اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2522
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب حضور علیہ
الصلاۃ والسلام کی وفات ہوئی تو لوگوں نے آپس میں کہا کہ مدینہ میں دو شخص قبر کھودتے ہیں ایک
صاحب بغلی قبر کھودتے ہیں اور دوسرے صاحب صندوقی (دونوں کو بلاؤ) ان میں سے جو پہلے
آجائے وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر شریف (اپنے طریقہ کے موافق) تیار
کرے، الغرض دونوں کو اطلاع کی گئی، اتفاق سے بغلی قبر تیار کرنے والے صاحب پہلے آ گئے اور
آپ کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔ اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔