Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2340

Chapter on Spending and the Dislike of Hoarding

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on Spending and the Dislike of Hoarding

Zujajat al-Masabih 2340Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Prophet (ﷺ) say: “There were three men from the Children of Israel: a leper, a bald man, and a blind man. Allah wanted to test them, so He sent an angel to them. The angel came to the leper and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘A good complexion and good skin, and to be rid of what makes people avoid me.’ The angel touched him, and his ailment was cured, and he was given a good complexion and skin. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Camels,’ or he said: ‘Cattle’—Ishaq was unsure, but one of them said ‘Camels,’ and the other said ‘Cattle.’ He was given a pregnant she-camel. The angel said: ‘May Allah bless you in it.’ The angel then came to the bald man and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘Good hair and to be rid of what makes people avoid me.’ The angel touched him, and he was cured. He was given good hair. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Cattle.’ He was given a pregnant cow. The angel said: ‘May Allah bless you in it.’ The angel then came to the blind man and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘That Allah restores my sight so I can see people.’ The angel touched him, and Allah restored his sight. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Sheep.’ He was given a pregnant ewe. The sheep and cattle multiplied until one man had a valley of camels, another had a valley of cattle, and another had a valley of sheep. Then the angel came to the leper in his previous form and condition and said: ‘I am a poor man, and my journey has exhausted me. I have no means of reaching my destination except with the help of Allah and then you. I ask you by the One who gave you good complexion, good skin, and wealth to give me a camel to help me on my journey.’ The man said: ‘I have many obligations.’ The angel said: ‘I think I recognize you. Weren’t you a leper whom people avoided and a poor man? Allah gave you wealth.’ The man said: ‘I inherited this wealth from my ancestors.’ The angel said: ‘If you are lying, may Allah return you to your previous state.’ The angel then came to the bald man in his previous form and condition and said the same to him, and the man replied similarly. The angel said: ‘If you are lying, may Allah return you to your previous state.’ The angel then came to the blind man in his previous form and condition and said: ‘I am a poor man, and my journey has exhausted me. I have no means of reaching my destination except with the help of Allah and then you. I ask you by the One who restored your sight to give me a sheep to help me on my journey.’ The man said: ‘I was blind, and Allah restored my sight. Take what you want and leave what you want. By Allah, I will not burden you today with anything you take for the sake of Allah.’ The angel said: ‘Keep your wealth. You have been tested, and Allah is pleased with you but angry with your two companions.’”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٤٠ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ ثَلَاثَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى، فَأَرَادَ اللهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا. فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: لَوْنُ حَسَنٌ، وَجِلُّدٌ حَسَنُ، وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ. قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ، وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا. قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْإِبِلُ، أَوْ قَالَ: الْبَقَرُ - شَكَ إِسْحَاقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُهُمَا: الْإِبِلُ، وَقَالَ الْآخَرُ : الْبَقَرُ - قَالَ: فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا. قَالَ: فَأَتَى الْأَقْرَعَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: شَعَرُ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ. قَالَ: وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا. قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْبَقَرُ. فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلا ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا. قَالَ: فَأَتَى الْأَعْمَى، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: أَنْ يَرُدَّ اللهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ قَالَ: فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ. قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْغَنَمُ. فَأُعْطِيَ شَاةٌ وَالِدًا، فَأُنْتِجَ هَذَانِ، وَوَلَدَ هَذَا قَالَ: فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ. قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ، قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْجِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ، بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِيْ. فَقَالَ: الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ. فَقَالَ لَهُ: كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا، فَأَعْطَاكَ اللَّهُ مَالًا ۚ فَقَالَ: إِنَّمَا وَرِئْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ. فَقَالَ لَهُ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ. قَالَ: وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا. فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللهُ إِلَى مَا كُنْتَ. قَالَ: وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينُ قَدِ انْقَطَعَتْ بِي الْجِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ، شَاةً أَتَبَلَّغْ بِهَا فِي سَفَرِيْ. فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ. فَوَاللَّهِ، لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ. فَقَالَ: أَمْسِكْ مَالَكَ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ، فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2744
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے (ایک) کوڑھی (دوسرا) گنجا (تیسرا) اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کا ارادہ فرمایا (کہ وہ نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں) چنانچہ ان کے پاس ایک فرشتہ کو (ایک مسکین آدمی کی صورت میں) روانہ کیا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تجھ کو کونسی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: خوش رنگ اور خوب صورت جلد اور یہ بات (بھی پسند ہے) کہ میرا یہ مرض دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کا کوڑھ جاتا رہا اور اس کو اچھا رنگ اور خوب صورت جلد دیدی گئی۔ فرشتے نے (پھر) اس سے پوچھا کہ تجھ کو کونسا مال زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا اونٹ یا گائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کو گابھن اونٹیاں دیدی گئیں اور فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو اس مال میں برکت دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کے بعد وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے دریافت کیا کہ تجھ کو کونسی چیز زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا خوب صورت بال اور یہ بات کہ یہ گنجاپن دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ فرشتے نے اس (کے سر) پر ہاتھ پھیرا اور اس کا گنجاپن جاتا رہا اور اس کو خوب صورت بال دیدیئے گئے۔ (پھر) فرشتے نے اس سے پوچھا: کونسا مال تجھے زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: گائے، اس کو حاملہ گائیں عطا کی گئیں۔ فرشتے نے (اس سے کہا) اللہ تعالیٰ تم کو اس میں برکت عطا فرمائے! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ فرشتہ (پھر) نابینا کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ تم کو کونسی چیز زیادہ پسند ہے تو اس (نابینا) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ میری بینائی مجھے دوبارہ عطا فرمائیں تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ حضور فرمائے کہ فرشتے نے اس (کی آنکھوں) پر ہاتھ پھیرا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اس کو واپس دیدی۔ پھر فرشتے نے پوچھا کہ تم کو کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بکریاں تو اس کو بچے دینے والی بکریاں دیدی گئیں۔ چنانچہ ان دونوں یعنی اونٹ والے کی اونٹنیوں نے اور گائے والی کی گائیوں نے بچے دیئے۔ اور اس بکری والے کی بکریوں نے بھی بچے دیئے، تو (اونٹ والے کی) اونٹنیوں سے ایک وادی اور گائے والے کی گائیوں سے ایک وادی اور بکری والے کی بکریوں سے ایک وادی بھرگئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ پھر وہی فرشتہ اپنی اسی (پہلی) صورت اور ہیئت میں کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ میں ایک مسکین اور نادار شخص ہوں، میرے ذرائع سفر ختم ہوگئے ہیں، اب اللہ کی مدد کے بغیر منزل مقصود تک پہنچنا ممکن نہیں (اور اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھے اچھا رنگ اور اچھی جلد اور مال دیا ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں کہ جس کے ذریعہ سے میں اپنا سفر طے کر سکوں، اس (کوڑھی) نے جواب دیا کہ مجھ پر بہت حقوق ہیں (ان کی موجودگی میں تجھے کوئی حق نہیں پہونچتا یہ سن کر) پھر فرشتہ نے کہا میرا خیال ہے کہ تو وہی کوڑھی تو نہیں جس سے لوگ نفرت کرتے تھے اور تو نادار تھا۔ پس اللہ نے تجھے مال دیا۔ کوڑھی نے (اس کے جواب میں) کہا: یہ مال مجھے اپنے بڑوں سے نسلاً بعد نسلٍ ملا ہے (یہ سن کر) فرشتہ نے کہا: اگر تو (اپنے قول میں) جھوٹا ہے تو اللہ تجھے اپنی پہلی حالت میں پلٹا دے، (یعنی تجھے کوڑھی اور نادار کردے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ فرشتہ اپنی اسی (پہلی) شکل میں گنجہ کے پاس پہونچا اور اس سے بھی ایسا ہی سوال و جواب ہوا جیسا کہ کوڑھی سے ہوا تھا، اور اس نے بھی ویسا ہی جواب دیا جیسا کوڑھی نے جواب دیا تھا (یہ سن کر) فرشتہ نے اس سے کہا: اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے پھر ویسا ہی (گنجا اور نادار) کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ فرشتہ (اب) نابینا کے پاس اپنی اسی (پہلی) شکل اور حالت میں پہونچا اور اس سے کہا: میں ایک مسکین آدمی اور مسافر ہوں میرا سامان سفر جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہیں (یا اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھے دوبارہ بینائی بخشی ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعہ سے میں اپنا سفر طے کرسکوں۔ نابینا نے یہ سن کر کہا: بے شک میں نابینا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے بینائی بخشی تو جس قدر چاہے مال لے جا اور جس قدر تیرا جی چاہے چھوڑ جا۔ اللہ کے لئے جس قدر مال آج تم لوگے میں تمہیں (اس کی واپسی کی) تکلیف نہیں دوں گا (یہ سن کر) فرشتہ نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو تم (تین لوگوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ) آزمائش کی گئی تھی کہ تم سچے ہو یا جھوٹے، مخلص ہو، یا منافق اور شکر گزار ہو یا ناشکرے) پس اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوا اور تمہارے دونوں ساتھیوں (کوڑھی اور گنجا) سے ناراض ہوا (کہ ان کو اپنی اصلی حالت پر ⟦?⟧ لوٹا دیا گیا)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3464 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2964 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.