اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2733
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک
شخص جنگل میں کھڑا تھا اس نے ابر میں سے ایک آواز سنی کہ (کوئی کہہ رہا تھا) فلاں شخص کے باغ کو
سیراب کر تو وہ ابر ایک جانب کو بڑھا اور اک پتھریلی زمین پر پانی برسایا، وہ پانی چھوٹی چھوٹی نالیوں
سے ایک بڑے نالے میں جمع ہو کر آگے بڑھا وہ شخص (جو اس منظر کو دیکھ رہا تھا یہ معلوم کرنے کے
لئے کہ پانی کہاں جاتا ہے) پانی کے ساتھ ساتھ چلا، ناگہاں اس نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے باغ
میں کھڑا ہوا اپنے بیلچے سے پانی کو ادھر اُدھر پھیلا رہا تھا۔ اس شخص نے (باغ والے سے) پوچھا کہ
اے بندۂ خدا آپ کا نام کیا ہے؟ تو اس شخص نے (جواب میں) وہی نام بتلایا جو اس نے ابر میں سے
سنا تھا (تو باغ والے نے) اس شخص سے پوچھا کہ تم نے میرا نام کیوں دریافت کیا ہے؟ تو اس شخص
نے جواب دیا کہ میں نے اس ابر میں سے جس کا یہ پانی ہے یہ آواز سنی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو
سیراب کر (یعنی) تیرا نام لیا۔ پس بتا کہ تو اپنے باغ میں (ایسا) کونسا نیکی کا کام کرتا ہے (کہ جس کی
وجہ سے مجھ پر یہ مہربانی ہوئی) باغ والے نے جواب دیا (میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنے اس راز کو فاش
کروں) لیکن اب جبکہ تم پوچھ ہی رہے ہو تو (تم کو بتاتا ہوں) کہ میرے باغ میں جو کچھ پیداوار
ہوتی ہے اس کا ایک تہائی تو میں خیرات کر دیتا ہوں اور ایک تہائی اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ
کرتا ہوں اور ایک تہائی کو (کاشت کے لئے باغ میں) لگا دیتا ہوں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2984a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تحفۃ الاخیار میں لکھا ہے مستحب یہ ہے کہ منافع میں ایک تہائی مال خدا کی راہ میں خرچ کریں اور حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بحکم الٰہی پانی برساتے ہیں اور یہ حکم نام و نشان کے ساتھ ہوتا ہے کہ فلاں ملک، فلاں شخص کے کھیت میں پانی برساؤ اور اسی طرح دنیا کے سب کام فرشتے حسب الحکم کرتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ جو نعمت ان کو ملے خواہ وہ مال کی ہو یا جان کی، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اس کو اتفاقی نہ سمجھے۔