اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2414
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کسی مسلمان کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے (اور سکرات
شروع ہوجاتی ہے تو اس وقت مسلمان کی جو عزت ہوتی ہے وہ سننے کے قابل ہے، جسم تو دنیوی کفن
میں لپٹا ہوا قبر میں رہتا ہے اور روح کے لئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس طرح کہ) رحمت کے
فرشتے سفید ریشمی لباس لئے ہوئے آ کر مرنے والے کے پاس بیٹھتے ہیں اور بڑے ادب سے کہتے
ہیں: (اے پاک روح! دنیا میں چند روز اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتی رہی، آج اس کا تجھے
صلہ مل رہا ہے) اللہ سے تو راضی اور تجھ سے اللہ راضی! تیرے لئے رحمت کے سامان مہیا ہیں، طرح
طرح کی نعمتیں اور گل و ریحان تیار ہیں، دنیا کے مصیبت کدہ کو چھوڑ کر ان نعمتوں کی طرف چلی آ
(دیکھ تیرے لئے کیا کیا آؤ بھگت کے جارہے ہیں اور سب سے بڑی نعمت تو تیرے لئے یہ ہے کہ)
اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی اور خوش ہیں، ناراض نہیں ہیں (یہ خوش خبری سن کر) جب روح جسم سے نکلتی
ہے تو مشک کی طرح عجیب خوشبو اس کی روح سے نکل کر پھیلتی ہے، فرشتے (بڑی تعظیم کے ساتھ)
ہاتھوں ہاتھ مسلمان کی روح کو لئے ہوئے یکے بعد دیگرے آسمانوں کے دروازوں تک پہنچتے ہیں
(آسمانوں پر اس کی جو عزت ہوتی ہے وہ بھی قابل دید ہے۔) ہر آسمان کے فرشتے (اس کی روح کی
خوشبو کو دیکھ کر بڑے تعجب سے) کہتے ہیں ماشاء اللہ کیا خوشبودار روح ہے! جو، زمین کی طرف سے
آئی ہے، پھر (اللہ تعالیٰ کے حکم سے علیّین میں، جہاں مسلمانوں کی روحیں جمع ہیں اس نئی آئی ہوئی
روح کو لے جاتے ہیں جیسے تم لوگوں سے ایک زمانہ کا بچھڑا ہوا شخص واپس آ کر ملتا ہے تو تم اس کی
ملاقات سے کس قدر خوش اور شاداں ہوتے ہو، ویسے ہی (علیین میں جہاں مسلمان روحیں تھیں) یہ
نئی روح آ کر ملنے سے وہ سب ایسے ہی بے حد خوش ہوتے ہیں اور اس آئی ہوئی روح کو پہلے کی
روحیں گھیر لیتی ہیں، اور دنیا میں جن جن کو وہ چھوڑ کر گئے ہیں، ان سب کے احوال پوچھتے ہیں، ان ہی
میں کی بعض روحیں کہتی ہیں (اچھی نئی روح دنیا چھوڑ کر) سکرات کی تکلیف اٹھا کر ابھی آئی ہے، اس
کو آرام لینے دو، پہلے کی روحیں پھر اس نئی آئی ہوئی روح سے پوچھتی ہیں، اچھا یہ تو بتاؤ کہ فلاں شخص
کو ہم چھوڑ آئے تھے وہ کیسا ہے، یہ روح کہتی ہے وہ تو میرے سے پہلے ہی مر گیا ہے کیا وہ نہیں آیا
تو وہ روحیں کہتی ہیں افسوس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (بری روحوں کو رکھنے کا جو مقام ہے جیسے دوزخ کو
ہاویہ کہتے ہیں ایسے ہی برزخ میں بری روحوں کے رکھنے کی جگہ کو بھی ہاویہ کہتے ہیں) برزخ کے اس
ہاویہ میں اس کو پہونچا دیا گیا ہے، اس لئے وہ ہمارے پاس نہیں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کافر کی موت آ جاتی ہے (اور سکرات شروع ہوتی ہے تو اس کی
اہانت اور ذلت کا سامان اس طرح مہیا کیا جاتا ہے کہ) عذاب کے فرشتے ٹاٹ لئے ہوئے پہونچتے
ہیں تا کہ اس کی روح کو ٹاٹ میں لپیٹ کر لے جائیں، پھر فرشتے کافر کی روح سے اس طرح کہتے
ہیں (تو نے دنیا میں کفر و شرک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر رکھا تھا تو تیرے لئے عالم برزخ میں
عذاب مہیا کیا گیا ہے اور تجھے عذاب کی طرف آنا ناگوار ہوگا) کچھ بھی ہو تجھے عذاب کی طرف آنا
ہی پڑے گا، آ دیکھ اللہ تعالیٰ تجھ پر کس قدر غضب ناک ہیں (یہ سن کر) کافر کی روح چار و ناچار جسم
سے نکلتی ہے اور اس وقت کافر کی روح میں مردار کی بدبو سے زیادہ بدبو ہوتی ہے (پھر اس روح کو
فرشتے آسمان دنیا کے دروازہ تک لے جاتے ہیں، اس کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھلتا ہے اس
لئے) زمین پر واپس لاتے ہیں (اس کی بدبو سے) فرشتے (تنگ آ کر) کہتے ہیں (اس بدنصیب
روح میں نعوذ باللہ) کس قدر بدبو ہے، پھر اس کو سجّین کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں کافروں کی
ارواح جمع ہیں (اور سجّین میں اس کو رکھتے ہیں جہاں وہ برزخ کے عذاب میں مبتلا رہتی ہے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1833 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.