Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2359

Chapter on The Virtue of Charity

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Chapter on The Virtue of Charity

Zujajat al-Masabih 2359Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2764
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون آج جنازہ کے ساتھ گیا؟ (یعنی جنازہ کی نماز پڑھی اور جنازہ کے پیچھے چلا (اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا: تم میں سے آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ ﷺ) (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) دریافت فرمایا کہ تم میں سے آج کس نے بیمار کی عیادت کی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے (یارسول اللہ ﷺ) (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جس کسی شخص میں یہ (چار چیزیں ایک دن میں) جمع ہو جائیں وہ یقیناً جنت میں جائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1028a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(2): اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دریافت فرمانے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ”اَنَا“ (میں) کہا ہے، اس بارے میں صاحب مرقات اور صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے ”اَنَا“ (میں) کہنا دو حیثیتوں سے ہوتا ہے، ایک مذموم (یعنی برا) دوسرے محمود (یعنی اچھا) ”اَنَا“ کہنے کی مذموم حیثیت یہ ہے کہ بطور فخر ”اَنَا“ کہا جائے جیسے ابلیس کا قول ”اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ“، یا ”اَنَا الْعَالِمُ“ ”اَنَا الزَّاهِدُ“، وغیرہ۔ اور ”اَنَا“ کہنے کی محمود حیثیت یہ ہے کہ طلب ثواب کے موقع پر یا بطور (انکساری) ”اَنَا“ کہا جائے، جیسے: ”اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ“، ”اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ“ یا ”اَنَا الْحَقِيرُ“، ”اَنَا الْعَبْدُ“، وغیرہ۔12