اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2408
امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ابوسلمہ کے انتقال کے بعد ابوسلمہ کے گھر تشریف لائے اور ملاحظہ فرمائے کہ ابوسلمہ کی
آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو آپ نے ان کی آنکھیں بند کیں اور فرمائے (جب روح نکالنے کے لئے
فرشتے آتے ہیں تو مرنے والا یہ سماں دیکھتا رہتا ہے اور) روح نکل جانے سے بینائی بھی اس کے
ساتھ چل جاتی ہے (اور اس میں آنکھ بند کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی، اس لئے آنکھ کھلے کے کھلے
رہ جاتے ہیں، اس لئے حضور ابوسلمہ کی آنکھیں بند کر دئے، اس سے معلوم ہوا کہ مردے کی آنکھیں
بند کر دیا کریں) حضور کے یہ الفاظ سن کر گھر والے سمجھے کہ ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا ہے، اس لئے رونا اور
چیخنا شروع کئے (جب غم زیادہ ہوتا ہے تو اپنے کو کوسنے لگتے ہیں اور ابوسلمہ کے گھر میں بھی یہی ہو رہا
تھا اس لئے) حضور فرمائے (چیخنا، چلّانا بے صبری کی علامت ہے ایسا نہ کرنا چاہئے اور اپنے کو کوس لینا
بھی نہیں چاہئے اس لئے کہ تم) اس وقت فرشتے موجود رہتے ہیں اور جو کچھ تم کہتے ہیں اسی پر آمین
کہتے رہتے ہیں (جب تم اپنے کو کوسنے لگو گے تو فرشتوں کے آمین کہنے سے وہ بد دعا تمہارے حق میں
بھی قبول ہو جائے گی اس لئے کوسنے سے بچو۔) پھر اس کے بعد حضور ابوسلمہ کے لئے اس طرح دعا
الٰہی! ابوسلمہ کی مغفرت فرمائیے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سب سے زیادہ ان کا درجہ
بڑھائیے، الٰہی! باقی ماندہ لوگوں کو سنبھالنے والا چلا گیا، آپ ابوسلمہ کے خلیفہ ہو کر سب کو سنبھالئے
اور، ہماری بھی مغفرت فرما، اور ان کی بھی مغفرت فرمائیے، اے تمام عالم کے پروردگار! اور ان کی قبر کو
کشادہ کر دے اور ان کی قبر میں نور بھر دے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 920a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.