے گلنے کو بھی سوچتے رہو (تو تمہارے دل میں رقت پیدا ہوگی، جس کے سبب سے تم جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری میں رکھو گے، اور دوسرا علاج یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کی زیب و زینت جن کے پیش نظر رہتی ہے وہ جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری میں نہیں رکھ سکتے ہیں اس لئے تم خوب سوچو کہ تم کو دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں ہے ایک دن دنیا چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے جانا ہے اس لئے) دنیا اور دنیا کی زینت کو چھوڑ دو (دنیا میں زاہدانہ زندگی بسر کرو تو تم جسم کو اور تمام اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکھ سکو گے تو) سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے جیسا شرمانا چاہئے ویسا شرما رہے ہیں۔ اس حدیث کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2458 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ“۔ (سورۃ مائدہ، پ:6، ع:8، آیت نمبر:54) (اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے محبت رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں) ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے: ”وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ“۔ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:20، آیت نمبر:165) (مسلمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں سے محبت کا تعلق ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ دوست دوست کے ساتھ مہربانیاں اور سرفرازیاں کرنا چاہتا ہے بعض موانعات کی وجہ سے سرفرازی نہیں کر سکتا ہے، جب موانعات اٹھ جاتے ہیں تو دوست کو سرفراز کرنے کا موقع ملتا ہے، ایسا ہی اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر مسلمانوں سے مہربانی کرنے کا اور ان کو سرفراز کرنے کا دنیا میں رہنے کی وجہ سے موقع نہیں مل رہا ہے گو دنیا میں بھی ان پر مہربان ہے اور ان کو سرفراز کر رہا ہے مگر آخرت میں جو مہربانیاں اور سرفرازیاں ہوں گی مسلمان کو دنیا میں رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہیں دے رہا ہے) مسلمانوں کو دنیا چھوڑ کر خاص مہربانیاں اور سرفرازیاں حاصل کرنے کے لئے آخرت میں جانا ضروری ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ موت جو مثل ایک تحفہ اور ہدیہ کے ہے اس کو بھیج کر مسلمان کو سرفراز کرنے کے لئے آخرت میں بلاتے ہیں اس لئے: