اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2745
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت ہے وہ کہتے
ہیں کہ (ایک دفعہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (پکے ہوئے) گوشت کا ایک ٹکڑا تحفۃً بھیجا
گیا تھا، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت پسند تھا اس لئے ام المؤمنین نے خادمہ سے کہا
کہ اس کو گھر میں رکھ دو، ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو تناول فرمائیں تو خادمہ نے
اس گوشت کو گھر کے ایک طاقچے میں رکھ دیا (اس کے بعد) ایک سائل آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر
سوال کیا: (گھر والو! کچھ) خیرات کرو، اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے، گھر والوں نے سائل کو جواب دیا
کہ خدا تجھے بھی برکت دے تو (یہ سن کر) سائل چلا گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں
تشریف لائے اور فرمایا: ام سلمہ! تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کو ہے؟ ام المؤمنین نے عرض کیا کہ
جی ہاں (ہے) تو خادمہ سے کہا کہ جاؤ اور وہ گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لاؤ۔
خادمہ وہاں گئیں (تو دیکھا) کہ (گوشت کی بجائے گارے کے پتھر کا ایک ٹکڑا وہاں رکھا ہے (حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ واقعہ کا علم ہوا) تو حضورؐ ارشاد فرمائے کہ وہی گوشت، گارے کا پتھر بن گیا
ہے، اس لئے کہ تم نے اسے سائل کو نہیں دیا۔
اس کی روایت بیہقی نے دلائل النبوۃ میں کی ہے۔