اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2384
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: (ایک روز کا ذکر ہے)
کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر تھے، حضور ہم کو وعظ نصیحت فرما
رہے تھے، حضور نے ہم کو رقت پیدا ہونے والی باتیں فرمائیں یوں حضور کا وعظ و نصیحت ہمیشہ دل
ہلانے والا ہوتا تھا، مگر اس وقت کا وعظ کیا کہوں کیسا تھا، ہمارے دلوں کی عجیب حالت تھی، ایسا معلوم
ہوتا تھا کہ آخرت کے سارے احوال اور قیامت کے ہولناک واقعات ہمارے سامنے ہیں، ہر شخص
پر ایک رقت کا عالم طاری تھا، حضرت سعد بھی ہمارے ساتھ تھے، اس حالت سے متاثر ہو کر)
حضرت سعد خوب رو رہے تھے (بے سدھ ہو کر) کہنے لگے: کاش میں (بچپن ہی میں) مر جاتا (تو
گنہگار نہ ہوتا اور عذاب آخرت سے نجات پا جاتا یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے:
اے سعد! کیا تم میرے سامنے موت کی آرزو کرتے ہو (آخرت کی تمام نعمتوں سے میری صحبت
بہترین نعمت ہے، میری صحبت میں رہنا کیا کم ہے کہ پھر تم کیوں میرے سامنے موت کی آرزو کر
رہے ہو) تین بار حضور ایسا ہی فرماتے رہے (قطع نظر میری صحبت کے تم کو تو جنت کی خوش خبری دی
گئی ہے نا، اگر جنت کی خوش خبری نہ بھی دی جاتی تو تم مسلمان تھے) اگر تمہارے مقدر میں جنت لکھی
گئی ہوتی تو تمہاری عمر کا دراز ہونا اور نیکیاں کر کے جنت کے مراتب حاصل کرنا (بچپن میں مر جانے
سے) بہت بہتر تھا۔ (پھر اب تم بچپن میں مرنے کی آرزو کر رہے ہو، یہ تمہاری شان کے لائق نہیں
ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1608 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 1608
Confidence and text similarity are not editorial verification.