Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2151

(اس باب میں مردوں کے دفن کرنے کا بیان ہے)

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں مردوں کے دفن کرنے کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 2151Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2523Noor 2524Noor 2525
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (ہمارے مدینہ کی زمین بہت سخت ہے بغلی قبر کے قابل ہے، اس لئے) ہم مدینہ والوں (جیسا کہ اشعۃ اللمعات اور عرف شذی میں مذکور ہے۔12) کے لئے (اور جہاں کہیں کی زمین سخت ہو، ان کے لئے) بغلی قبر ہی مناسب ہے اور ہمارے مدینہ کے سوا (جہاں کی زمین نرم ہے جیسے مکہ کی یا اور جگہ کی ان کے لئے) صندوقی قبر ہی مناسب ہے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور امام احمد نے جریر بن عبداللہ سے اس کی روایت کی ہے۔ اور ترمذی نے کہا ہے کہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس قبر میں میت کے نیچے (چادر یا) کوئی (اور) چیز بچھانے کو مکروہ سمجھتے تھے (اس لئے در مختار میں لکھا ہے کہ مردہ زمین پر
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1045 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3208 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1554 (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2009 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He disliked, etc.

(1) The statement: "He disliked, etc." This dislike is of a prohibitive nature. Therefore, it is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is not permissible to place a mat under the deceased in the grave." What is narrated that a piece of velvet was placed in his grave is an established report, and it is said that this was specific to him (ﷺ), so it is not appropriate for others. This is extracted from Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كره إلخ : فالكراهة تحريمية، لذا قال في الدر المختار»: ولا يجوز أن يوضع فيه مضربة انتهى. وما روي أنه جعل في قبره قطيفة، فخبر ثابت عنه، وقيل: إن ذلك من خواصه ، فلا يحسن في غيره. ملتقط من «المرقاة» ورد المحتار».

Note 1

رہنا چاہئے، قبر میں مردہ کے نیچے چادر وغیرہ بچھانا مکروہ تحریمی ہے، اب رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے مشہور ہے کہ قبر شریف میں چادر بچھائی گئی تھی، یہ حضور کا خاصہ ہے، حضور چونکہ حیات النبی ہیں، حضور کے نیچے قبر شریف میں چادر بچھائے جانے سے دوسروں کی قبر میں چادر بچھانے پر دلیل نہیں لی جا سکتی۔)