Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2341

Chapter on Spending and the Dislike of Hoarding

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on Spending and the Dislike of Hoarding

Zujajat al-Masabih 2341Volume 1

English

A freed slave of Uthman (may Allah be pleased with him) narrated: “A piece of meat was gifted to Umm Salamah (may Allah be pleased with her), and the Prophet (ﷺ) liked meat. She said to the servant: ‘Put it in the house, perhaps the Prophet (ﷺ) will eat it.’ The servant placed it in a corner of the house. A beggar came and stood at the door, saying: ‘Give charity, may Allah bless you.’ They said: ‘May Allah bless you.’ The beggar left. The Prophet (ﷺ) entered and said: ‘O Umm Salamah, do you have anything to eat?’ She said: ‘Yes.’ She told the servant: ‘Bring that meat to the Messenger of Allah (ﷺ).’ The servant went but found only a piece of rock in the corner. The Prophet (ﷺ) said: ‘That meat turned into rock because you did not give it to the beggar.’”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٤١ - وَعَنْ مَوْلًى لِعُثْمَانَ قَالَ: أُهْدِي لِأُمِّ سَلَمَةَ بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُعْجِبُهُ اللَّحْمُ، فَقَالَتْ لِلْخَادِمِ : ضَعِيْهِ فِي الْبَيْتِ، لَعَلَّ النَّبِيَّ ﷺ يَأْكُلُهُ فَوَضَعَتْهُ فِي كُوْةٍ الْبَيْتِ، وَجَاءَ سَائِلٌ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: تَصَدَّقُوْا، بَارَكَ اللَّهُ فِيْكُمْ. فَقَالُوْا : بَارَكَ اللهُ فِيْكَ. فَذَهَبَ السَّائِلُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَطْعَمَهُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ لِلْخَادِمِ : اذْهَبِيْ فَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِذَلِكَ اللَّحْمِ، فَذَهَبَتْ فَلَمْ تَجِدُ فِي الْكُوةِ إِلَّا قِطْعَةَ مِرْوَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : «فَإِنَّ ذَلِكَ اللَّحْمَ عَادَ مِرْوَةً لِمَا لَمْ تُعْطُوهُ السَّائِلَ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2745
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (پکے ہوئے) گوشت کا ایک ٹکڑا تحفۃً بھیجا گیا تھا، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت پسند تھا اس لئے ام المؤمنین نے خادمہ سے کہا کہ اس کو گھر میں رکھ دو، ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو تناول فرمائیں تو خادمہ نے اس گوشت کو گھر کے ایک طاقچے میں رکھ دیا (اس کے بعد) ایک سائل آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر سوال کیا: (گھر والو! کچھ) خیرات کرو، اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے، گھر والوں نے سائل کو جواب دیا کہ خدا تجھے بھی برکت دے تو (یہ سن کر) سائل چلا گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور فرمایا: ام سلمہ! تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کو ہے؟ ام المؤمنین نے عرض کیا کہ جی ہاں (ہے) تو خادمہ سے کہا کہ جاؤ اور وہ گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لاؤ۔ خادمہ وہاں گئیں (تو دیکھا) کہ (گوشت کی بجائے گارے کے پتھر کا ایک ٹکڑا وہاں رکھا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ واقعہ کا علم ہوا) تو حضورؐ ارشاد فرمائے کہ وہی گوشت، گارے کا پتھر بن گیا ہے، اس لئے کہ تم نے اسے سائل کو نہیں دیا۔ اس کی روایت بیہقی نے دلائل النبوۃ میں کی ہے۔