العربية
Typed, pending editorial approval
٢٣٢٩ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةً فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشَّرَاجِ قَدْ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ، مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ لِلِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ، لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةً فُلَانٍ لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذْ قُلْتَ: هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُنَا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2984a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تحفۃ الاخیار میں لکھا ہے مستحب یہ ہے کہ منافع میں ایک تہائی مال خدا کی راہ میں خرچ کریں اور حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بحکم الٰہی پانی برساتے ہیں اور یہ حکم نام و نشان کے ساتھ ہوتا ہے کہ فلاں ملک، فلاں شخص کے کھیت میں پانی برساؤ اور اسی طرح دنیا کے سب کام فرشتے حسب الحکم کرتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ جو نعمت ان کو ملے خواہ وہ مال کی ہو یا جان کی، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اس کو اتفاقی نہ سمجھے۔